بیعت
ہونے کا واقعہ
بندئہ نا چیز
کی پہلی نسبت
1976ء جناب خواجہ
قمرالدین سیالوی
سے تھی کم عمری
اور کم علمی
کی وجہ سے مجھے
بیعت کے اغراض
و
مقاصد کا پتہ
نہ تھا ۔1982ء میںخوجہ
قمرالدین سیالوی
صاحب کا انتقال
ہو گیامیں
آپ کے مزار
پر حاضری دیتا
رہا ۔اکثر
میں کہا کرتا
تھا کہ بچپن
میں ہی یتیم
ہو گیا ہو ں
۔1990ء میں تحریک
منہاج القران
میں شامل ہوا۔
میں نے شانِ
اولیاء پر
پروفیسر صاحب
کا خطاب سنا
اور یہ میرا
پختہ عقید
بن گیا کہ اولیاء
اکرام کے مزارات
سے بھی فیض
ملتا ہے ۔ خطاب
سننے کے بعد
میں نے اپنا
نام محمد نواز
سیالوی رکھ
لیا اور پہلے
سے زیادہ سیال
شریف جانے
لگا۔ میاں
چنوں سے میرے
تحریکی ساتھی
اکثر چکوال
آتے تھے میں
نے پوچھا تو
انھوں نے بتایا
کہ ایک مردِ
قلندر سید
رسول شاہ خاکی
ہیں ہم وہاں
بیعت ہیں۔حضور
سیدرسول شاہ
خاکی تحریک
کے زبردست
حامی بھی ہیں۔
میں بڑا متاثر
ہوا انھوں
نے یہ بھی بتایا
کہ ہمیں خود
پروفیسر صاحب
نے وہاں بھیجا
ہے اس سے میں
اور بھی زیادہ
متاثر ہوا۔
میں نے بھی
حاضری کا پروگرم
بنایا۔ میرے
دِل میں شیخ
کی طلب تھی
اور خدمت شیخ
کا شوق بھی
تھا۔ میری
پہلی حاضری
1992ء کو ہوئی پیر
صاحب سے مل
کر بہت ہی خوشی
ہوئی آپ سے
پیار ہو گیا۔
آپ نے اس قدر
پیار کیاکہ
اللہ کی قسم
اتنا پیار
آج تک مجھے
کسی نے نہیںکیا۔
میں ہر وقت
آپ کے خیالوں
میں گم رہنے
لگا۔ ایک حاضری
کے بعد دوسری
حاضری کا پروگرام
بنتا رہتا
تھا۔ سب سے
پہلے میں نے
اپنے والد
صاحب بہن اور
بھائی کو بیعت
کروایا۔ اپنے
بارے میں یہ
خیال تھا کہ
سرکار اگر
میری سابقہ
بیعت بھی بحال
رکھیںاور اپنی
نسبت بھی عطا
فرمائیں تو
کیا ہی بات
ہے۔
ایک دِن میں
اپنے بہنوئی
اوربہن کے
ہمراہ حاضر
ہوا ۔ سرکار
میری ہمشیرہ
کی طرف متوجہ
ہوئے اور فرمایااوئے
گُڑیا( یہ آپ
کا لڑکیوں
کو مخاطب کرنے
کا مخصوص انداز
تھا)میں اِن
دونوںکے کان
نہ کاٹ دوں۔
مجھے قریب
آنے کا اشارہ
فرمایا۔ میری
گردن اپنے
قد مین کے قریب
کی(یہ جناب
کا مخصوص انداز
محبت تھا) پھر
اپنے سینہ
مبارک سے لگایا
اور فرمایا
آج سے ہم نے
آپ کو قادری
بھی بنا دیا
ہے۔ آج کے بعد
اپنے نام کے
ساتھ قادری
بھی لکھنا
اس طرح میرے
بہنوئی کے
ساتھ بھی کیا۔پیر
صاحب نے اپنے
