مجذوب
کوموتیوں کاہار
دینا
ہمارے علاقے
میں گنجیال
شریف قصبہ
میں ایک بزرگ
تھے ان کا نام
حاجی غلام
جیلانی شاہ
صاحب تھا ۔
وہ بھی مجذوب
تھے بڑی پیاری
شخصیت کے مالک
تھے مست قلندر
آدمی تھے ۔حضور
خاکی شاہ سرکار
کا حکم تھا
کہ جب بھی میرے
پاس آیاکرو
تو جیلانی
صاحب سے مل
کر آیا کرو۔
حضرت خاکی
شاہ سرکار
کو شاہ صاحب
سے بڑا اُنس
تھا ایک دو
دفعہ میں شاہ
صاحب سے ملے
بغیر آیا تو
جناب نے واپس
بھیج دیا اور
سخت حکم صادر
فرمایا کہ
ان سے ملے بغیر
مت آیا کرو۔
اس کے بعد میں
نے جناب کے
حکم پر سختی
سے عمل کیا
۔ایک بات جو
کہ میرے لیے
بڑی حیرانی
کا باعث ہوتی
وہ یہ کہ یہ
دونوں شخصیتیں
سید غلام رسول
شاہ خاکی سرکار
اور سید غلام
جیلانی سرکار
ایک دوسرے
کا ایسے حال
پوچھتے جیسے
صدیوں سے ایک
ساتھ رہے ہوں
بظاہر دور
دور رہنے کے
باوجود ایک
دوسرے کی پل
پل کی خبر رکھتے
تھے کہ جیسے
ایک جان دو
قالب ہوتے
ہیں۔
ایک دفعہ کاواقعہ
ہے کہ میں گنجیال
شریف جیلانی
صاحب کے پاس
گیا شام کا
وقت ہوگیاتھا۔
شاہ صاحب نے
مجھ سے پوچھا
کہ خاکی شاہ
سرکا ر کے پاس
کب گئے تھے۔میں
نے عرض کی کہ
کافی وقت گزر
گیا ہے آپ نے
حکم دیا کہ
ابھی مخدوم
پور شریف جانا
ہے۔ انہوں
نے اپنا ایک
عقیدت مند
محمد رمضان
جو کہ ’’ہڈالی
‘‘ کا رہنے والا
تھا میرے ساتھ
روانہ کیا۔
ہم رات ایک
بجے مخدوم
پور شریف پہنچے
کافی رات ہو
گئی تھی۔ میں
نے بجائے کسی
کو جگانے کے
مسجد میں ہی
آرام کرنا
مناسب سمجھا
جو نہی مسجد
میں داخل ہوئے
سامنے دیکھا
تو دربار شریف
کا دروازہ
کھلا تھا اور
بتی (لالٹین)
جل رہی تھی
(بجلی اس وقت
نہیں تھی ) ہم
دونوں دربار
شریف کی طرف
گئے دیکھا
تو جناب اکیلے
ہی تشریف فرما
تھے۔ ہم نے
قد م بوسی کی
جناب نے فرمایا
کہ بیٹا تمہارے
لیے چائے رکھی
ہے وہ پی لیں۔
چائے بالکل
تازہ تھی قربان
جاؤں سرکار
کی محبتوں
کے کہ ایسے
ماں باپ بھی
شاید انتظار
نہ کرتے ہوں
جیسا کہ جناب
اپنے مریدوں
کے لیے کرتے
تھے جبکہ جناب
کو ظاہر اً
ہمارے آنے
کی اطلاع نہیں
تھی مگر باطناً
سب کچھ پتہ
تھا اس لیے
تو ہی رات گئے
تک انتظار
فرما رہے تھے
۔
پیرانِ عظام
اپنے مریدوں
سے محبت کرتے
ہوں گے مگر
جس طرح جناب
خالصتاً سنت
نبوی پر عمل
کرتے ہوئے
اپنے مرید
کے لیے دل و
جان قربان
کرتے تھے اس
کی نظیر ملنا
بھی فی زمانہ
مشکل ہے ۔
جناب نے ایک
دراز کھولی
اس میں سے ایک
قیمتی پتھر
سے بنا ہوا
ھار نکالا
پھر اپنے دستِ
مبارک سے وہ
ہار میرے گلے
میں ڈال دیا
ملک رمضان
نے پوچھا کہ
جناب یہ ہار
آپ نے ملک صاحب
کے گلے میں
کیوں ڈالا
ہے۔ سرکار
نے انتہائی
حکمت سے جواب
دیا جو کہ رمضان
کے ذہن کے مطابق
تھا فرمایا
رمضان بیٹا
تم مویشی رکھتے
ہو ان مویشیوں
