اے
سی کاتبادلہ!
میں تلہ گنگ
میں بطور کلرک
لوکل گورنمنٹ
کے دفتر میںتعینات
تھا۔ ہمارااسسٹنٹ
کمشنر کسی
وجہ سے میرا
سخت مخالف
ہو گیا ۔اور
مجھے نقصان
پہنچانے کے
در پے ہوگیا۔میں
سرکار کی خدمت
میں حاضر ہوا
۔پیر صاحب
نے مجھے۔۔''حزب
البحر''پڑھنے
کا حکم دیا
۔میں نے اسی
روز عشاء کے
بعد حزب البحر
پڑھی ۔صبح
جب ڈیوٹی پر
گیا ۔تو پتہ
چلا کہ اے سی
کو معطل کر
دیا گیا ہے
اور آج ہی انہیں
دفتر کا چارج
چھوڑنے کا
حکم دیا گیا
ہے۔بقول عارف
کھڑی شریف،پیر
مریداں دے
سر تے رہندے
بھانویں جھوٹے
ہون یا سچے۔
دوسرا واقعہ
یوں پیش آیا
کہ میں ضلع
کونسل چکوال
میں بطور ہیڈ
کلرک کام کرتا
تھا ۔میجر
سلیم اصغر
ریٹائرڈ اس
وقت ضلع کونسل
کا چیئرمین
تھا ۔صبح ضلع
کونسل کے ممبران
کی میٹنگ تھی
۔اور چیرمین
نے مجھے ہلکی
پھلکی ریفریشمنٹ
کا بندوبست
کرنے کو کہا۔میں
نے چائے او
ر بسکٹ وغیرہ
کا انتظام
کیا اور وقفے
کے وقت متعلقہ
عملے کے ہاتھوں
پیش کر دیا
۔جب سب چائے
پی رہے تھے
تو چیئرمین
نے مجھے اپنے
پاس بلایا
اور سب کے سامنے
برابھلا کہنے
لگا کہ تم بسکٹ
وغیرہ کیوں
لائے ہو مٹھائی
لانی تھی ۔اس
نے سب کے سامنے
میری بڑی بے
عزتی کی اور
خوب باتیں
سنائیں ۔مجھے
سب کے سامنے
اسکی اس حرکت
پر بڑی شرمندگی
ہوئی اور سخت
افسوس ہوا
کہ اس نے یہ
سب میرے ساتھ
کیوں کیا ۔میں
بڑا ہی بوجھل
ہوکر چھٹی
کے بعد سیدھا
پیر صاحب کی
خدمت میں حاضر
ہوا اور سارا
واقعہ سنایا۔
پرویز کلرک
جو کہ مریدکے
کا رہنے والا
تھا میرے ساتھ
موجود تھاسرکار
نے ساری بات
سنی اور سخت
غصے ہوئے اور
تسلی دیتے
ہوئے فرمایا
کہ سب ٹھیک
ہو جائے گا
آپ فکرنہ کریں۔اگلے
دن اس میٹنگ
کی کاروائی
لے کر راولپنڈی
جانا تھا راولپنڈی
جاتے وقت جاتلی
کے مقام پر
چیئرمین کی
گاڑی کو حادثہ
پیش آیا خود
بھی شدید زخمی
ہوا اور گاڑی
بھی تباہ ہو
گئی چلانے
کے قابل نہ
رہی ۔
امداد صاحب
بیان کرتے
ہیںکہ سرکار
کی حیات ظاہری
کے آخری چند
ایام تھے کہ
دفترسے چھٹی
کرکے پیر صاحب
کی ملاقات
کے لیئے حاضر
ہوا ۔پرویز
کلرک بھی میرے
ساتھ تھا۔راستے
میں پرویز
نے مجھ سے کہا
کہ سرکار سے
اپنے لیے کوئی
مقام مانگو
میں نے کہا
کہ یہ بڑی گستاخی
ہوگی خود عطا
فرمائیں تو
اور بات ہے
انہیں باتوں
میں ہم دربار
شریف پہنچ
گئے اور سرکار
کی قدم بوسی
کی ۔پیر صاحب