سلسلے میں
داخل فرما
کر قادری نسبت
سے سرفراز
فرمایایہی
میرے دِل کی
خواہش تھی
جو آپ نے پوری
فرما دی۔ یہ
آپ کا احسان
ہے اور یہ آپ
کی زندہ کرامت
تھی کہ آپ نے
دِل کا حال
جان لیا اور
دِل کی خواہش
پوری فرمادی۔
سورۃ کہف کاملنا
ایک روز میرے
دوست جناب
آصف نیازی
نے بتایا کہ
جناب حضرت
رسول شاہ خاکی
نے مجھے فرمایا
کہ تہجد کے
لیے اُٹھنا
ہو اور وقت
پر جاگ نہ آئے
تو سورۃ کہف
کی پہلی چند
آیات کی تلاوت
سونے سے پہلے
کر لیا کرو
پھر ٹھیک وقت
پر آنکھ کُھل
جائیگی۔آصف
صاحب کی یہ
بات سن کر میں
نے سوچا کہ
میں بھی ایسا
ہی کر لیا کروں
گا۔ اس بات
کو میں نے خاکی
شاہ سرکار
کی طرف سے ایک
پیغام سمجھا۔
دِل میں سوچا
کہ پاکٹ سائز
سورہ کہف تلاش
کروں گا تاکہ
جیب میں رکھ
سکوں ۔یہ بات
سننے کے فوراً
بعد میں نیشنل
بنک کچہری
روڈ میاں چنوں
کی طرف چل پڑابنک
کے گیٹ پر ایک
شخص سورۃ کہف
پاکٹ سائز
لے کر کھڑا
تھا۔ مجھے
دیکھتے ہی
کہنے لگا یہ
لے لو میں یہ
دیکھ کر حیران
رہ گیا کہ ابھی
تو میں نے دِل
میں سوچا تھا
کہ میں سورۃ
کہف لے لوں۔
میری سرکار
نے سارا بندوبست
بھی کر دیا
اور مجھے سورۃ
کہف دلوادی۔
دل کاحال جاننا
ایک روز صبح
ایک پیر بھائی
نے مجھے بتایا
کہ حضورپیر
صاحب میاں
چنوں تشریف
لا چکے ہیں
۔ یہ سن کر مجھے
بے حد خوشی
ہوئی۔ صبح
صبح میں آپ
کی رہائش گاہ
کی طرف چل پڑا
دِل میں سوچا
کہ نماز تو
پڑھی ہی نہیں
۔بغیر نماز
کے فقیر کی
بارگاہ میں
جارہاہوں۔
احساسِ شرمندگی
ہورہا تھا۔
آپ محمدامجد
قادری کے گھر
تشریف فر ماتھے
وہاں پہنچا
پیر صاحب کی
قدم بوسی کی۔
خاموشی سے
ایک طرف بیٹھ
گیا آپ تھوڑی
دیر کے بعد
فرمانے لگے
کہ ایک دفعہ
میں ہندوستان
گیا وہاں میں
نے دیکھا کہ
وہاں ہندواورسکھ
اپنے اپنے
عقیدے کے مطابق
مندروں اور
گردواروں میں
عبادت کررہے
تھے اور ہم
مسلمان ہو
کر بھی اللہ
کو یاد نہیں
کرتے ہمیں
تو چاہیے کہ
ہر وقت اللہ
کا ذکرکیا
کریں۔میں چونک
گیا اور سمجھ
گیا کہ پیر
صاحب نے میری
کیفیت دیکھ
کر بات کی ہے
اور مجھے نصیحت
فرمارہے ہیں
،اور بڑے باکمال
طریقے اور
رازداری سے
نصیحت فرمارہے
ہیں ۔اللہ
پاک ہمیں ان
کے نقشِ قدم
پر چلنے کی
توفیق عطا
فرمائے آمین؛
٭٭٭٭٭٭٭
طارق گولڈن
صاحب کا ایمان
افروز واقعہ!