میں سے جو تمہیں
پیارا لگے
اس کے گلے میں
کوئی پیاری
سی ’’گانی ‘‘ یا
ہار ڈالتے
ہیں ناں ! مطلب
یہ تھا کہ مریدوں
میں سے مجھ
یہ بہت ہی پیارا
ہے اس لیے اس
کے گلے میں
ہار ڈالا ہے
۔پھر رمضان
کو ایک تسبیح
عطا فرمائی
کچھ دیر تک
غلام جیلانی
صاحب کی باتیں
کرتے رہے پھر
فرمایا کہ
بیٹا آرام
کرو صبح ملاقات
ہوگی۔صبح جناب
سے ملے جناب
نے اجازت مرحمت
فرمائی اور
ساتھ ہی حکم
صادر فرمایا
کہ سیدھا گنجیال
شریف جانا
ہے اور شاہ
صاحب سے مل
کر گھر جانا۔
میں نے حکم
کی تعمیل کی
شاہ صاحب سے
ملے شاہ صاحب
نے جناب کی
خیر خیریت
دریافت کی
اچانک میری
نظر شاہ صاحب
کے گلے پر پڑی
تو ایسا ہی
ایک ہار جو
کہ میرے گلے
میں پیر صاحب
نے ڈالا تھا
ویسا ہی ہار
شاہ صاحب کے
گلے میں بھی
تھا۔ جو کہ
آج سے پہلے
نہیں تھا میرے
ہار سے شاہ
صاحب کا ہار
تھوڑا بڑا
تھا ۔ آپ نے
میری نظروں
سے نظر ملائی
اور مسکرا
کر اپنے ہار
کی طرف اشارہ
کرکے فرمایا
کہ مجھے یہ
ہار ملا ہے
۔ آپ کو کیا
ملا ہے دکھائیں
میرا ہار قمیض
کے اندر تھا
میں نے قمیض
سے باہر نکالا
شاہ صاحب نے
دیکھا اوربہت
خوش ہوئے وہ
ہار آج تک میرے
گلے میں موجود
ہے ۔
سید غلام جیلانی
صاحب کا وصال
پیر صاحب سے
سات سال پہلے
ہوا پھر بھی
مجھے حکم تھا
کہ شاہ صاحب
کے مزار سے
ہو کر میری
طرف آنا ہے
سرکار کے وصال
تک میرا معمول
یہی تھا ۔
حضور سیدی
و مرشدی سید
رسول شاہ خاکی
کی کرامات
کا ذکر آئے
تو میں اتنا
ہی کہوں گا
کہ جن کو آپ
سے حقیقی نسبت
ہے ان مریدوں
کے دل میں مستقبل
میں آنے والے
واقعات کی
خبر وار د ہوتی
رہے گی۔ یہ
فیض مبارک
سرکار کے قدموں
کے توسل سے
بہت بڑا انعام
ہے۔ مرید میں
کوئی طاقت
نہیں ہوتی
سب کچھ مرشد
کی طرف سے ہوتا
ہے ۔آپ نماز
روزہ میں سخت
پابندی فرماتے
۔ تصوف میں
آپ ا مقام بہت
بلند تھا جو
بھی آپ کے درِ
اقدس پر آیا
جناب نے اس
کو فیض یاب
کیا۔ گلاب
کی روح اس کی
خوشبو ہوا
کرتی ہے اور
جہاں گلاب
ہو وہاں خوشبو
ضرور ہوتی
ہے۔ آپ کی روح
پاک آج پیر
قلندر سید
محمود الحسن
شاہ خاکی صاحب
کی شکل میںہمارے
سامنے موجود
ہے اور ایک
عالم کو اپنی
خوشبو سے معطر
کیے ہوئے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
محمد حنیف
صاحب
دانت کا درد
اسی وقت ٹھیک
ہو گیا
مرید گاؤںسے
محمد حنیف
صاحب فرماتے
ہیں کہ اولیاء
کی زندگی کا
احاطہ کرنا
بڑا مشکل کام
ہے ان کی زندگی
کا ہر ہر لمحہ
کرامات و حکمت
سے بھر پور
ہوتا ہے فقراء
کے پاس بیٹھنے
والے کا اپنا
اپنا ظرف اور
ذہانت ہوتی
ہے کہ وہ کس
گہرائی تک
سمجھ سکتا
ہے تاہم بعض
واقعات ایسے
ہوتے ہیں کہ
جن کو ہر خاص
و عام دیکھ
و سمجھ سکتا
ہے ۔ ایک دفعہ
میرے دانت
میں شدید درد
تھا میں جناب
