بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

شیخ لیاقت علی قادری صاحب

لاہور سے شیخ لیاقت صاحب اپنا ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں۔
میں سیدنا طاہر علاوالدین القادری الگیلانی البغدادی کا ایک ادنیٰ سا سگ ہوں حضور قدوۃالاولیا سلطان المجذوبین قلندر زماں سید رسول شاہ خاکی  کی ذات ستودہ صفات سے میرا پچھلے گیارہ سال سے ادب ومحبت کا تعلق ہے۔میں اپنی زندگی کاایک واقع تحدیث نعمت کیطور پر بیان کرنا چاہتاہوں۔اسطرح کے واقعات مُریدین مخلصین کے لے تحفہ،امانت اور تقویت قلب کا باعث ہوتے ہیں اور اِن کو نہ بیان کر نا بھی بددیانتی اور خیانت کے زمرہ میں آتاہے۔واقعہ یوں ہے کہ حضور قبلہ پیر سید رسول شاہ خاکی کے ایک مُرید خالد مسعود صاحب کی دوکان (پاکستان فوٹو سینٹر) پر ایک شخص جسکا سیاسی تعلق میاں نوازشریف سے تھااکثر پروفیسرڈاکٹر محمد طاہر القادری کو بہت بُرا بھلا کہتا تھا۔ حسن اتفاق سے ایک دن میں بھی وہیں موجود تھا۔ یہی بحث چل نکلی تو میں نے پوچھا حضرت آپ کہاں بیعت ہیں اُس نے جواب دیا میں صوفی برکت علی قادری صاحب (فیصل آباد)کا مُرید ہوں میں نے عرض کی کہ حضرت ان بحثوں میں کیا رکھا ہے آپ اپنے شیخ کامل سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھ لینا۔
اُس نے جواب دیا کہ صوفی برکت علی صاحب نے مجھے لاہور ریلوے اسٹیشن پرموجود ایک مجذوب کی طرف رابطہ کرنے کا فرمایاہواہے کہ تجھے جب کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہو توسیڑھیوں پر لیٹے ہوے شاہ صاحب کو بیان کر دینا وہ جواب دیں یانہ دیں صرف بیان کرنا تمہارا فرض ہے تمہارامسئلہ حل ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی تو پھر تم نے مسئلہ ہذا کو اُن مجذوب شاہ صاحب سے بیان کیوں نہ کیا۔ میں نے کہاچلوہم سب چلتے ہیں۔ہم تمام افراد(جن میں خالدمسعود،ظفر اقبال ،حاجی محمد اشرف ،پروفیسر محمد خلیق حامد قادری، حفیظ صاحب،میں اور جن صاحب کو پروفیسرصاحب سے اعتراض تھا)معینہ جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ مجذوب شاہ صاحب رضائی اُوڑھے سورہے تھے میں شاہ صاحب کے قدمین کی جانب بیٹھ گیا۔ میں نے دل ہی دل میں اِن کو سلام پیش کیا اور کہا کہ شاہ صاحب اگرآپ واقعی مجذوب ہیں تو سلطان المجذوبین پیر سید رسول شاہ خاکی کا آپ کو واسطہ ہے کہ جس مسئلہ کی خاطر ہم حاضرہوے ہیں آپ نے اس کا ضرور جواب دینا ہے۔ بس اتنا کہنے کی دیر ہوئی تو وہ مجذوب شاہ صاحب یکدم اُٹھ بیٹھے اور فوراً مجھ سے سلام لیا اور مسکرا دئیے پھر اُس بندے نے شاہ صاحب کے ہاتھ دھلائے کُلّی کروائی۔ شاہ صاحب نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا مچھلی۔میں نے فوراً سکوٹر پکڑا اور لنڈا بازارسے مچھلی اور نان لایا۔ شاہ صاحب کانٹوں سمیت مچھلی کھا گئے مابعد اُنہوں نے کیلے، کینو،بوتل، چائے،سگریٹ،ٹافی سب کچھ مانگا میںنے سب کچھ حاضر کردیا(میراخیال ہے کہ وہ شائد مجھے آزماناچارہے تھے میرا ایمان پکا تھا اس لئے میں ثابت قدم رہا) ۔