طارق صاحب
بتاتے ہیں
کہ جن دنوں
سید نا طاہر
علاؤالدین
قادری الگیلانی
کا وصال مبارک
ہوا، اس سے
کوئی دو ہفتے
قبل کی بات
ہے کہ میں تحریک
منہاج القران
چکوال کے ناظم
کی حیثیت سے
فرائض سر انجام
دے رہا تھا
اور جناب پیر
صاحب سے بھی
انتہائی قلبی
لگاؤ تھا۔
میںزیادہ تر
دربار عالیہ
پر ہی رہتا
اوراس وجہ
سے میں تحریک
کو کماحقہ
وقت نہیں دے
پا رہا تھا۔
تحریک والوں
نے مجھے شو
کاز نوٹس جاری
کردیا کہ آپ
چونکہ اپنے
فرائض ٹھیک
طرح سے سرانجام
نہیں دے رہے
لہٰذا کیوں
نہ آپ کو آپ
کے عہدے سے
ہٹا دیا جائے
۔ میں نے وہ
نوٹس پڑھا
اور پریشان
ہو گیا۔ میری
وابستگی اور
محبت دونوں
جانب تھی لہذا
میں پریشان
ہوگیا کہ اب
کیا کروں میں
نے وہ نوٹس
پیرصاحب کی
خدمت میں پیش
کیا سرکا ر
نے پڑھا اور
ایک طرف رکھ
دیا اور فرمایا
کہ میں بات
کرلوں گا۔
نئی تنظیم
سازی کے دن
قریب آرہے
تھے نوٹس کے
آخری د ن بھی
آرہے تھے پیرصاحب
نے بھی کوئی
بات نہ کی۔
میں پریشان
کہ اب کیا ہو
گا۔
اسی اثناء
میں سید نا
طاہر علاؤالدین
کاوصال ہو
گیا۔ جناب
خاکی شاہ سرکار
نے مجھے حکم
دیا لاہور
جاؤاور میری
طرف سے اُن
کے نمازجنازہ
میں شرکت کرو۔
میںآپ کے حکم
کی تعمیل میں
وہاں چلا گیا۔
وہاں جنازہ
مبارک کے بعد
جب مرحلہ تدفین
آیا تو اب چونکہ
میں جناب خاکی
شاہ سرکار
کانمائندہ
بن کر گیا تھا
اس لیے مجھے
عین آپ کی قبر
انور کے قدموں
میں جگہ مل
گئی۔ جب آپ
کو قبر میں
اتارنے لگے
تومجھ پر ایک
خاص باطنی
کیفیت طاری
ہوئی اور میں
یہ منظر دیکھ
کر حیران رہ
گیا کہ سیدنا
طاہر علاوالدین
صاحب کا تابوت
مبارک کھلا
اور آپ اُٹھ
کر بیٹھ گئے
اور مجھے تھوڑا
آگے آنے کا
اشارہ فرمایا
میری پشت پرتھپڑ
مارا اور پیار
سے کہا کہ بیٹا
تمہیں منہاج
القران سے
طاہر القادری
بھی نہیں نکال
سکتا۔ میں
حیران ہو گیا
کہ مجھے میرے
سوال کا جواب
کہاں سے مل
رہا ہے اور
کیسے مل رہا
ہے۔ پھر جناب
تابوت میں
لیٹ گئے اور
آپ کی تدفین
مبارک ہو گئی
میں انتہائی
خوش تھا کہ
یہ بات جاتے
ہی جناب پیر
صاحب کو بتاؤں
گا میں واپس
مخدوم پُور
شریف آیا۔
جونہی دربار
شریف میں داخل
ہونے لگا تو
پیرصاحب نے
مجھے دیکھ
کر فرمایاکہ
خط کا جواب
مل گیا تھا۔میں
پہلے سے بھی
زیادہ حیران
رہ گیا کہ پیرصاحب
کو کیسے پتہ
چل گیا ہے۔
یہ میری زندگی
کا انتہائی
دلچسپ واقعہ
تھا کہ آپکی
روحانی پرواز
کس قدر ارفع
تھی اورآپ
کس طرح اپنے
مرید اور خدمت
گار کو ہر وقت
دیکھتے ہیں۔
بہرحال میرا
شو کاز نوٹس
ضلع والوں
نے ختم کردیا