کی خدمت میں
حاضر ہوا تاکہ
دم کرواؤں
میں دربار
میں پہنچا
اس وقت کے ڈپٹی
کمشنر چکوال
لیاقت علی
نیاز ی صاحب
پیر صاحب کے
پاس بیٹھے
ہوئے تھے کچھ
علمی گفتگو
ہو رہی تھی
ڈپٹی کمشنرصاحب
نے فقہ میں
PHDکی ہوئی تھی
اس کے باوجود
علمی اور روحانی
پیاس بجھانے
کے لیے شام
کو اکثر جناب
کی خدمت میں
حاضری کے لیے
آتے۔ پیر صاحب
کے پاس گھنٹوں
بیٹھ کر باطنی
دولت سے مالا
مال ہوتے۔
ان کی گفتگو
کے دوران میں
جناب کو دانتوں
کی تکلیف کا
عرض کیا جناب
نے مجھے خاموش
رہنے کا اشارہ
کیا اور پھر
محو گفتگو
ہو گئے۔ ہماری
خوش قسمتی
اور جناب سے
پیار تھا کہ
ہماری غلطی
کو معاف فرما
دیتے ۔ تھوڑی
دیر کے بعد
میں نے پھر
جناب سے عرض
کیا دانت کو
شدید درد ہے
آپ نے گفتگو
منقطع کرتے
ہوئے جلال
میں فوراً
قلم اٹھایااور
کاغذ پر کچھ
لکھ کر دیا
فرمایا اس
جگہ پر رکھو
جہاں درد ہے
اور منہ بند
کرو چپ کر کے
بیٹھو اور
پھر DCصاحب سے
محو گفتگو
ہو گے وہ دن
اور تا دم حیات
دانت گھس گئے
ہیں مگر درد
نہیں ہوا مجھے
یقین ہے انشااللہ
کہ قلندر کی
کرامت ہے آئندہ
کبھی درد ہوگا
بھی نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
محمدنجم الحسنین
مجوکا صاحب
جھنگ سے نجم
الحسنین صاحب
حضور پیر صاحب
کے فرمودات
لکھواتے ہیں۔
1 - آپ نے فرمایا
کہ ہم ایک دفعہ
حضرت سخی سلطان
باہوکے مزار
پر حاضری کیلئے
گئے تو آپ )سخی
سلطان باھو(
ہمیں مسجد
کے صحن میں
آ کر ملے گلے
سے لگا یا اور
فرمایا آؤ
خوش بخت۔ پھر
ہم رات وہیں
ٹھہرے۔ ہم
نے کہا ہم اس
وقت تک کچھ
نہیں کھائیں
گے جب تک کسی
نے خود کچھ
نہ کھانے کو
دیا۔ جب لو
گ سو گئے تو
ہمیں دودھ
کا بھراہوا
بڑا پیالہ
دیا گیا وہ
ہم نے پی لیا
۔
2 - ہم تقریباً
سات سال کے
تھے ہمارے
دادا جی بیمار
تھے اور میںان
کی چار پائی
کے پاس کھڑا
تھا ۔ دادا
جی نے کہا بیٹا
تم ابھی تک
ادھرہی ہو
۔ بس ہم وہیں
سے بھا گ پڑے
۔ میرے گلے
میں ایک سبز
چولہ تھا گھٹنوں
تک اور جوتی
بھی نہ تھی
۔ پھر ہم کبھی
بھی گھر نہ
گئے۔
3 - پیر صاحب فرماتے
تھے ہمارے
دائیں پاؤں
کی ایڑی میں
ہر ولایت ہے
۔ اُسوقت وہاں
ادارہ منہاج
القرآن کے
تین یا چار
طالب علم بیٹھے
تھے۔پیر صاحب
نے ان کو متوجہ
کیا اور فرمایاجس
طرح نبوت چالیس
سال کے بعد
ملتی ہے اسی
طرح ولایت
بھی چالیس
سال بعد ملتی
ہے۔
4 - ایک دفعہ میں
آپ کی خدمت
میں حاضر ہوا
اور عرض کی
کہ حضور اب
میں یہیں رہنا
چاہتا ہوں۔میرا
گھر جانے کو
دل نہیں کرتا
اور میں آپ
کو چھوڑ کر
نہیں جاؤ ں
گا ۔ آپ نے فرمایا
میاں جاؤ۔
میں نے پھریہی
عرض کی یہاں
تک کہ اصرار
بھی کیا اور
تکرار بھی
۔ پھر آپ نے
مجھے اپنے
قریب قدموں
میں بٹھایا
اور فرمایا
تمھارے ماں
باپ ہیں ۔ میںنے