وقت رخصت میں نے عرض کی شاہ صاحب تحریک منہاج القرآن اور قائد تحریک کے متعلق وضاحت فرمادیں تو اُنہوں نے فرمایا’’قادری قادری قادری جیلانی جیلانی جیلانی حُکم ربانی ربانی مشن حقانی حقانی السلام وعلیکم‘‘ مجھے ہاتھ ملایا اور پھر رضائی میں سوگئے وہ بندہ بہت ہی حیران ہوا کہ مجھے دوسال ہوگئے ہیں میں مجذوب شاہ صاحب کے پاس آتا ہوں میرے سوالوں کا شاہ صاحب نے کبھی جواب نہیں دیا۔ اور کہنے لگا کہ میں نے اُس کو بتایا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ میں نے ابتدامیں شاہ صاحب کے قدموں میں بیٹھ کر یہ کہا تھاکہ اگر آپ واقعی مجذوب ہیں تو سلطان المجذوبین شہنشاہ جذب وسلوک قلندر سید رسول شاہ خاکی  کے صدقے ہمارے سوال کا جواب عطا فرمائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحب نے ہمیں اس سوال کا جواب عطافرمایا ہے اس شخص نے آئندہ کے لئے توبہ کرلی کہ وہ اب کبھی بھی پروفیسر صاحب کے خلاف زبان نہیں کھولے گا۔دوسرے دن میں کچھ اور احباب کو لیکر وہاں گیا تو وہ شاہ صاحب وہاں سے منتقل ہوچکے تھے۔

٭٭٭٭٭٭٭

کامران ایوب صاحب

بیعت ہونے کا واقعہ
پشاور سے کامران ایوب صاحب فرماتے ہیں بچپن سے ہی اللہ پاک نے مجھے روحانیت کی لگن عطا فرمائی تھی۔ حضور غوث پاک کا اسم گرامی سن رکھا تھااور آپ کے کمالات وعظمت سے بھی میں بہت متاثر تھا۔میری خواہش تھی کہ میںکسی ایسے اللہ والے کے ہاتھ پر بیعت کروں جومجذوب نہیں بلکہ مجذوبوں کاسردار ہو،قلندر نہیں بلکہ قلندروں کا امام ہواور نہ صرف غوث بلکہ غوث الا عظم  کا ثانی ہو۔
ایسے اعلیٰ اورعرفا انسان کی پہچان کوئی عظیم انسان ہی کروا سکتاتھااس مقصد کیلئے میں نے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کو ایک تفصیلی خط لکھا جسکے جواب میں اُنہوں نے مجھے مُرشدِ قلندان ،مجذوبان وسالکان حضرت پیر سید رسول شاہ خاکی کے دراقدس پر جانے کامشورہ دیا۔میں۲۶ جون ۱۹۹۴ء کو اُس مقدس ہستی کے آستانے پر قدم بوسی کیلئے حاضر ہوا۔بخدا جب شہزادئہ غوث الوریٰ پیر سید رسول شاہ خاکی کے چہرہ مبارک پر میری پہلی نظر پڑی تو گویا یوںمحسوس ہوا کہ میںپیران پیر دستگیر حضور غوث الاعظم کی بارگاہ میں جاپہنچاہوں۔میں نے نہایت ادب سے سلام کیا اور دست بوسی کی۔ پیر صاحب نے میرے سر کودونوں ہاتھوں میں تھام کر اپنے چہرہ اقدس کے قریب کرکے میری آنکھوں میں بہت پُرتاثیر انداز میں یوں دیکھا کہ میں سہم گیا۔سرکار نے مسکرا کر میری پشت پر دستِ اقدس مارا۔