اور مجھے اپنے
عہدے پر بحال
رکھا۔ یہ سب
کچھ میرے لیے
انتہائی حیران
کن بھی تھا
اور ایمان
افروز بھی
تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭
الحاج صوفی
محمد خان صاحب
مرید گاؤں
سے صوفی محمد
خان صاحب فرماتے
ہیںکہ جن دِنوں
میں چو آسیدن
شاہ میں مقیم
تھا، وہاں
ایک حافظ صاحب
جو بچوں کو
درس قرآن دیتے
تھے اور قرآن
حفظ بھی کرواتے
تھے،میرے دوست
بن گئے۔ ایک
دِن باتوں
باتوں میں
انھوں نے مجھ
سے نسبت کے
متعلق پوچھا
میں نے جناب
پیر صاحب کا
اسم گرامی
بتایا۔ حافظ
صاحب نے بتایا
کہ وہ تو بڑے
مردِ کامل
ہیں۔
جب میں موضع
بشارت میں
قرآنِ پاک
حفظ کر رہا
تھا تو ہمارے
ایک دوست جو
حافظ بنتا
چاہتے تھے،
انھوں نے بڑی
محنت کی مگر
کامیابی نہیں
مل رہی تھی،
جو بھی کلام
یا د کر تے پھر
بھول جاتا۔
کافی جگہ سے
دعائیں کروائیں
تعویذ وغیرہ
بھی لیے مگر
مقصد نہ مل
سکا۔آخر کار
جناب خاکی
شاہ سرکار
کی خدمت میں
حاضر ہوئے
تو پیر صاحبنے
دم فرمایا
اور کچھ قرآنی
آیات ورد کے
طور پر پڑھنے
کو بتائیں
۔اس کے بعد
انہیں قرآن
پاک ایسا یاد
ہوا کہ ہم حیران
رہ گئے۔ جو
بھی یاد کرتے
فوراْ یاد
ہو جاتا اور
وہ بہت جلد
قرآن پاک کے
حافظ بن گئے۔
پیر صاحب کی
سخاوت!
ایک دن کا واقعہ
ہے کہ صبح کا
وقت تھا۔ ایک
مشہور نعت
خوان پیر صاحب
کی خدمتِ عالیہ
میں حاضر ہو
ا ۔پیر صاحب
نے گرم کمبل(بہت
ہی اچھی کوالٹی
کا) اپنے اوپر
لے رکھا تھا۔
اُس نے عرض
کی کہ حضور
یہ کمبل حضور
کے صدقے عطا
فرما دیںجناب
نے اسی وقت
کمبل اُسے
دے دیا۔ اس
کے بعد آپ کے
پاس بڑا مزین
قسم کا عصا
پڑا تھا۔ اُس
نے وہ بھی مانگ
لیا آپنے وہ
بھی عطا کر
دیا ۔اس کے
بعد سفید رنگ
کی بہترین
صراحی جو پان
یا تھوک کے
لیے استعمال
ہوتی ہے ،اُس
نے وہ بھی مانگ
لی ،آپ نے وہ
بھی عطا کردی۔پیر
صاحب نے پوری
سردیاں ایک
عام سی سرخ
رنگ کی گرم
چادر میں گزار
دیں۔
جناب قبلہ
سید ی و مرشدی
سید رسول شاہ
خاکی مدینہ
منورہ میں
حاجی اقبال
صاحب کے گھر
تشریف فرماتھے
میںبھی وہاں
حاضر تھا۔
پیر صاحب کی
خدمت میں ایک
سید بادشاہ
(جن کا تعلق
ہزارہ سے تھا)
جو پیدل چل
کر مدینہ شریف
گئے تھے۔ ان
کا نام سید
مسکین شاہ
تھا، حاضر
ہوئے۔وہ اس
وقت سے روحانی
ڈیوٹی روضئہ
رسول پر دے
رہے ہیں ۔ فرمانے
لگے بڑے بڑے
پیران عظام
یہاں آتے ہیںاور
اندر سے اکثر
خالی ہوتے
ہیں مگر پیر
صاحب نُوراً
علیٰ نُورْ
ہیں ۔ ان کا
ظاہرو باطن
نور سے معمور
ہے۔ وہ اکثر
جناب پیر صاحب
کی خدمت میں
حاضری دیتے
رہے۔
حج نصیب ہوا!