نے مجھے اپنے
قریب کیا اورفرمایا
میں آپ کو سلسلہ
قادریہ کی
خصوصی اجازت
دیتاہوں باقی
طریقوںمیں
بھی آپ کو خصوصی
اجازت ہے اور
قلندر یہ طریقہ
کی اجازت بعد
میں دوں گا۔سرکار
کی اس عطا پر
میں اندر ہی
اندر میں بڑا
خوش تھامیری
خوشی کی انتہا
نہ رہی۔ ایک
خاص سرورتھا
جو کئی دن تک
برقرار رہا۔
پھر تھوڑے
ہی دنوں میں
سرکار دنیا
سے پردہ فرما
گئے ۔
اس واقعہ سے
یہ اندازہ
لگانا مشکل
نہیں کہ واقعی
سرکار اپنے
مریدوں کے
سروں پر ہر
وقت سایہ فگن
رہتے ہیں ۔
مرید کی ہربات
کو جانتے اورسمجھتے
ہیں اگر مناسب
سمجھیں تو
موقع پر ہی
اظہار فرما
دیتے ہیںاور
اگر کوئی حکمت
ہوتی تو اسے
مؤخر فرمادیتے
ہیںصوفی صاحب
بتاتے ہیں
کہ سرکار نے
مجھے فرمایا
کہ صوفی جب
بھی میری قبر
کی زیارت کو
آؤ گے مجھے
زندہ پاؤ گے
اور یہ حقیقت
ہے کہ آج بھی
سرکار کی قبر
انور کی زیارت
کرتے وقت یہ
محسوس ہوتا
ہے کہ جناب
سامنے تشریف
فرماہیں۔وہی
فیض پاک جوکہ
پیر صاحب سے
جاری تھا آج
بھی پیر قلندر
سید محمودالحسن
شاہ صاحب سے
پوری آب وتاب
کے ساتھ جاری
ہے ۔جیسا کہ
پیر قلندرسید
محمود الحسن
شاہ صاحب فرماتے
ہیں کہ جب کوئی
اﷲ کا ولی اس
حالت میں پردہ
فرماتا ہے
کہ وہ اپنی
زندگی میں
اپنا جانشین
یا خلیفہ مقررنہیں
فرماتا تو
بعد میں اس
کے مرید جس
کو اپنا بزرگ
یار ہبر تسلیم
کرلیں اُس
آدمی سے ہی
اس فقیر کا
فیض جاری ہوتا
ہے ۔جو اوصاف
اس اﷲ کے ولی
میں موجود
تھے اس کی رحلت
کے بعد از خود
اس جانشین
میں منتقل
ہو جاتے ہیں
۔سرکار کے
صاحب زادے
جناب پیرقلندرسید
محمود الحسن
شاہ خاکی آپ
کے فیض سے امین
ہیں۔وہی جذبہ
وہی ولولہ
جو سرکار کی
حیات میں تھا
آج بھی موجود
ہے بلکہ کہیں
بڑھ کہ ہے اﷲتعالیٰ
سے دعا ہے کہ
وہ ذات پاک
ان کا سایہ
مبارک حشر
تک ہمارے سروں
پر قائم و دائم
۔آمین ثم آمین!
٭٭٭٭٭٭٭
غلام آفتاب
جاویدقادری
صاحب
برصغیر میں
اسلام کی شمع
کو اولیآء
کرام نے ہی
جلا بخشی ۔
ان اولیآء
نے ہر دور میں
لاکھوں تاریک
دلوں کو نور
ایمان سے منور
فرمایا۔انہیں
نیک برگزیدہ
ہستیوں میں
ہمارے پیرو
مرشد جناب
خاکی شاہ صاحب
بھی ہیںجنکی
روحانی ڈیوٹی
مخدوم پور
شریف میں تھی۔طویل
ہجرت اور مشکلات
کے بعد جناب
یہاں پہنچے
اور پھر مخلوق
خدا کو جناب
نے توحید کی
لذت سے آشنا
فرمایا !
داڑھی اور
مونچھیں مبارک
رکھنے کا واقعہ!