عر ض کی جی ہاں
آ پ نے فرمایا
بہن بھائی
میں نے کہاجی
ہیں۔ پھر آپ
نے فرمایا
بیوی بچے بھی
ہیں میں عرض
کی جی ہاںپھر
آپ نے فرمایا
نوکری کتنی
رہتی ہے میں
نے عرض کی حضور
گیارہ سال
باقی ہیں(میں
ائر فورس میں
سروس کرتا
ہوں)۔ آپ نے
فرمایا او
ہو ابھی تو
بہت زیادہ
رہتی ہے۔ ایسا
کرو کہ جاؤ
مُنڈے ڈیوٹی
دو خوب کماؤاور
والدین کی
خدمت کرو یہاں
تک کہ وہ راضی
ہو جائیں ۔
جب تک والدین
زندہ ہیںان
کی خوب خدمت
کرو ۔ جب تک
والدین ہیں
پہلے وہ پھر
ہم سات ولی
اللہ بھی مل
کر کسی کا اتنا
بھلا نہیں
کر سکتے جتنا
کہ اس کے والدین
۔اگر یہ حضور
صلی اللہ علیہ
وسلم کا راستہ
ہے تو پہلے
والدین پھر
ہم اور اگر
کاروبار ہے
تو ) آپ نے کانپتے
ہوئے ہاتھوں
سے اپنی داہنے
طرف قمیض کی
جیب ایک ہاتھ
سے کھولی اور
دوسراہا تھ
اس میں ڈالتے
ہوئے فرمایا
( پہلے ہم پھر
کوئی اور ۔
آجکل لوگو
ں نے بزنس بنالیا
ہے اور لوگوںکو
زبر دستی پکڑ
پکڑ کر مرید
کر تے ہیں ہم
ایسا نہیں
کرتے ۔ مزید
فرمایا جب
تک والدین
ہیں ان کو راضی
رکھو ہم آپ
پر راضی ہیں
پھر آپ کو بلالیں
گے ۔
ایک اور موقع
پر فر مایا
تھا کہ ہم مریدین
کے پاس صرف
اس لیے جا تے
ہیں کہ سارے
مرید ملنے
نہیں آ سکتے
اور ہمارے
ساتھ بمشکل
ایک یا دو آدمی
ہو تے ہیں ۔
ریوڑ نہیں
لے جاتے اور
ہمارے بیٹے
بھی کبھی نہیں
جاتے ۔(یہ 1994 جولائی
کے آخر کی بات
ہے) ۔
5) - ایک دن دو عورتیں
آئیں شاید
چکوال شہر
کی تھیں ،ان
کا بچہ گم ہو
گیا تھا ۔ عر
ض کرنے لگیں
حضورہمارا
بچہ گم ہو گیا
ہے کوئی پتہ
نہیں چل رہا
کہ کہاں ہے
۔ آپ نے فرمایا
مائی جاؤ مل
جائے گا وہ
چلی گئیں۔
دوسرے دن پھر
اسی ٹائم( یعنی
نو یا دس بجے
دن میں) دوبارہ
آئیںاور کچھ
فروٹ بھی ساتھ
لائیں جو آپ
نے مریدین
میں بانٹ دیا
۔ پھر وہی بائیں
ہوتیں اوروہ
عورتیںواپس
چلی گئیں ۔
ایک دن چھوڑ
کروہی عورتیں
تقریباً ظہر
کے بعد کا ٹائم
تھاپھر آئیں،
فروٹ پیش کیا
اور کہنے لگیں
یہ فروٹ کھا
لیں پر دعا
کریں کہ بچہ
مل جائے ہم
پہلے بھی فروٹ
لائی تھیں
ہمارا بچہ
نہیں ملا۔
آج پھر لائیں
ہیں جیسے بھی
ہو ہمارا بچہ
مل جائے ۔ آپ
تکیے کی ٹیک
لگا کر بیٹھے
تھے کہ جلا
ل میں آگئے
اور یکدم سید
ھے ہو کر بیٹھ
گئے(وگرنہ
عموماً آپ
کو پکڑ کر سید
ھا کرنا پڑتا
تھا)آپ نے کچھ
ایسے الفاظ
فرمائے ۔’’ ہم
ادھر کھا نے
کے لے نہیں
بیٹھے ہم خدا
کی رضا کے لیے
بیٹھے ہیں
اس کی رضا کے
مطابق چلتے
ہیں‘‘ ۔ جاؤ بچہ
مل جائے گا
اگر اللہ کو
منظور ہو۔اس
پر عورتیں
کہنے لگیں
نہیں حضور
ہم گھر جائیں
تو ادھر بچہ
پہنچا ہو ا
ہو ۔ آپ نے فرمایا
جا ؤ تمہارے
جانے سے پہلے
بچہ گھر پہنچا
ہو گا تم سید
ھی گھر جاؤ
۔جیسے ہی وہ
دربار شریف