ہمارے ایک
دوست( جن کاتعلق
کھوکھر بالا
سد سے ہے ) کا
نام نور محمد
ہے۔ غریب آدمی
ہے اور PAFبیس
مرید میں بطور
نائب قاصد
(دفتری)ڈیوٹی
کر رہا ہے۔
ویسے ہی ایک
دفعہ ہمارے
ساتھ پیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوا آپ
نے پوچھا کہ
میاں کیا بات
ہے ۔اس نے عرض
کی کہ حضورحج
کا شوق ہے ۔دعا
فرمایںاللہ
پاک یہ شوق
پورا فرمائے۔
آپ نے دعا فرمائی
اوروہ اگلے
سال حج پر چلا
گیا۔ دوبارہ
پیر صاحب کی
بارگاہ میں
عرض کی ۔آپ
نے پھر دعا
کی ۔چندماہ
بعد اسے پھر
عمرے کا شرف
حاصل ہو گیا۔یہ
پیر صاحب کی
نگاہ کرم تھی
ورنہ وہ ایک
غریب آدمی
تھا۔ وہ حج
اور عمرہ کے
اخراجات کا
سوچ بھی نہیں
سکتا تھا۔
بہرحال فقیر
کے منہ سے نکلی
بات رنگ لاتی
ہے۔ اللہ تعالیٰ
سارے سامان
خود بخود پیدا
کردیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
حنیف صاحب،
سابقہ کا تبِ
دربار
بیعت کا واقعہ!
حنیف صاحب
اِس وقت ضلع
چکوال کی انتظامیہ
میں کلرک ہیں۔
وہ اپنی بیعت
کے متعلق لکھتے
ہیں کہ میں
چھوٹا سا بچہ
تھا۔ اس وقت
ایک اللہ کے
فقیر ٹوپی
والی سرکار(
کھارا شریف
والے) ہمارے
گاؤں آئے ہوئے
تھے۔ میری
والدہ مجھے
ان کے پاس لے
گئی۔ انھوں
نے چولہے کی
راکھ لے کر
میرے کندھے
کے ساتھ پشت
پر لگا دی تو
وہ گول مہر
کی شکل بن گئی
یہ دیکھ کر
فوراًانھوں
نے کہا کہ یہ
کسی ولئی کامل
کا مرید ہے۔
اسے کچھ بھی
نہیں ہے، یعنی
بیمار نہیں
ہے۔ والدہ
بیماری کے
لیے ہی ان کی
خدمت میں لے
کر گئی تھی۔
اور فرمایا
کہ اسے میرے
پاس سے لے جاؤ۔
جب میں نے ہوش
سنبھالا تو
تلاش مرشد
شروع کی۔ گھر
والے بنگھالی
شریف لے جا
رہے تھے۔ جب
بس ڈھڈیال
بس سٹاپ پر
پہنچی تو پتہ
چلا کہ پیرصاحب
مکہ شریف گئے
ہوئے ہیں۔
بس اسی وقت
خاکی شاہ سرکار
کی کشش ہوئی
۔ میں آپ کی
خدمت میں مخدوم
پور شریف حاضر
ہو ا اور بیعت
ہو گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭
جناب چوہدری
لہراسب خان
(ڈھکو)
ڈھکو سے چوہدی
لہراسب خان
فرماتے ہیں
کہ یہ ۱۹۷۱ء
کا واقعہ ہے
مجھے ایک رات
کو خواب آیاکہ
جناب پیر سید
رسول شاہ خاکی
صاحب تشریف
لائے ہیں اور
فرمایا کہ
مسجد میں اعلان
کر وا دو کہ
۱۹۷۱ء کی جنگ
لگنے والی
ہے۔ لہراسب
خان جو آدمی
تمہارے اوپر
سوار ہو جائے
گا وہ بچ جائے
گا اور جو آدمی
تمہارے اوپر
نہیں بیٹھے
گا وہ مر جائے
گا۔جو آدمی
تمہارے اوپر
بیٹھ جائیں
انہیں بھائی
کے پاس اُتار
دینا اتنے
میں ہمارے
گاؤ ں کا ایک
آدمی آیا جس