حضور خاکی
شاہ فرماتے
ہیں کہ پہلے
پہل سراورداڑھی
کے بالوںکے
متعلق میں
دل میںسوچتا
تھا کہ پتہ
نہیں کتنی
رکھنی ہے اور
کتنی نہیں
رکھنی سو جب
پتا چل جائے
گا تب رکھ لوں
گا ۔ یہ محبت
اور مقام و
مرتبہ کی بات
ہے ورنہ ہر
کسی کی یہ جرات
کہاں کہ وہ
کہے کہ حضور
نبی کریم مجھے
ارشاد فرمادئیں
گیں تو پھر
رکھوں گا۔پیر
صاحب فرماتے
ہیں ایک دن
میں مسجد کے
صحن میں لیٹا
ہوا تھا ۔ حضور
نبی اکرم خواب
میں تشریف
لائے ۔پیر
صاحب فرماتے
ہیں کہ سرکار
نے مجھے سب
کچھ دکھانے
کے لئے اچانک
چہرہ مبارک
سے ایک مخصوص
انداز سے پردہ
اُ ٹھایا تو
میں نے دیکھا
کہ حضور کی
مونچھیں مبارک
ابرووں کی
مانند تھیں
اور ریش مبارک
ایک بالشت
تھی ۔ مجھ میں
اس وقت اتنی
سکت نہ تھی
کہ آگے بڑھ
کر مل سکوں
کیونکہ نور
کی شعاعیں
بہت ہی تیز
تھیں جوکہ
سرکار کے چہرہ
مبارک سے نکل
رھیں تھیں
۔ اس کے بعدمیں
نے مونچھیں
اور داڑھی
کبھی نہیں
منڈوائیں ۔
(یہ واقعہ بھی
حالت جذب کاہے)
احمد رضا خان
بریلوی سےملاقات!
پیر صاحب فرماتے
ہیں میں ایک
جلسہ میں بیٹھا
ہوا تھا اور
احمد رضا خان
بریلوی سٹیج
پر بیٹھے ہوئے
تھے ۔ انہوں
نے اپنی روحانی
نگاہ سے مجھے
پہچان لیا
اور آپ نے مجھے
فورا سٹیج
پر بلوا لیا۔
مجھے خوب پیارکیا
میں اس وقت
بہت چھوٹا
تھا۔پیر صاحب
فرماتے ہیں
آپ (احمد رضا
خان بریلوی)کا
چہرہ انتہائی
خوبصورت سفید
ریش مبارک
اور سر پر دستار
مبارک ہوتی
تھی۔
توکل شاہ انبالوی
سے ملاقات!
توکل شاہ ابنالوی
سے بھی پیر
صاحب کی ملاقات
ر ہی وہ انبالہ
(ہندوستان)
کے رہنے تھے۔پیر
صاحب فرماتے
تھے کہ جناب
توکل شاہ انبالوی
صاحب ہر رات
گیارہ سومرتبہ
درودشریف پڑہتے
تھے ۔ پیر صاحب
فرماتے ہیں
کہ میں نے درود
شریف پڑہنے
کے متعلق پوچھا
انہوں نے فرمایا
کہ اگر زیادہ
نہ پڑھ سکو
تو جتنا بھی
پڑھ لو مفید
ہے اورآخر
میں دعا مانگ
لیا کرو۔ پیر
صاحب توکل
شاہ انبالوی
کے بارے میں
فرماتے تھے
کہ میرا ایمان
ہے کہ کل قیامت
والے دن پورا
انبالہ توکل
شاہ کی وجہ
سےبخشا جائیگا۔
کلر کہار والے
شہنشاہوں سے
تعلق!
ان کے اسم گرامی
محمد اسحاق
اور محمد یعقوب
ہیںعرفِ عام
میں ہو بہو
کے نام سے مشہور
ہیں ۔ان ہستیوں
کے متعلق جناب
پیر صاحب فرماتے
تھے کہ وہ بزرگ
سخی ہوبہوسرکارپیرانِ
پیر دستگیر
سیدنا شیخ
عبدالقادر
جیلانی کے
پوتے ہیں۔
پیر صاحبفرماتے
ہیں کہ وہاں
کے چشمے کا
پانی بہت مفید
ہے۔آپ فرماتے
ہیںکہ ایک
دفعہ ہم نے
پانی کا ایک
گھڑا اس چشمے
سے بھرا اور
اوپر مزار
پر لے گئے ۔لوگ
اس و قت اوپر
نہیں جاتے
تھے طرح طرح