سے باہر نکلیں
آپ نے مجھے
فرمایا کہ
مجھے اٹھاؤ۔میں
نے آپ کو اٹھایامیرے
سا تھ ناصر
) ادارہ منھاج
القرآن سٹوڈنٹ
فرام جھنگ
( نے بھی مدد
کی۔ میں نے
آپکا بائیں
بازو اپنے
کندھے پر رکھااورآپکو
سہارا دیا
کہ اندر کمرے
میں لیٹادوں
ایک دو قدم
ہی چلے کہ آپ
کو قے آئی جو
میں نے اپنی
چادر ) کپڑے
( میں محفوظ
کر لی تاکہ
نیچے نہ گرے
) وہ کپڑا اب
بھی میرے پا
س محفوظ ہے
( پھر اسی حالت
میں چلنے لگے۔
آپ بار بار
پو چھتے میاں
نجم کدھر ہے
میں عرض کرتا
حضور میں آپ
کے ساتھ ہو
ں۔ پھر فرمایا
وہ نجم کدھر
ہے میں با ربا
ر عرض کرتا
حضور آپ کے
ساتھ ہوں میں
حاضر ہوں دربار
شریف سے آرام
گاہ تک تقر
بیا سات سے
آٹھ با ر پوچھا
ہو گا کہ نجم
کدھر ہے ۔ آرام
گاہ کے دروازے
پر با قی لڑکو
ں کو کہا کہ
آپ باہر جائیں
نجم بیٹا تم
آجاؤ مجھے
لیٹا دو پھر
میں نے لٹا
یا ہی تھا کہ
دبانے کو فرمایا
۔ بس دو چار
بار باز و دبایا
تھا کہ اندر
سے امی حضور
کی آواز آئی
آپ مجھے فرمانے
لگے بھا گ جاؤ
باہر جاؤ تیزی
سے۔اہلِ خانہ
والے آرہے
ہیں۔پھر آپ
بیمارپڑ گئے
اور اس کے بعد
آپ مکمل صحت
یاب نہ ہوئے
۔
6 - ایک دفعہ فرمانے
لگے ہمارا
جو بڑا بیٹا
ہو تا ہے وہ
اس مقام پر
نہیں رہتا۔
وہ جگہ چھوڑ
کر کہیں چلاجا
تا ہے اور نئی
جگہ چلا جاتا
ہے۔ یہ شروع
سے ہمارے خاندان
میں چلا آ رہا
ہے اور یہ جو
ہے نہ محمود
یہ بھی چلا
جائے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭
محمد اقبال
صاحب
محمداقبال
صاحب لاھور
سے فرماتے
ھیںکہ میںتقریباً
ہفتہ بعد اور
کبھی دو ہفتہ
بعد پیر صاحب
کے پاس چکر
لگاتا رھتاتھا
مگر پیر صاحب
نے مجھے بیعت
نہیں کیا۔
حضو ر پیر صاحب
کی معیت میں
آٹھ سال گزارنے
کے بعدمجھے
مُرید ہونے
کا شرف حاصل
ہوا۔ مسجدعلی
(واقع مخدوم
پور شریف)کی
بنیادرکھی
تو میں اُس
وقت وہاں موجود
تھا۔ پیر صاحب
نے مجھے فرمایا
کہ بیٹا بنیاد
تم رکھوگے
پتھر اُٹھاؤ
اور شروع ہوجاؤ۔
میں نے یہ بات
سن کر حضور
پیر صاحب کی
طرف دیکھاتو
مجھے رونا
آگیا۔ میں
نے عرض کی حضور
اتنا مقدس
کام اور کہاںمجھ
سابندہ ناچیز
پیر صاحب نے
فرمایا بیٹا
یہ اللہ تعالی
کا گھر ہے اسکو
مکمل وہی فرمائے
گا بسم اللہ
کرو۔ یوںمسجد
علی کی بنیاد
رکھی گئی۔
اس وقت عرس
کے موقع پر
پانی کا بہت
مسئلہ تھا۔ہم
لوگ چشمہ سے
پانی بھر کر
لاتے تھے۔
بعد میں کچھ
ڈرم میں لاہور
سے لے گیا جس
سے ہمیں قدرے
آسانی ہوگئی۔
ایک مرتبہ
ہم چار پانچ
دوست بیٹھے
باتیں کررہے
تھے کہ ایک
دوست نے کہا
کہ یار لوگوں
کے پیر تو اپنے
مُریدوں کیلئے
کاریں، کوٹھیاں،
روپیہ پیسہ،
باہر کے ملکوں
کی سیراور
دولت فراہم
کرتے ہیں جبکہ
ہمارے پیر
صاحب تو ہمیں
کچھ نہیں دیتے
۔
ایک دفعہ ہم