تھوڑی دیر بعد سرکارنے آمد کا مقصد پوچھا تومیں نے پروفیسر صاحب کاوہ خط جس کے توسط سے میں یہاں پہنچا تھا آپ کو تھمادیااور بیعت کی استدعا کی۔ پیر صاحب نے خط پڑھ کر رکھ دیا اور مجھے بیعت فرمایا۔دورانِ بیعت ہی میرے دل کی حالت بدلنا شروع ہوگئی اور مجھے یوں محسوس ہواکہ میری ساری زندگی کے گناہ دھول گئے ہیں۔میں خود کو ہلکا ہلکا محسوس کررہاتھاپھر یکایک میری کیفیت بدلی اور میری آنکھوں میں آنسوں کا سمندر اُمڈ آیا۔
مسحورکُن خوشبو
اپنی پہلی ملاقات میں جوایک خاص بات میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ حضور پیر صاحب کے جسمِ اطہر سے اٹھنے والی عجیب مسحور کن خوشبو تھی۔وہ خوشبو واپسی پر مجھے پشاور تک محسوس ہوتی رہی گویا حضور پیر صاحب کا پیار مجھے الوداع کہنے آیا ہو۔ آج بھی یہ عالم ہے کہ جب میں پیر صاحب کو یاد کرتا ہوں تو وہ ہی خوشبو مجھے آنا شروع ہوگاتی ہے۔ حضور پیر صاحب کی زندگی تک یہ معمول رہا کہ جب میں آپ کی زیارت کو حاضر ہوتا تو مندرہ سے وہی خوشبو میرے ساتھ ہو جاتی اور دربار پچنے تک میرے ساتھ رہتی۔
ایک روز دو افراد آکر بیعت ہوئے۔ نشست برخاست ہوئی تو دربار سے باہر آکر انہوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ حضور پیرصاحب کی کوئی کرامت سناؤں۔
میں نے کہاسناؤں یا دکھاؤں۔وہ حیران ہوئے اور بولے اس سے اچھا کیا ہوسکتا ہے۔میں نے کہا آپ نے دیکھا کہ میں حضور پیر صاحب کے پاؤں دبا رہا تھا ۔ میں نے کہا حضور پیر صاحب کے بدنِ مبارک سے ہمہ وقت ایک مسحور کن خوشبو اٹھتی رہتی ہے چونکہ میں آپ کے پاؤں دبارہا تھاوہ ہی خوشبو میرے ہاتھوں میں بھی بس گئی ہے۔ انہوں نے فوراً میرے ہاتھ کو سونگھا اور کہاواللہ یہ تو وہ ہی خوشبو ہے جو دربار کے اندر سے آتی تھی۔
وارداتِ قلبی کاحصول
حضور پیر صاحب سے میری دوسری ملاقات محرم الحرام کے عرس پر ہوئی۔میںگھر سے سوچ کر گیا تھاکہ میں اسدفعہ حضور پیر صاحب سے وارداتِ باطنی کے بارے عرض کروں گااور دستِ سوال دراز کروں گا۔قدم بوسی اور حال احوال بتانے کے بعد جب میں نے لب کشائی کااردہ کیا تو قبل اسکے کہ میں کچھ کہتا پیر صاحب مجھ سے فرمانے لگے میاں لوگ بیعت ہوکر جاتے ہیں اور اگلی ہی ملاقات میں روتے پیٹتے آجاتے ہیں کہ ہمیں تو ابھی تک کچھ نہیں ملا، سب کچھ ابھی دیدیں ۔ ارے میاں یہ کوئی کھیل تونہیں ہے آہستہ چلنا چاہے آہستہ آہستہ سب ٹھک ہوجائے گا۔ میں ششدر رگیا اور شرمندہ بھی ہواکہ جمعہ جمعہ چار دن تومجھے ہوئے نہیں اور میں فوراً کامل بننا چاہتا ہوں۔
ایک دفعہ پھر میں پیر صاحب کے قدموں میں بیٹھا ہواتھااچانک میرے دل میں خواہش اُبھری کہ سرکار مجھے اِسی لمحے مجھے کچھ فیض عنایت فرمائیں۔اس خیال کے آنیکی دیر تھی کہ اُسی لمحے یوں لگا گویا کوئی کرنٹ یا آگ کا بگولا میرے سینے میں داخل ہو گیاہے۔ مجھے وہ چیز نظر تو نہ آئی مگر اُسکی حرارت اور تپش مجھے اپنے سینے میںمحسوس ہوئی میں کچھ لمحوں کے لئے خوفزدہ ہوگیا۔وہ ایک چنگاری تھی جو مرشد پاک نے سینے میں لگا ئی تھی اور جسے میں برداشت نہ کر سکا۔