کی باتیں مشہور
تھیں لوگ ڈرتے
تھے۔پیر صاحب
رات وہاں رہے
بڑے اطمینان
سے عبادت کرتے
رہے ۔ بہت سے
مور مزار شریف
پر اکٹھے ہو
گئے ایک جنگلی
جانور اوپر
آ گیا اس نے
موروں کو نقصان
پہنچانا چاہا
لیکن ایک آگ
نکلی اس نے
جانور کو راکھ
کر دیا ۔ پیر
صاحب فرماتے
تھے کہ کسی
جانور کی کیا
مجال کہ سرکار
کے موروں کو
نقصان پہنچائے۔
٭٭٭٭٭٭٭
چوہدری محمد
افضل صاحب
چوہد ری محمد
افضل صاحب
بتاتے ہیں
کہ مجھے اچھی
طرح یاد ہے
کہ میں ۱۹۵۹ء
کے شروع میں
جناب پیر سید
رسول شاہ خاکی
کی بارگاہ
میں حاضر ہوا۔
یہ میری پہلی
ملاقات تھی۔
اُس وقت یہاں
نہ تو کوئی
بجلی تھی،
نہ ہی اتنی
رونق ایک مختصر
سی جگہ تھی۔ملاقات
کرنے پر جو
قلبی اور روحانی
سکون ملا وہ
نا قابل بیان
ہے۔ جناب کی
شفقت تھی کہ
میں نے ہفتے
میں دوبار
حاضری دیناشروع
کر دی۔ اس کے
بغیر سکون
نہیں آتا تھا۔
میری عمر اس
وقت تئیس یاچوبیس
سال تھی۔ میں
ان دنوں ملازمت
کرتاتھا۔ اسی
دوران میرا
تبادلہ کسی
اور جگہ ہو
گیا۔ پھر سروس
دور ہونے کی
کیوجہ سے آنا
جانا کم ہو
گیامگر مجھے
جب بھی موقعہ
ملتا میں قدم
بوسی کے لیے
ضرور حاضر
ہوتا۔ اس کے
علاوہ خط و
کتابت بھی
ہوتی رہتی
تھی۔ آج سے
چالیس سال
قبل پیر صاحب
نے جو خط مجھے
لکھے تھے،وہ
صیحح سلامت
مو جود ہیں۔ہر
مشکل میں جناب
میری دستگیری
فرماتے ۔ آپ
کے بتائے ہوئے
و ظائف میں
باقاعدگی سے
پڑھ رہا ہوں۔
میرے والد
صاحب ایک تحصیل
دار تھے اُن
کی سروس کا
بیشتر حصہ
جموں و کشمیر
میں گزرا ۔انگریز
کی عمل داری
میں انھوں
نے سات سال
سرینگر میں
بھی گزارے۔
اس کے علاوہ
جموں، کھٹو،
میر پوراور
مظفرآباد وغیرہ
بھی رہے۔ والد
صاحب کسی فقیر
کی طرف مائل
نہیں تھے نہ
ہی بزرگوں
کے قائل تھے
۔ مگر جب ان
کی ملاقات
جناب پیر صاحب
سے ہوئی تو
والد صاحب
کی کیفیت ہی
بدل گئی۔ہمارا
گاؤں مرید
سے شمال کی
طرف چند کلومیٹر
کے فاصلے پر
ہے۔ والد صاحب
کے پاس ایک
گھوڑا ہوتا
تھاجس پر سوار
ہو کر مخدوم
پور شریف آتے۔
وہ اپنے علم
اور تجربے
کی بناپر آسانی
سے کسی سے قائل
نہیں ہوتے
تھے کیونکہ
اُن کا مطالعہ
بڑا و سیع تھا۔
حضور خاکی
شاہ صاحب کے
ساتھ دن بدن
تعلق اور عقیدت
بڑھتی چلی
گئی۔ کئی کئی
گھنٹے مختلف
موضاعات پر
پیر صاحب سے
والد صاحب
گفتگو کرتے
۔میں بھی اکثر
والد صاحب
کے ساتھ ہوتا
تھا۔ پیر صاحب
کا تعلق چونکہ
سرینگر سے
تھا اور والد
صاحب وہاں
سات سال رہے
تھے اس لیے
اس علاقے کے
متعلق بڑی
گفتگو ہوتی
تھی۔ہمارا
گھرانہ واحد
گھرانہ تھا
جو کہ پورے
گاؤں میں سب
سے پہلے پیر
صاحبکا مرید