کا نام دوریز
ہے ،اور اس
نے کہا کہ یہ
کیا کر رہے
ہو ۔ میں نے
جواب دیاکہ
حضور پیر صاحب
کا حکم ہے کہ
آدمیوں کو
لے کر اُڑ جاؤ۔
دور یزنے کہا
کہ اگر تم ان
آدمیوں کو
لے کر اُڑ ئے
تو میںتمہارے
اوپر فائر
کھول دوں گا
۔
اسی اثناء
میں پیر صاحب
تشریف لائے،میںنے
عرض کی پیر
صاحب آپ فرماتے
ہیں کہ گاؤں
کے آدمیوں
کو لے کر اُڑ
جاؤں مگر دوریز
کہتا ہے کہ
میں تم پر فائر
کھول دوں گا
۔پیر صاحب
نے فرمایاکہ
یہ آدمی آپ
پر تین چار
فائر کرے گا
مگر تم پر کوئی
خاص اثر نہیں
ہوگا ، آدمی
بیٹھاؤ اور
اُڑ جاؤ میںنے
جناب خاکی
صاحب سے گزارش
کی کہ مجھے
دائیں پہلو
میں درد ہوتا
ہے میں اُڑ
نہیں سکتا۔
پیر صاحب نے
فرمایا جس
جگہ درد ہوتا
ہے اس جگہ اپنی
انگلی رکھیں
۔پیر صاحب
نے اپنا دست
مبارک میری
طرف بڑھایا
اور کھینچ
لیا یوں درد
بالکل ختم
ہوگیا،جودوبارہ
آج تک نہیں
ہوا۔ میں نے
عرض کی کہ حضور
میں ابھی بھی
اُڑ نہیں سکتا
تو جناب خاکی
شاہ صاحب نے
پتھر میرئے
منہ میں رکھا
اور فرمایا
کہ اُڑ جاؤ
لہٰذا میں
نے لوگوں کو
اپنے اوپر
سوار کیااور
اُڑنا شروع
کردیا۔اسی
اثنا میں نیچے
سے دوریز نے
تین چار فائر
کئے۔
میں اسی لمحہ
جاگ گیا اور
صبح سویرئے
جناب خاکی
شاہ صاحب کے
پاس مخدوم
پورشریف پہنچ
گیا ۔پیر صاحب
کو خواب والا
تمام ماجرہ
سنادیا۔اس
سے قبل جب بھی
خاکی صاحب
کے پاس جاتا
تھا تو جناب
چائے پانی
ضرور پلاتے
تھے مگر اس
دن خاموش رہے
اور میرے ساتھ
بات چیت نہیں
کی ۔میں جناب
سے ناراض ہو
کر چلا آیاکہ
آپاگر مجھے
خواب کی تعبیر
نہیں بتاتے
تو میں جارہا
ہوں ۔
پیر صاحب مجھ
سے بچپن سے
ہی بہت پیار
کرتے تھے ۔مگر
افسوس کہ میں
اس وقت مسلکِ
حق پر نہ تھا
۔پیروں ،فقیروں
اور اولیائے
کرام پہ میرا
اعتقادوایمان
نہ تھا ۔پیر
ومُرشد کا
مجھے کوئی
پتہ نہیں تھا
اور نہ ہی میں
کسی کو پیر
و مُرشد مانتا
تھا صرف عالمِ
دین کو بزرگ
مانتا تھا
۔کچھ دن بعد
فوج سے میرئے
نام چِھٹی
آگئی کہ اپنی
یونٹ میں رپوٹ
کرو۔جب میں
اپنی یونٹ
میں پہنچا
تو جنگ ۹۷۱ء
شروع ہوچکی
تھی۔ جنگ ختم
ہونے پر میں
گھر واپس آیا
توکسی بات
پر میرا دوریز
سے جھگڑا ہوگیا
اور اُس نے
مجھے چار گولیاں
ماریں ،جس
سے مجھے کوئی
خاص نقصان
نہ ہوا۔ایک
گولی میرئے
سینے میں اِس
وقت بھی موجود
ہے ۔ مجھے اس
بات کا ازحد
افسوس ہے کہ
میں اُ س وقت
جناب خاکی
شاہ صاحب کی
بیعت نہ کرسکا
،مگر میرا
ایمانِکامل
ہے کہ جب بھی
میںپیر صاحب
کو یاد کرتا
ہوں آپ میری
