بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

ڈاکٹروں نے تو میرے مکمل پاگل ہونے کے سرٹیفیکیٹ جاری کر دئے تھے اور میرا آخری ٹھکانہ پاگل خانہ بتادیا لیکن میرے گھر والوںکو یہ بات گوارا نہ تھی۔ خیر وہ بیچارے بھی کیا کرتے کہ میری حالت کبھی کبھار اتنی غیر ہوجاتی کہ میں توڑ پھوڑکرتا آگ لگاتا حتیٰ کہ خودکشی کی بھی کوشش کی یہ اُس دہشت کے سبب تھا جوجلالِ الہٰی کی وجہ سے مجھ پر تھی اور میری برداشت سے باہر تھی۔
آنے والے واقعات کاعلم ہونا
اُس دور میں اکثر میرے ساتھ یوں ہوتا کہ مجھے آنے والے واقعات کاعلم ہوجاتااور میں جو سوچ رہا ہوتاوہی ہونا شروع ہوجاتا حتیٰ کہ ٹی وی پر جو باتیں ہورہی ہوتیں وہ مجھے ہونے سے پہلے پتہ لگ جاتیں یہاں تک کہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں اٹھنے والے وساوس بھی میں بھانپ لیتا یہ کیفیت بھی شیخ کے ذریعہ ہی میرے باطن پر وارد ہوتی ۔جب میری طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو گھر والوں نے مجھے دربارشریف پر لاکر چھوڑ دیا یہ میری اپنے آقا سے آخری ملاقات تھی اُس وقت سرکار کی طبیعت بھی کافی ناساز تھی اور میرے ہوش وحواس بھی تقریباً مفقود تھے ۔گھر والے مجھے یہ سوچ کر چھوڑ گئے تھے کہ جن کے گن گاتا ہے انہی کے پاس رہے۔
اس ملاقات میں پیر صاحب نے مجھے انتہائی فیض سے نوازا حتیٰ کہ زبانِ باطن سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کسطرح لوگوں کے احوال پر مطلع ہوتے تھے، کرامت کسطرح دکھائی جاتی ہے،اسم اعظم کی دنیا کیا ہے ،پرندے کیسے گفتگو کرتے ہیں، جانور کسطرح انسان کی انگلی کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور نجانے کیا کیا مجھے زبانِ حال سے سمجھا یامیں ان تمام عوامل کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر انتہائی ہیبت زدہ ہو گیا۔ میری حالت اور زیادہ غیر ہوگئی مجھے قابو کر نے کیلئے خدامِ دربار نے مجھے رسیوں سے باندھ کر لیٹا دیا (اب وہ سب کچھ مجھے بھول گیا ہے بس اتنا یاد ہے کہ میں نے اُن رفعتوں کی سیر ضرور کی تھی)۔ایک اور عجیب بات کہ خدام مجھے رسیوں سے باندھتے تو میںصرف ایک نعرہ لگاتا’’ خاکی شاہ ‘‘ تو وہ رسیاں کھل جاتیں نجانے اسطرح کتنی دفعہ ہوا حتیٰ کہ وہ مجھے باندھ باندھ کر تھک گئے۔مگر اس کیفیت میں بھی حضور پیرصاحب اور صاحبزادگان کاادب ملحوظِ خاطر رہا۔
چونکہ حضور پیر صاحب کا وقت وصال قریب تھامیری طبیعت آہستہ آہستہ پیر قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب کیطرف مائل ہونا شروع ہوگئی اب میںنے انہیں پکارنا شروع کر دیا حالانکہ آپ اس وقت سند ھ کے دورے پر تھے۔صاحبزادہ حُسین شاہ صاحب مجھے وقتاً فوقتاً سنبھالتے رہے اس دوران اُنکی عظمت اور رفعت بھی مجھ پر آشکار ہوئی۔میری حالت غیر ہوتی گئی مجھے ایک کمرے میں بند کردیا گیا میں موت وحیات کی کشمکش کا شکار ہوگیا مجھے یوں لگا جیسے میرا آخری وقت قریب ہے۔ایسے میں ایک لفظ ’’خاکی شاہ‘‘میرے منہ پرجاری ہوگیامیں نے اُسکا ورد کرنا شروع کر دیا۔جوں جوں میں وردکرتارہا میری طبیعت سنبھلتی گئی اور میں زمان ومکان میں واپس آگیا۔صاحبزادہ حُسین شاہ صاحب نے مجھے کمرے سے نکالا اور حضور پیر صاحب کے پاس لے گئے۔پیر صاحب نے مجھے قریب بلایا میرے سر پر اپنا دستِ مبارک میرے سر پر رکھا اور مجھے دو تین بار جھٹکا دیا جس سے میرا بوجھ کم ہونا شروع ہوگیا۔
مجھے پیر صاحب نے الوداعی نظروں سے دیکھا پھر لوگ مجھے کمرے سے باہر لے آئے اور میں اس دنیا میں اُن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگیا۔اُسی رات میرے والدین پشاور سے پہنچ گئے اور مجھے واپس پشاور لے گئے۔ گھر پہنچ کربھی میری حالت بہت خراب تھی حتیٰ کہ مجھے پاگل خانے داخل کرادیا گیا۔لیکن والدین کادل نہ ماناتو مجھے وہاں سے نکلوا لیا انہی دنوں میں میرے آقا ومولا سیدی ومرشدی دارِ فنا سے دارِ بقا کوچ کر گئے۔قلندر پیر سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب نے پیر صاحب کے وصال کی خبر میرے گھردی مگر یہ بھی کہا کہ کامران کو اس بات کی خبر نہ ہونے پائے ورنہ اُسکی حالت مزید خراب ہوجائیگی۔پھر قلندر سیدمحمود الحسن شاہ صاحب نے اپنی خصوصی توجہات سے مجھے اُس عالمِ وارفتگی سے نکالااور میں بالکل ٹھیک ہوگیااور کچھ عرصہ بعد جس نوکری کی دعا حضورخاکی شاہ صاحب نے کی تھی میں اُس پر اسلام آباد میں لگ گیا۔
مرشد پاک کے وصال کا کچھ کچھ اندازہ تو الواعی ملاقات میں ہی ہوگیا تھاباقی والدین نے مجھے آہستہ آہستہ اس خبر کیلئے تیار کیا اور جب میں دربار شریف پر پہنچا توحسبِ توقع دیدارِشیخ نہیں مزارِ شیخ ملا۔