ایک دفعہ مجھ سے پیر صاحب نے فرمایا ’’میں اگر تمہارے دامن میں آگ سے بھڑکتے ہوئے انگارے ڈالوں تو کیا اُس کو جھولی میں سنبھال لو گے‘‘ میں نے عرض کیا نہیں حضور یہ نہ ممکن ہے تو آپ نے فرمایا ’’تمہارادامن بھی جل جائے گا اور وہ انگارے بھی تمہارے پاس نہیں رہیں گے۔اس طرح وہ ضائع ہوجائیں گے اور اُن کی بے ادبی الگ ہوگی جس سے تم کو نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ چنانچہ پہلے اُس نعمت عظمیٰ،ولایت الہٰی کے اہل بن جاؤ تاکہ اس کو سنبھال سکو پھر دامن طلب دراز کرنا۔
ٹوپیوں کاملنا
۱۹۹۴ء محرم الحرام کے عرس کے موقع پردربار میں کافی لوگ بیٹھے تھے۔ ایک شخص جس کے ہاتھ میں ٹوپیوںسے بھرا کالے رنگ کا شاپنگ بیگ تھا حضورپیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے وہ ٹوپیاں حضور پیر صاحب کو یہ کہتے ہوئے(کہ حضور جسے چاہیں عنایت فرمادیں) پیش کردیں۔ زائرین میں ایک شخص ننگے سر بیٹھا تھا حضور پیر صاحب نے اُسے بلایا اور فرمایا تم کہاں رہتے ہو۔اُس اپنے شہر کا نام بتایاتو حضور پیر صاحب مسکرا کر بولے کیا تمہارے شہر میں ٹوپیاں نہیں ملتیں۔ سب لوگ ہنس دئیے حضور پیر صاحب نے اُس کے سر پر ایک ٹوپی پہنادی۔میں آپ  کے قدموں میں بیٹھا ہواتھایہ منظردیکھ کر میرے دل نے انگڑائی لی اور میں نے عرض کی حضور ایک ٹوپی مجھے بھی عنایت فرمادیں ۔ پیر صاحب نے فرمایا’’تمہارے سر پر تو ٹوپی ہے تم کیا کروگے‘‘۔ میں نے عرض کی سرکار ہے توسہی مگر آپ کے ہاتھوں کی عطاکردہ نہیں ہے مجھے بھی عطافرما دیں نشانی کے طور پر پاس رکھوں گا۔ حضور پیرصاحب نے ایک ٹوپی مجھے بھی عطا فرمادی۔مجھے دیکھا دیکھی سب نے فرمائش شروع کر دی حتیٰ کی دربار میں موجود جب ہر کسی کو ٹوپی مل گئی اور پیرصاحب نے کسی کومحروم نہ کیایہ حُسنِ اتفاق ہے کہ شاپنگ بیگ خالی ہوگیا۔پیر صاحب نے وہ شاپر میری جانب پھینکا اور فرمایااسے پیچھے ڈبے میں ڈال دو۔میں نے اُس خالی شاپر کومروڑ کر ڈبے میں ڈال دیا۔
اسی اثنامیں باہر سے ایک اورمرید دربار میں داخل ہواجب اسے معلوم ہوا کہ سب کو ٹوپیاں ملی ہیں تو اُس نے بھی دست طلب دراز کیا۔ پیر صاحب نے کچھ تامل فرمایا مگر جب وہ بضد رہا تو سرکار نے دائیں بائیں دیکھا اور مجھے فرمایا’’وہ شاپر اُس ڈبے سے واپس نکالو۔ میں حیران ہوگیا کہ خالی شاپر سے پیر صاحب کیا نکالیں گے(مگرمجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ دربارِ غوث الاعظم ہے جہاں سے کوئی بھی خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا)۔ میں نے وہ شاپر پیر صاحب  کو دے دیا۔پیر صاحب نے اُس شاپر میں ہاتھ ڈالا اور اُس میں سے ایک مزید ٹوپی نکالی اور اُس مرید کے سر پر پہنادیااور فرمایا’’چلوجان چھٹی‘‘۔ میں نے سوچا سرکار یہ سب کچھ دیکھ کر ہماری تو پھنس گئی۔