توقع سے پہلے
پہنچتے ہیں
۔مجھے اس بات
کا از حد افسوس
ہے کہ میں جناب
کا بیعت نہیں
ہو سکا ۔مگر
اللہ نے سیدھی
را ہ دیکھا
دی ہے،اور
میں پیرومُرشد
کا ماننے والا
ہوں اور مجھ
پر ان ہستیوں
کا بہت کرم
ہے۔ میں یہ
سمجھتا ہوں
کہ مجھ سے زیادہ
خوش قسمت کوئی
نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
محمد خان ٹوانہ
صاحب
بیعت ہونے
کاواقعہ
لنگر والا
(ضلع خوشاب)
کے محمد خان
ٹوانہ صاحب
سرکار کے پرانے
خادم ہیں سرکار
سے بے پناہ
عقیدت رکھتے
ہیں اپنا ظاہر
و باطن پیر
صاحب کے حوالے
کیے ہوئے ہیں
بہت ہی ملنسار
اور محبت والے
آدمی ہیں۔باقائدہ
استقامت کے
ساتھ حاضری
دینے والے
مریدین میں
شامل ہیں انہوں
نے چند واقعات
اس کتاب میں
شامل کروائے
ہیںجو کہ یقینا
پڑھنے والوں
کے لیے باعثِ
تقویت قلب
ہوں گے۔
ٹوانہ صاحب
فرماتے ہیں
کہ کچھ باتیں
لکھی جا سکتی
ہے اور کچھ
باتیں محسوس
کی جا سکتی
ہے محسوس کی
جانے والی
چیز لکھی نہیں
جا سکتی جیسا
کہ کیلے یا
کسی پھل کے
بارے میں بہت
کچھ بھی لکھا
جا سکتا ہے
مگر ذائقہ
صرف محسوس
کیا جا سکتا
ہے ۔ جو چیزیں
لکھی جا سکتی
ہیں لکھ رہا
ہوں تاکہ جناب
کے محبین،طالبین،مُریدین
تک پہنچیں۔محمد
خان ٹوانہ
صاحب فرماتے
ہیں کہ میرے
دل میں تمنا
تھی کہ میں
بھی کسی بزرگ
ہستی کی بیعت
کروں دوگاہی
نامی گاؤں
کے ایک مجذوب
تھے ان کا اسم
گرامی سجاد
شاہ صاحب تھا
ان کی کیفیت
کچھ ایسی تھی
کہ وہ اپنے
ہاتھ سے کوئی
چیز نہیں کھاتے
تھے کوئی خاص
آدمی ہوتا
تو اس کے ہاتھوں
سے کوئی چیز
کھا لیا کرتے
تھے ہر آدمی
سے نہیں کھاتے
تھے میں بھی
اکثر ان کے
پاس جاتا تھا۔
ایک دفعہ انہوں
نے مجھ سے فرمایا
کہ لنگڑیال
کھرد (یہ ایک
طرح کی ٹافیاں
ہوتی ہے مالٹے
کا رس اس میں
ملا ہوتا ہے)
لایا کرو میں
جب بھی جاتا
ٹافیاں لے
کر جاتا تھااور
اپنے ہاتھ
سے ٹافیاں
ان کے منہ میں
ڈالتا تھا۔
ایک دفعہ میں
حاضرِ خدمت
ہوا تو پتہ
چلا کہ وہ شاہ
صاحب چکوال
تشریف لے گئے
ہیں میں ان
سے ملنے چکوال
چلا گیا وہاں
شاہ صاحب سے
ملاقات ہوئی
میں نے شاہ
صاحب کو ٹافیاں
کھلانی شروع
کی کچھ دیر
کے بعد شاہ
صاحب نے بڑی
معنی خیز نظروں
سے میری طرف
دیکھا اور
فرمایا کہ
دھنی والا
پیر ہے اس کے
پاس چلے جاؤ
میرے دل میں
خیال آیا کہ
میں کیسے جاؤں
اور وہ کہاں
ہیں اسی دوران
محفل سے ایک
عورت اٹھی
اس نے کہا میں
دھنی والے
پیر صاحب کے
پاس جا رہی
ہوں شاہ صاحب
نے مجھے اشارہ
کیا کہ اس کے
ساتھ چلے جاؤ
وہ چکوال سے