ہوا اور جناب
کے آستانہ
سے وابستگی
کا سلسلہ آج
بھی جاری ہے۔
میرے والد
صاحب ۲نومبر
۱۹۷۰ء کو اس
جہان فانی
سے رخصت ہوئے
تویہ میرے
والد صاحب
کی خوش بختی
تھی کہ نماز
جنازہ خود
جناب سیدرسول
شاہ خاکی سرکار
نے پڑھائی
۔ پیر صاحب
کے پردہ فرماجانے
کے بعد جناب
قلندرسید محمودالحسن
شاہ صاحب قدس
سرہ العزیز
جناب کے بڑے
صاحبزادہ وسجادہ
نشین ہیں ۔جناب
قلندر کی منزل
بھی بہت رنگ
لا رہی ہے ۔
مریدوں اور
دیگر عوام
آپ کے فیض سے
مستفیض ہو
رہی ہے۔ ماہانہ
گیارھویں شریف
انتہا ئی عقیدت
و احترام سے
منائی جاتی
ہے۔ جس میں
دور دراز کے
علاقوں مثلاً
لاہور،گجرات
،پشاور، پنڈدادنخاں،
کھوڑ، اٹک،
(کامرہ)سے بڑی
تعداد میں
لوگ شرکت کرتے
ہیںاورمقامی
آدمی بہت بڑی
تعداد میں
شریک ہو تے
ہیں اور نعت
خواں بھی دور
دراز سے تشریف
لاتے ہیں۔
۸۔۹۔۱۰محرم
الحرام کو
عرس پاک امامِ
عالی مقام
ہر سال منایا
جاتا ہے۔ انتہائی
منظم اور خوبصورت
پیرائے میں
امام عالی
مقام کو خراج
عقیدت پیش
کیا جاتا ہے
حضرت پیر سید
رسول شاہ خاکی
سرکار کا عرس
پاک ۲۵جمادی
اول کو انتہائی
تزک واحتشام
سے منایا جاتا
ہے۔ مریدین
کے چہروں پر
عجیب رونق
ہوتی ہے جو
کہ سرکار کے
فیض پاک کی
زندہ وتابندہ
دلیل ہے ۔
گمشدہ رقم
کا سرکار کی
نظر سے مل جانا
ایک دفعہ میں
اپنے ذاتی
ٹرک پر ایک
ضروری کام
سے چکوال سے
تقریباً 30کلومیڑ
دور تک جارہا
تھا۔ میں ڈرائیور
کے ساتھ بیٹھاہوا
تھا۔میری ساتھ
والی سیٹ پر
رومال میں
تقریباً 25ہزار
روپے پڑے ہوئے
تھے یہ واقعہ
1964ء کا ہے اس وقت
یہ رقم بہت
زیادہ تھی
چکوال شہر
میںسے گزرتے
ہوئے ہم چند
منٹ کے لیے
شہر میں رکے
اُس وقت یہاں
نہ تو اتنی
ٹریفک تھی
اور نہ ہی لوگوں
کا رش ہو تا
تھا ۔عام سی
سڑک ہوا کرتی
تھی ۔ جب میں
نیچے اترا
تو رومال میرے
جسم سے لگ کر
ٹرک کی کھڑکی
کے کہیں قریب
چلا گیا میں
نے خیال نہ
کیا۔ جب ہم
وہاں سے چلنے
لگے توکلینر
جو ٹرک کے پیچھے
تھا میں نے
اس کو بیک سائیڈ
والے شیشے
سے نیچے جھکتے
دیکھا۔ مجھے
پتہ نہیں تھا
کہ رومال نیچے
گر گیا ہے اور
کلینر نے اٹھالیا
ہے۔ میں نے
اتفاقاً ہی
اسے جھکتے
دیکھ لیا تھا۔
ہم معمول کے
مطابق چل پڑے۔جب
چکوال کے باہر
کوئی ۱۰کلو
میڑ آگے پنڈی
روڈ پر گئے
۔تو میں نے
اچانک رومال
دیکھا تو وہ
وہاں موجود
نہیں تھا۔
میں نے ٹرک
رکوایا، ڈرائیور
کو بتایا۔
کلنیر جو کہ
ٹرک کے پیچھے
تھا اس سے پوچھا
کہ ایسے رومال
میں پیسے تھے۔
وہ رومال گر
گیاہے۔ آپ
کو میں نے جھکتے
بھی دیکھا
تھا۔ کلنیر
نے صاف انکار
کر دیا اور
کہا کہ میں
گزشتہ ۵سال