کتے نے نہ کاٹا
ایک دن میں دربار شریف پر رفع حاجت کیلئے کھیتوں کی طرف جارہا تھا کہ اچانک ایک کتا بھونکتا ہوا میری جانب لپکا۔میں دم بخود ہوگیا کہ میں کیا کروں۔ وہ کتا اپنے جبڑے کھول کر میری ٹانگ پر کا ٹنے ہی والا تھا کہ بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا پیر صاحب کتا مجھے کاٹ رہا ہے۔بس اتنا کہنے کی دیر تھی کہ وہ کتا واپس پلٹ گیا۔رفع حاجت کےبعد جب میں دربار شریف واپس پہنچا تو وہاں یہ تذکرہ ہو رہا تھا ایک پیر بھائی جو رفع حاجت کیلئے کھیتوں میں گئے تھے کہ انہیں پاؤں پر چبھن محسوس ہوئی۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک خطر ناک سانپ نے انہیں ڈس لیا تھا۔انہوں نے بڑے سکون سے سانپ کو سر سے پکڑا اور زمین پر رگڑ کر مار دیا۔ ( وہ پیر بھائی آج بھی زندہ سلامت ہیں)
غوث الاعظم میرے کفیل
میں چونکہ ابھی برسر روزگار نہ تھا والدِ گرامی سے جو جمع خرچ ملتا تھا اُسی میں سے بچاکر میں دربار شریف پر حاضری دیا کرتا تھا۔ ایک شب حضورپر صاحب  کو دباتے ہوئے آپ استفسار پر نم آنکھوں سے میں نے صورتِ حال سنائی۔ اسی وقت حضور پیر صاحب نے دست مبارک اُٹھا کر مجھے بہت دعائیں دیں جن میں سے مجھے ایک یاد رہ گئی ہے’’یاغوثِ پاک اسکے کفیل بن جائیں ‘‘ آمین ثم آمین۔ آج وہ عالم ہے کہ ہر طرف خوشیوں کا دور دورہ ہے اور کیوں نہ ہو کہ جس کے کفیل غوثِ الاعظم ہوں اسے کیا کمی ہو سکتی ہے۔
ٹیلیویژن میں ملازمت
میرے والد صاحب نے ایک روذ مجھ سے کہا کہ آپ اپنے پیر صاحب سے نوکری کیلئے دعا کروانا۔ میں نے اگلی ملاقات پر ڈرتے ڈرتے عاجزی سے عرض کیا کہ حضور میں آج تک آپ کے قدموں میں بے غرض آتا رہا ہوں مگر آج والد صاحب کے اصرار پر ایک چیز مانگنا چارہا ہوں۔ پیر صاحب نے پوچھا کیامیں نے عرض کی نوکری۔ آپ نے پوچھا کس ادارے میں چاہیے۔ چونکہ میں بچپن سے ٹی وی میں چائلڈ سٹار کی حیثیت سے رہا تھا سو یہی میری پسند تھی تومیں نے عرض کیا حضور ٹی وی میں چاہیے اور وہ بھی اسلام آباد میں۔میں نے یہ بھی عرض کیا کہ حضور نوکری کنٹریکٹ پر نہ ہو بلکہ مستقل ہو۔ حضور پیر صاحب نے اُسی وقت ہاتھ اُٹھا دئیے۔ بعداز دعا پیر صاحب نے مجھ سے پوچھا تمہارا گھر تو پشاور میں ہے اسلام آباد میں کیا کرو گے۔ میں نے عرض کی حضور اسلام آباد سے مخدوم پور زیادہ نزدیک ہے آپکی قدم بوسی کیلئے حاضر ہوتا رہوں گا۔چند ماہ بعد ہی مجھے نوکری مل گئی اور وہ بھی اسلام آباد میں۔
آثارِ طوفان