تانگے میں
بیٹھی میں
بھی ساتھ بیٹھ
گیا۔ ایک جگہ
وہ عورت اتری
میں بھی اتر
گیاجہاں اب
مخدوم پور
شریف ہے وہ
عورت اس مکان
کی طرف چل پڑی۔
اس وقت صرف
ایک ہی گھر
ہوتا تھا۔
میں بھی ساتھ
ساتھ تھا چھوٹے
سے کمرہ نما
مکان میں تاجدار
ولائت اور
حضور کی اولاد
پاک کے ایک
درخشندہ ستارے
جناب سید رسول
شاہ خاکی سرکار
تشریف فرما
تھے۔ پہلے
کچھ لوگو موجود
تھے۔ میں نے
بھی قدم بوسی
کی اور باقی
لوگوں کے ساتھ
بیٹھ گیا۔
سرکار نے میری
طرف دیکھ کر
فرمایا کہ
بیٹا آگئے
ہو ۔ میں حیران
رہ گیا نہ جان
نہ پہچان اور
جناب نے ایسے
مخاطب کیا
ہے جیسا کہ
مدتوں کی جان
پہچان ہو۔
یہ جناب کی
کرامت تھی
کہ جناب آنے
والے کو اکثر
ایسے الفاظ
سے یاد فرماتے
کہ اس کو احساس
ہوتا کہ شاید
مدت سے جناب
مجھے جانتے
ہیں۔ یہ واقعی
فقیر کی شان
ہوتی ہے کہ
اس کو اپنی
بیعت ہونے
والے لوگوں
کا علم ہوتا
ہے۔ اس بات
کا مجھے بارہا
مشاہد ہ ہوا
ہے۔ کچھ دیر
کے بعد لوگ
چلے گئے اور
میں خاموشی
سے جنا ب کی
صحبت میں بیٹھا
رہا ۔میں نے
زبان سے کوئی
بات نہ کی مگر
دل ہی دل میں
بہت سے سوال
آتے رہے ۔ کافی
دیر کے بعد
جناب نے گفتگو
فرمائی اور
جتنے میرے
سوال تھے سب
کا جواب مرحمت
فرمادیا ۔
میرے لیے یہ
سب حیران کن
تھا۔
جب رخصت ہونے
کے لیے سرکار
کی قدم بوسی
کی تو آپ نے
فرمایابیٹا
آتے رہنا۔
مجھے ملتے
رہنا یہی بیعت
ہے میں نے اپنی
زبان سے بیعت
کی بات بھی
نہ کی تھی ہاں
دل کے اندر
بیعت کی طلب
ضرور تھی ۔میری
دینی تعلیم
بھی اسی طرح
مکمل ہو پاتی
کہ میرے ذہن
میں کوئی مسئلہ
بھی آتا تو
سرکار اس کی
وضاحت فرماتے
اور سمجھا
بھی دیتے۔
اکثر کتابوں
کا حوالہ بھی
دیتے اس طرح
میںآپ سے 8سال
ملتا رہا۔
8سال کے بعد
سرکار نے بیعت
کا حکم دیا۔
احوال پر مطلع
ہونا
آپ کا طریقہ
تبلیغ بھی
یہی تھا کہ
حاضرین محفل
میں جس کے ذہن
میں جو سوال
ہوتا اس کا
جواب سرکار
گفتگو کے دوران
ہی مرحمت فرما
دیتے۔
ایک دفعہ ایسا
ہوا کہ ایک
بزرگ عبدالستار
شاہ صاحب میانوالی
بالا شریف
کے رہنے والے
تھے۔ میرا
ان سے کسی دینی
مسئلہ پر اختلاف
ہو گیا ہمارا
اس میں فیصلہ
نہیں ہو رہا
تھا ۔ ہم نے
جناب خاکی
شاہ سرکار
کی بارگا ہ
میں آنے کا
فیصلہ کیا
ہم دونوں جناب
کی بارگا ہ
میں حاضر ہوئے
ہم نے کچھ بیان
ہی نہ کیا تھا
کہ جناب نے
اس مسئلے کا
حل بیان کر
دیا شاہ صاحب
مطمئن بھی
ہو گئے اور
بہت ہی حیران
ہوے۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>