سے آپ کا نمک
کھا رہا ہوں۔
میں ایسی حرکت
کرنے کا سوچ
بھی نہیں سکتا۔
اس نے کہا کہ
میں نے نیچے
اتر کر ٹرک
کی کمان وغیرہ
چیک کی تھی
اور پھر میں
آپ کے ساتھ
سوار ہو گیا
تھا۔
ہم واپس چل
پڑے اور سیدھا
جناب پیر صاحب
کی خدمت عالیہ
میں حاضر ہوئے
اور جناب سے
ساری بات کی۔
جناب نے فرمایا
کہ پیسے گھر
ہی میں ہیں
، مل جائیں
گے فکر مند
ہونے کی کوئی
ضرورت نہیں۔
ہم واپس گھر
آگئے۔ میں
صبح چار بجے
اُٹھا ۔کلینرجاگ
رہا تھا اور
ٹرک کی چھت
پر چڑھ کر ترپا
ل وغیرہ سیدھا
کر رہا تھا۔
مجھے شک گزرا
کہ اس وقت کیا
کر رہا ہے۔
بہرحال ہم
ضروری تیاری
کے بعد صبح
سات بجے پھر
اُسی کام کے
لئے روانہ
ہوئے ۔ تھوڑی
دور جا کر ہم
نے کلنیر کو
دور کسی کام
کے لیے بھیجا
اور خود اوپر
جاکرسارے سامان
اور ترپال
وغیرہ کی تلاشی
لی۔ اس کے پرانے
کالے رنگ کے
کپڑے (جو کام
کاج کے لیے
استعمال ہوتے
ہیں) بندھے
پڑے تھے۔ جب
وہ کھولے تو
ان میں وہی
رومال اور
میری رقم موجود
تھی۔ اس نے
شاید گنی تھی۔
اس کی انگلیوں
کے نشان (سیاہی
دار) ہر نوٹ
پر موجود تھے۔
سرکار نے چونکہ
فرمایا تھا
کہ پیسے گھرمیںہی
ہیں مل جائیں
گے، وگرنہ
اس کے پاس پورا
دِن اور پوری
رات موجود
تھی وہ کہیں
پہلے ہی غائب
کر سکتا تھا۔مگر
وہ ایسا نہ
کر سکا اور
سرکار کے فرمان
کے مطابق پیسے
مل گئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭
حافظ احمد
علی صاحب
لاہور سے حافظ
احمد علی صاحب
فرماتے ہیںکہ
ہم چند احباب
جناب سید رسول
شاہ خاکی کی
خدمت عالیہ
میں حاضری
کی غرض سے تیار
ہوئے۔ ہماری
کل تعداد۹تھی
جن میںمطیع
الرحمان، شیخ
محمد ایوب
،محمد طارق،
حافظ علی احمد
،محمد عارف
شاہ صاحب وغیرہ
تھے۔ ہم ونڈالہ
روڈجامع مسجد
کھجور والی
کے ساتھ ڈاکٹر
محمد افضل
کی دوکان پر
بیٹھ کررات
دس بجے چکوال
جانے کا پروگرام
بنارہے تھے۔
اوپر سے جناب
محمد رفیع
صاحب بھی آگئے
اورکہنے لگے
کہ میرا بھی
جناب پیر صاحب
کی بارگاہ
میں سلام عرض
کرنا اور میرے
لیے دعا بھی
کروانا کیونکہ
اللہ والوں
کی دعا سے لکھی
تقدیر یں بھی
بدل جاتی ہیں۔
جب ہم جناب
پیرصاحب کی
خدمت میں حاضر
ہوئے اور رفیع
صاحب کا سلام
عرض کیاتو
پیر صاحب نے
ہاتھ کا اشارہ
کیااورفرمایا
اچھا جو دائیں
طرف کھڑے تھے۔
جب ہم نے رات
والی ان کی
پوزیشن پر
غور کیا تووہ
واقعی دائیں
طرف کھڑے تھے
۔ اس واقعہ
سے اس بات کی
تصدیق ہوتی
ہے کہ اللہ
کا ولی جہاں
چاہے دیکھ
سکتا ہے سن
سکتا ہے یہ
واقعہ میرے
سامنے پیش
آیا اور اس
سے میرے ایمان
کو تقویت ملی
۔
بیعت ہونے
کی کرامت !