بڑی گیارھویں شریف پر منعقدہونیووالے چھوٹے عرس شریف پر رات کے وقت جب سب سورہے تھے تو میں نے سوچاکہ حضور غوث پاک کا عرس ہے کیوں نہ کچھ نوافل پڑھ کر ایصالِ ثواب کر دوں ان دنوں پیر صاحب کے دربار شریف کے دروازے سے پہلے ایک بڑا لوہے کا گیٹ ہوتا تھا(جو رات کو بند کر دیا جاتا تھا)۔ اُس گیٹ کے سامنے چبوترے پر میں محوِ نوافل ہوگیا۔ اسی اثنا میں مجھے یوں محسوس ہوا کہ کسی نے گیٹ کھول دیا ہے۔سلام پھیر کر میں نے پیچھے دیکھا تو گیٹ واقعی کھلا تھا مگر کوئی کھولنے والا موجود نہ تھا۔مین گیٹ سے میری نظر اندر دربار شریف کے دروازے پر پڑی تو عشق شیخ نے انگڑائی لی میں دبے قدموں دربار شریف کے بند دروازے کی طرف چل دیا۔ میں نے اپنا سر دروازے پر رکھ دیا اور زبانِ حال سے یوں گویا ہوا کہ حضور جس طرح بڑا گیٹ کھولا ہے یہ بھی کھول دیں اور مجھے اپنے قدموں میں بلا لیں۔ اس خواہش نے اتنی شدت اختیار کی کہ میں زارو قطار رونا شروع ہوگیا میں مستی کے عالم میں کافی دیر تک روتا رہاحتیٰ کہ میں نڈھال ہو کر فرش پر لیٹ گیا مگر وہ دروازہ نہ کھلا۔ اگلے دن میری آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں حضور پیر صاحب کے عشق نے سینے میں ایسی آگ لگا دی تھی کہ میں ہر منٹ کے بعد پانی پیتا مگر میری طلب برقرار رہتی۔ جب عرس ختم ہواتو حضور پیر صاحب سے تنہائی میں ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا میں نے رات تجھے دیکھا تھا تیرا بندوبست کرنا پڑے گا۔ میں بہت خوش ہوا کہ میرے آنسو رائیگاں نہ گئے اور منزل مقصودتک پہنچ گئے۔واپسی سے قبل پیر صاحب نے مجھے فرمایا’’کہ ایک طوفان آنے والاہے‘‘۔ میرے کان کھڑے ہوگئے میںنے مزید استفسار کیاکہ کب آئیگا کہاں آئیگا بارش، دریا، سمندر یا ہوا کس میں آئیگا۔ مگر میرے اصرار کے باوجود پیرصاحب نے بس یہی فرمایا ’’میاں بس آئیگا، یہیں کہیں خود دیکھ لوگے‘‘۔ میں اُسوقت موسمی طوفانوں میں گھرا رہا اور یہ نہ جان سکا کہ وہ طوفان توخود میرے اندر آنے والاہے۔ رخصتی کے وقت سرکار نے مجھے اپنی ایک انگوٹھی اور ایک عصا مبارک عطا فرمایا۔
طوفان کی آمد
جس طوفان کا پیر صاحب نے تذکرہ فرمایا تھا وہ عرس سے واپسی پر ہی شروع ہوگیا۔ہمیشہ سفر کے دوران مخالف سمت سے آنے والی گاڑی پاس سے شوں کرکے گزر جاتی تھی مگر آج شوں شوں نہیں بلکہ ہر گزرنے والی گاڑی سے ھو ھو کا نعرہ بلند ہوتا سنائی دیتا۔گاڑیاں بھی وہ ہی تھیں اور کان بھی وہی لیکن آواز نئی تھی یہی آواز اس طوفانِ فقر کا پیش خیمہ بنی۔ میرا جی چاہتا تھا کہ پاس بیٹھے ہوئے شخص کاسرپھوڑدوں۔گاڑی جب اوور ٹیک کرنے لگتی تویوں محسوس ہوتا کہ ابھی ایکسیڈنٹ ہوجائے گا۔ یہ کیفیت روز بروز بڑھتی گئی میں اب ایک نئے موڑ پر کھڑا تھا جہاں مجھے صرف ایک ہی چیز نظر آتی تھی اور وہ تھی میرے مُرشد کی ذات۔ میں عشق ومستی کی اُن اتہاہ گہرائیوں تک پہنچ چکا تھا جہاں سے میرا واپس آنامشکل تھا۔