کچھ احباب(پیربھائی)
گفتگو کررہے
تھے ایک نے
کہا کہ یا ر
لوگوں کے پیر
صاحبان تو
اپنے مریدین
کو دنیاوی
لحاظ سے مالامال
کر دیتے ہیں
لیکن ہمارے
پیر صاحب ایسا
نہیں کرتے
ہیں۔ان تمام
پیر بھائیوں
کے ساتھ حضور
پیرصاحب کی
خدمت میں حاضر
ہوا اور و ہی
ساری با ت من
عن بیان کردی۔حضور
پیر صاحب نے
فرمایا اللہ
کریم تم سب
کی دُنیا بھی
بہتر کرے اور
آخرت بھی اس
واقعہ کے کچھ
ہی عرصہ بعد
میں نے دیکھا
کہ وہ تمام
احباب مالی
لحاظ سے مستحکم
ہو گئے ان میں
سے بیشتر تو
بیرون مُلک
چلے گئے اور
بقایا بھی
مالی لحاظ
سے بہتر ہوگئے۔
یہ حضور پیر
صاحب کی زندہ
کرامت تھی
جس کا میں شاہد
ہوں۔ مجھے
ایک دن حضور
پیر صاحب نے
فرمایا بیٹا
مال سے کبھی
محبت نہ کرنا۔
یہ بہت ظالم
چیز ہے۔ اگر
تم میرے کہنے
پر دن کی پانچ
نمازیں ادا
کرو تو انشااللہ
خُدا کی رحمت
سے مالامال
ہوجاؤگے۔ یعنی
ہر نعمت مل
جائے گی۔ دینی
و دنیاوی تمام
مشکلات دور
ہو جائیں گی
اگر آپ کو کوئی
تکلیف پیش
آجائے تو مجھے
گریبان سے
پکڑلینا ۔
پیر صاحب لاہور
سب سے پہلے
ہمارے گھر
جاتے تھے ہم
بہت غریب تھے
ایک مرتبہ
پیر صاحب تشریف
لائے اور جب
ہمارے گھر
سے جانے لگے
تو میںنے گھر
کا دروازہ
کھولا میری
بیوی رونے
لگی پیر صاحب
نے اس کے سر
پر ہاتھ رکھا
وہ کہنے لگی
پیر صاحب ہم
بہت غریب ہیںہمارا
ابھی اور کتنا
امتحان باقی
ہے آپ نے فرمایا
بیٹی ابھی
تو یہ پہلا
امتحان ہے
۔
میں ایک مرتبہ
لاہور میں
کسی شخص سے
کاروباری سودا
کررہا تھا
اچانک میرے
دل میں خیال
آیا کہ پیر
صاحب کی اجازت
بغیر یہ سودا
نہ کروں۔ میں
نے اس شخض سے
معذرت کی اور
گھر واپس چلا
گیا۔اسی رات
9 بجے چکوال
پہنچا۔ صبح
پیر صاحب کی
خدمت میں حاضر
ہوا آپ فرمانے
لگے کل تم ایک
شخص سے کاروباری
سودا کررہے
تھے مگر تم
نے اس شخص سے
سودا کیا نہیں
۔ جب میں نے
یہ بات سنی
تو میرا یقین
اور ایمان
مزید پختہ
ہو گیا ۔ کہ
میرے مُرشدِ
کریم مجھے
ہر وقت اپنی
نگاہ میں رکھتے
ہیں۔
آفات سے بچانا
ایک مرتبہ
میں اور محمد
حسین عرس پاک
کے لیے مخدوم
پور شریف جارہے
تھے ہم لاہور
سے بالکل نئی
بس پربیٹھے۔ہم
ڈرائیور سے
پیچھے تیسری
سیٹ پر تھے
۔ بس کاایک
ٹرک سے راستے
میں ایکسیڈنٹ
ہو گیالوگوں
کو کانی چوٹیں
آئیں ۔ میں
اور محمد حسین
معمولی زخمی
ہوئے بس مکمل
طور پر تباہ
ہوگئی۔ بس
کے کنڈیکٹر
نے پیچھے اڈے
میں فون کیا
تھوڑی دیر
بعد دوسری
بس آگئی ۔ وہ
تباہ شدہ بس
اور ٹرک دونوں
کو سڑک کے ایک
سائیڈ پر کھڑا
کردیا گیا
ہم دوسری بس
میں سوار ہو
کر چکوال پہنچے
۔ جب ہم یہاں
پہنچے تو اذا
نیں ہونے والی
تھیں ابھی
دربار شریف
بند تھا ۔ مگر
اچانک پیر
صاحب کی آواز
سنائی دی مولانا
نور محمد صاحب
کو آپ نے پکارا