جب ہم پیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوئے
تو سب دوست
مجھے کہنے
لگے کہ بیعت
ہوجاؤ ۔میں
نے کہا کہ میں
تمہارے کہنے
پر بیعت نہیں
ہوںگا۔ میں
اپنی مرضی
سے بیعت ہو
ںگا یاد رہے
کہ میں پہلے
چشتی نظامی
سلسلے میں
بیعت تھا لیکن
میرے شیخ طریقت
کا وصال ہو
چکا تھا۔ بیعت
ہونے کی مجھے
طلب بھی تھی
۔مگر کچھ دیکھ
کر بیعت ہونے
کا ارداہ تھا۔
ہم جناب کی
زیارت کرکے
گھر واپس آگئے۔
ایک دن میں
گھر صبح کی
نماز پڑھ کر
جائے نماز
پر ہی سو گیا
خواب میں دیکھتا
ہوں کہ میں
کعبۃ اللہ
کی طرف سے جناب
پیر صاحب میرے
پاس تشریف
لاتے ہیں میں
اٹھ کر کھڑا
ہوگیا ۔ میں
نے پیر صاحب
کے ہاتھوں
کو چوما۔پیر
صاحب نے سبزرنگ
کا لباس مبارک
زیب تن فرما
رکھا تھا ہاتھ
میں سبز کھجور
کی دوچھڑیاں
تھیں۔ جناب
کی آنکھیں
مبارک انتہائی
سرخ تھیں۔آپ
کھجور کی چھڑیاں
زور سے میری
جائے نماز
پر مارتے ہیں۔
تین مرتبہ
آپ نے یہی عمل
دُہرایا اور
ساتھ فرماتے
ہیں کہ حافظ
صاحب تم صرف
چشتی نہیں
بلکہ آج سے
تم چشتی قادری
ہو اس کے بعد
آپغائب ہو
گئے اس کے بعد
میں پیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوا اور
بیعت ہو گیا
۔ اس طرح انہوں
نے نا چیز کو
خود قبول فرمایا
اور شفقت فرمائی۔
بیوی کے سر
درد کامسئلہ
حل ہو گیا
جب میں بیعت
ہو کر گھر آیا
تو چند دن کے
بعدپیر صاحب
کی ایک اور
کرامت ظاہر
ہوئی ۔میر
ی بیوی اگر
کہیں بڑا گوشت
کھا لیتی تو
کئی کئی دن
اسے سر درد
رہتااور سر
کپڑے سے باندھ
کر لیٹی رہتی۔
ایک دفعہ ہم
نے بڑا گوشت
پکایا میری
بیوی نے پھر
کھالیا اور
شدید سر درد
شروع ہوگیا
رات نہ جانے
کب اسکو آرام
آیا ۔ میں نماز
فجر پڑھ کر
گھر آیا۔ میری
بیوی بڑی خوش
تھی۔ اُس نے
مجھے بتایا
کہ میرے سر
میں شدید درد
تھا۔ جب میری
آنکھ لگی تو
چکوال والے
پیر صاحب تشریف
لائے انہوں
نے سبز رنگ
کا لباس پہناتھا۔
پیر صاحب کی
ساری شکل و
صورت بیان
کی (ابھی تک
میرے بیوی
نے پیر صاحب
کی ظاہری زیارت
نہ کی تھی۔)انھوں
نے مجھے فرمایا
کہ بیٹا کیا
ہوا ہے۔ میں
نے درد سرکا
ذکر کیافرمایا
بیٹا دم کر
دوں۔میں نے
عرض کی کہ حضور
آپ کی مہربانی
ہوگی۔سرکار
نے میرے ماتھے
پر ہاتھ رکھ
کر دم فرمایا۔
جب میری آنکھ
کھلی تو درد
سر ختم ہو چکا
تھا جیسے کبھی
ہو اہی نہیں
تھا۔ اُس دِن
کے بعد انہیں
درد سر نہیں
ہوا چاہیے
روزانہ بڑا
گوشت کھاتی
رہیں۔
تصویر ملنے
کی کرامت!