ایک دفعہ حضرت میاں محمد بخش صاحب کا عارفانہ کلام سُنا نعت خواں نے جب اس فقرے پر پہنچا ’’ میں گلیاں دا روڑہ کوڑا محل چڑھایا سائیاں ‘‘تو سنتے ہی ایک عالمِ وارفتگی طاری ہوگیا میں ایک بھیانک چیخ کے ساتھ زمین پر گر پڑا اور میرے منہ سے بے اختیار ایک ہی لفظ جاری ہوگیا’’خاکی شاہ‘‘۔اسکے بعد میں باقاعدہ عالمِ ہوش سے عالمِ دیوانگی میں چلا گیا۔معلوم نہیں میں کس طرح میں اپنے گھر پہنچا اور بغیر کسی سے بات کئے اپنے کمرے میں لیٹ گیا۔ میری نگاہوں کے سامنے صرف ایک تصویر تھی ،میری زبان پر صرف ایک نعرہ تھااور میرے غم کا مداوا صرف ایک ہستی تھی وہ تھی ’’خاکی شاہ‘‘۔
آہستہ آہستہ میری طبعیت میں یہ رنگ کچھ اسطرح غالب ہوگیا کہ مرشد کا تصور تو کجا اگر مخدوم پور شریف کی بستی کاہی تصور ذہن میںآتا تومیری کیفیت بدل جاتی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے گھر والوں کو یہ یقین ہوگیا کہ میں پاگل ہوگیا ہوں مگر پاگل تو میں صرف دنیا کیلئے تھا، اپنے لئے تو میں ایک ایسی حسین دنیا میں تھا جس سے نکلنے کاتصور بھی محال تھا۔معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ ہر سالک اسطرح کی منزلوںسے گزرتاہو اور وہ اپنے مجاہدات و ریاضات ،تقویٰ ومتشرع ہونے کی وجہ سے اس منزل کو برداشت کر جاتا ہو مگر میں چونکہ ان باتوں سے عاری تھا اس وجہ سے میری حالت غیر ہوگئی تھی۔
اس دورِجنوں میں میرے پاس پرانی فلسفے کی جتنی کتابیں پڑی تھیں میں نے وہ تمام پھاڑ کر سڑک پر پھینک دی تھیں کیونکہ ذاتِ باری کاقرب اُن کتابوں نے نہیں بلکہ ’’خاکی شاہ‘‘ نے دیا تھا۔فارسی کے اُس مصرے کے مصداق’’ سرِ حق نتواںیافت ازکتاب‘‘۔ بلکہ یوںہوتا کہ میں جس چیز کے بارے میں سوچتا میرے سامنے علمِ لدنی کاایک دریا جانب شیخ سے باطن پر وارد ہوجاتااور مجھے سب رموز کی سمجھ آجاتی۔ اُس دور میں مجھے روزانہ پُر اسرار خواب نظر آتے یوں محسوس ہوتا کہ مرشدِ پاک درس تصوف وروحانیت بذریعہ مشاہدہ دیکھا رہے ہیںاور اختتام پر فرماتے کہ ان باتوں کو خوب سمجھ لو، ذہن نشین کرلو اور جاگ جاؤ۔ اسکے ساتھ ہی میں جاگ جاتااور سب کچھ بھول جاتا۔
میری دیوانگی کی حالت دیکھ کر میرے گھر والے مجھے مُرشد پاک کے پاس لیجانا چاہتے تھے مگر میں ڈرتا تھا کہ جس کی بستی کے کوچوں کا تصور بھی ناقابل برداشت ہوجاتا ہے اسکے حضور پہنچ کر تو میں جل کر بھسم ہوجاؤں گا۔ کس ونا کس مجھے گھر والے زبردستی مرشد خانے لے گئے میں حضورپیر صاحب کے سامنے پہنچتے ہی ٹھیک ہوگیا۔گھر والوں نے میری خوب شکائیتں لگائیں۔ پیر صاحب نے مجھے سرزنش کیا کہ گھر والوں کو پریشان نہ کرو پھر فرمایا’’اس کادماغ بہت اچھا تھا سوچا چلواسے پار لگادیں‘‘ ۔
دیوانگی کا سرٹیفیکیٹ
چکوال سے واپس آکر ان کیفیات میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا میرے گھر والے مجھے مختلف پیروں ، عاملوں،ماہر نفسیات، اور ڈاکٹروں کے پاس لے کر پھرتے رہے مگر عشقِ شیخ کی وہ آگ کسی سے نہ بجھی۔
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش ہے غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.