کہ مولانا
صاحب باہر
محمد اقبال
اور محمد حسین
آئے ہیں انہیں
دیکھو راستے
میں ان کی گاڑی
کو حادثہ پیش
آگیا تھا وہ
ٹھیک ہیں یا
کہ نہیں( ہم
نے یہ تمام
باتیں باہر
سے سنیں) ۔
ہم حیران ہو
گئے پیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوئے
۔ دربار کا
وقت تو صبح
سات بجے تھا
مگر آج اذان
کے وقت پیر
صاحب دربار
میں بیٹھے
تھے آپ نے ہمیں
اپنے دونوں
ہاتھ دکھائے
اور فرمایا
میںنے بس کو
روکنے کی بہت
کوشش کی مگر
بے سود کیونکہ
اب میں بوڑھا
ہو گیا ہوں
یہ دیکھو میرے
ہاتھ بھی زخمی
ہو گئے ہیں
۔
پیر مُریداں
دے سر اُتے
رہیندے
ایک مرتبہ
مریدین میں
سے ایک بندہ
کہنے لگا پیر
صاحب ہم آپ
کو لاہور سے
ملنے آتے ہیں
کیا آپ لاہور
نہیں آسکتے۔
پیر صاحب نے
فرمایا کہ
میں لاہور
میں تمہیں
روز مل سکتا
ہوں مگر تمھارے
گھر پر نہیں
تم لوگ عشاء
کی نماز کے
بعد داتا صاحب
پہنچ جایا
کرو۔وہاں تم
نے داتا صاحب
کے سرہانے
کھڑے ہو کر
درود شریف
پڑھنا،میں
تمھارے کندھوں
پر ہاتھ رکھ
کے کھڑا ہوں
گا تم لوگ مجھے
دیکھ سکتے
ہو مگر مجھے
بلانا نہیں
صرف درود پاک
پڑھتے رہنا
اور مجھے دیکھتے
رہنا۔پیر صاحب
ایک مرتبہ
فرمانے لگے
کہ جب کوئی
مرید میری
طرف آتا ہے
گھر سے لے کر
پیر خانے تک
اور پیر خانے
سے لے کر گھر
تک میں اس کے
ساتھ ہوتا
ہوں اسے اپنی
حفاظت میں
رکھتا ہوں
اس کی حفاظت
میرا ذمہ ہے
۔
خوش الحانی
پیر صاحب جب
ختم پڑھتے
تو ان کی آواز
مبارک اتنی
خوبصورت ہوتی
کہ دل کو محصور
کر لیتی ان
کی آوازمیں
جادو کی سی
تاثیرہوتی
تھی ۔ میں نے
دنیا میں ان
جیسی آواز
کسی ولی اللہ
کی کسی نعت
خواں کی کسی
گانے والے
کی نہیں سنی
۔ ان جیسی آواز
مجھے دنیا
میں اور کہیں
نہیں سنائی
دی ان کی آواز
ایسی تھی کہ
جسم کے زخم
ٹھیک کر دیتی
جس طرح مرہم
سے زخم ٹھیک
ہو جاتا ہے۔
مال ومتاع
لینے سے انکار
ایک مرتبہ
پیر صاحب کی
خدمت میں بغداد
کی طرف سے ایک
سیّد صاحب
تشریف لائے
اور فرمانے
لگے کہ عزت
ما ب پیر صاحب
آپکے والد
صاحب غوث پاک
کے ہاں بغداد
میں گدی نشین
تھے چنانچہ
وہاں بغداد
میں آپ کا کروڑوں
روپیہ ہمارے
ذمہ ہے لہذا
آپ بغداد تشریف
لائیں تا کہ
وہ رقم آپکے
حوالے کی جا
سکے ۔ پیر صاحب
فرمانے لگے
کہ مجھے روپیہ
پیسہ نہیں
چاہیے ۔ وہ
سیّد صاحب
بہت خوبصورت
وخوب سیر ت
تھے دراز قد
تھے مگر پیر
صاحب نے ان
کے ساتھ جانے
سے انکار کردیا
۔
ایک دفعہ مدینہ
شریف سے کچھ
لوگ آپکی خدمت
میں تشریف
لائے اور کہنے
لگے کہ پیر
صاحب آپ ہمارے
پاس مدینہ
تشریف لے آئیں
وہاں آپ کے
لیے اور آپ
کی اولاد کے
لیے کوٹھیا
ں اور خرچ وغیرہ
کا انتظام
کر دیا جائے
گا۔غرض تمام
ضرورت زندگی
گورنمنٹ کی
طرف سے آپ کو
بہم پہنچائی
جائیں گیں۔