یہ واقعہ کچھ
اس طرح ہے کہ
پیر صاحب کی
تصویریں حاجی
ذوالفقار صاحب
(جوکہ لاہو
ر کے رہنے والے
ہیں) نے بنوائیں
جنکووہ مرید
ین میں مفت
تقسیم کرتے
تھے۔ کچھ ُسرخ
لباس والی
اور کچھ سبز
لباس والی۔میری
خواہش تھی
کہ مجھے سبز
لباس والی
تصویر ملے
اور خود جا
کر بھی (شاہ
عالمی) سے نہ
لاؤں۔ کوئی
ہی مجھے لا
کر دے۔ چند
دِنوں بعد
جناب پیر صاحب
خواب میں ملے
اور خواب میں
بھی مجھے اپنے
ساتھ لے کر
شاہ عالمی
گئے۔ حاجی
ذوالفقار صاحب
نے دوکان کھولی
اور جناب پیر
صاحب نے تقریباً
ڈیڑھ سو تصویریں
سبز لباس والی
میری گود میں
ڈال دیں اور
فرمایا کہ
جتنی چاہے
لے لو۔ بعد
میں سرخ لباس
والی تصویریںبھی
لاکر میرے
پاس رکھ دیں۔
اگلے دن صبح
میں نے شاہ
عالمی جانے
کا ارادہ کیا۔توایک
پیر بھائی
نے سبز لباس
والی تصویر
لا کر مجھے
دی۔ میں نے
اُسے کہا یہ
تصویر تم خود
نہیں لائے۔
بلکہ پیر صاحب
نے آپکو بھیج
کر مجھے عنائیت
فرمائی ہے۔اس
واقعہ سے اس
بات کا اندازہ
لگا یا جاسکتا
ہے کہ مرشد
کامل کی دسترس
مرید کے دل
میں اٹھنے
والی ہر بات
پر ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
محمد نواز
سیالوی قادری
صاحب
میرا یہ ایمان
ہے کہ دربار
عالیہ قادریہ
مخدومیہ کی
وابستگی مجھے
تاجدارِ کائنات
کے قدموں تک
ضرور پہنچا
دے گی۔ اس نسبت
پر اللہ کا
شکر ادا کرتا
ہوں کہ جِس
ذات پاک نے
مجھے اپنے
نیک بندے تک
پہنچنے کی
توفیق عطا
فرمائی ۔ چند
واقعات کا
تذکرہ کر رہا
ہوں تا کہ میری
زبان بھی جناب
کا تذکرہ کرنے
والوں میں
شامل ہو جائے۔
چھوٹے بھائی
کی شادی
میرے چھوٹے
بھائی محمد
ریاض قادری
کے رشتے کا
مسئلہ تھا۔
ہم بہادر خان
نامی ایک رشتہ
دار کی بیٹی
سے رشتہ کرنا
چاہتے تھے۔
برادری میں
ایک مضبوط
دھڑا ہمار۱
مخالف ہو گیا۔
انھوں نے رشتے
میں رکاوٹ
ڈالنے کے لیے
ایک ہنگامہ
کھڑا کر دیا۔
بہرحال میں
اور میری والدہ
بہادر خان
کے پاس رشتہ
مانگنے کے
لیے گئے۔
انھوں نے نہ
صرف صاف انکار
کیا بلکہ ہمیں
سخت بے عزت
بھی کیا اور
کہا کہ اگر
آئندہ ایسی
بات بھی کی
توہم تمہاری
ٹانگیں توڑ
دیں گے۔ہم
سخت پریشانی
کے عالم میں
واپس آگئے
ہم کسی لڑائی
جھگڑے میںنہیںپڑنا
چاہتے تھے۔
ویسے بھی ہم
قدرے کمزور
آدمی تھے۔
کچھ عرصہ کے
بعد میں اپنے
اِسی چھوٹے
بھائی کو لے
کر جناب خاکی
شاہ سرکار
کے قدموں میں
حاضر ہوااُسے
بیعت کروایامیں
نے بھائی کے
رشتے کا مسئلہ
پیش کیا۔ آپ
نے فرمایا
کہ برادری
خود ہی شور
مچاکر تھک
جائے گی۔ پرواہ
نہ کریں رشتہ
خود بخود آ
جائے گا میرا
دِل بہت مطمئن
ہو گیا اور
میں خوش خبری
کا انتظار
کرنے لگا۔
ابھی کچھ ہی
دِن گذرے تھے
کہ بہادر خان
خود چل کر ہمارے
گھر آیا۔ کہ
میری بیٹی
کا رشتہ لے
لیں میںنہیں
بلکہ پوری
برادری حیران
رہ گئی۔1998ء میں
شادی ہو گئی۔
شادی کے وقت
پیر صاحب تو
دنیا سے پردہ
فرما چکے تھے
میں شکریہ
کے لیے جناب
قلندر سید
محمودالحسن
جی سرکارکی
خدمت میںحاضر
ہوااوربھابھی
کوبھی بیعت
کروایا۔ جناب
قلندر سیدمحمودالحسن
جی سرکارنے
بھابھی کا
نام تبدیل
کر کے غلام
زینب مخدومی
رکھ دیا ۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>