مگرجناب پیر
صاحب فرمانے
لگے مدینہ
پاک میں تو
کملی والے
جناب حضرت
محمد موجود
ہیں یہاں پر
یہ لوگ بہت
بے سہارا ہیں
اور میں ان
لوگوں کو نہیں
چھوڑ سکتا
میں ان کے پاس
رہوں گا۔
طالبِ صادق
لیاقت صاحب
پیر صاحب کے
مرید خاص تھے۔
لیاقت صاحب
کو پیر صاحب
نے امریکہ
بھیجوا یا
اس نے امریکہ
پہنچ کر 250 انگریز
مسلمان کیے
اور مسجد کی
بنیادبھی رکھی۔
اس کی وفات
کے وقت جب اس
کی لاش پاکستان
لائی گئی تو
لاہور ائیر
پورٹ پر طوفان
کے باعث جہاز
کو راولپنڈی
اتانے کا فیصلہ
کیا گیا جہاز
چکوال کے قریب
پہنچا تو جہاز
کو پیر صاحب
کے دربار کے
تین چکر لگوائے
گئے اور پھر
جہاز کو راولپنڈی
اتارا گیا
بعد میں پیر
صاحب نے وہاں
ایک مزار بنوایا۔
خواجہ قاسم
موہڑوی اور
غوث پاک ان
دونوں ہستیوں
کا جب بھی نام
آتا یا تذکرہ
ہوتا تو جناب
پیر صاحبزاروقطارروتے
۔برسات کے
موسم کی مانند
ہوجاتے اور
بہت روتے کیونکہ
ان کا یہی تو
روحانی سلسلہ
تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭
احمد نواز
صاحب
ڈھکو (چکوال)
سےاحمد نواز
صاحب فرماتے
ہیں ایک دفعہ
میں گھر پر
سویا ہوا تھا
۔ کہ اس وقت
قبلہ پیر صاحب
حیات تھے کہ
نماز کا وقت
جارہا تھا
پیر صاحب کا
خواب میں دیدار
کچھ اسطرح
نصیب ہوا کہ
ہمارے صحن
میں ایک درخت
تھا سرکار
اس درخت کے
نیچے تشریف
فرما ہوئے
اور حیران
کن نظروں سے
مجھے دیکھ
رہے ہیں جیسے
کہہ رہے ہوں
اٹھ اور نماز
ادا کر ۔ میں
اٹھا تو نماز
کا وقت جارہا
تھا بہر حال
میں نے نماز
ادا کی ۔
دوسرا واقعہ
کچھ اسطرح
ہے جس کو گزرے
تقریبا کم
وبیش ڈھائی
سال کا عرصہ
ہوگیا ہے میں
گاؤں سوہیر
گیا جو ضلع
چکوال میں
ہے ۔رات وہاں
پر گزاری گرمیوں
کا موسم تھا۔
ہاں پر بجلی
بھی نہیں ہے
۔ رات کو نیند
نہیں آرہی
تھی تقریبا
آدھی رات کا
وقت تھا کہ
میں نے قبلہ
پیر خاکی شاہ
کو کچھ اسطرح
یا د فرمایا
کہ سرکار اپنا
دیدار کرئیں
۔ میرے منہ
سے یہ لفظ نکلے
ہی تھے کہ مجھ
کو انکھ سی
آ ئی دیکھتا
ہوں کہ پیر
صاحب جہاں
ظاہری حیات
میں تشریف
رکھتے تھے
وہاں بیٹھ
کر نفل ادا
فرما رہے ہیں
۔
تیسری بات
کچھ اسطرح
ہے یہ چیز اکثر
میرے ساتھ
ہورہی ہے کہ
میں جب بھی
سرکار کے مزار
شریف میں جاتا
ہوں اندر داخل
ہو تا ہوں تو
اسطرح پتا
چلتا ہے کہ
پیر صاحب مجھ
کو کہہ رہے
ہوں کہ آجا
آجا میرے قریب
آجا اور میں
پیچھے رہ ہی
نہیں سکتا
اور قبر مبارک
کے سرہانے
کی طرف بیٹھ
جا تا ہوں ۔
تو آنکھیں
بند ہوں یا
کھلی ہوں اسطرح
محسوس کر تا
ہوں جس طرح
پیر صاحب اپنی
حیات مبارک
میں ظاہری
طور پر تشریف
رکھتے تھے
اور پیر صاحب
کا مجھکو سبز
لباس میں دیدار
نصیب ہوتا
ہے۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>