٭٭٭٭٭٭٭

راجہ طاہر رضا صاحب

راجہ طاہر رضا صاحب ڈھوڈہ ،چکوال کے رہنے والے ہیں ان کا شمار پیر صاحب کے خاص خادمین میں ہوتاہے۔ انہیںحضور پیر صاحب کے ساتھ بہت قربت رہی ہے حضور پیر صاحب بھی ان سے بہت پیار کرتے تھے۔خاص طور پر آخری ایام میں انہیں حضور پیر صاحب کی قربت کا شرف حاصل رہا بچپن سے لیکر جوانی تک حضور پیر صاحب کی خدمت میں رہے ،دن کے وقت دربار کے معمولات دیکھتے اور رات کو پیر صاحب کودباتے اوروضو وغیرہ کرواتے۔ تقریباً سارا دن اور رات پیر صاحب کے پاس ہی رہتے۔
ٹوپی کاملنا
راجہ طاہر رضا صاحب فرماتے ہیںکہ میں میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہوچکا تھامجھے کسی نے جائے نماز،تسبح اور کچھ اوراد پڑھنے کیلئے دیے میں بہت خوش ہوا اور وظائف شروع کردیے۔ ایک دن میں حضور پیر صاحب کی خدمت حاضر تھا اُس دن حضور پیر صاحب نے سبز رنگ کی ٹوپی پہن رکھی تھی میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش یہ ٹوپی پیر صاحب مجھے عنایت فرمادیں اور میں یہ ٹوپی تحفہ کے طور پر اُسی کو دے دوں جس نے مجھے اوراد پڑھنے کوکہا تھا۔ جب سب لوگ دربار سے چلے گئے توحضور پیرصاحب مجھے اپنے ساتھ لے کر گھر چلے گئے۔آپ
چارپائی پر لیٹ گئے میں اور میری والدہ پیر صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔آپ نے مجھے وہی سبز ٹوپی عنایت کرتے ہوے فرمایا ’’ یہ ٹوپی خود رکھ لو اور کسی کو دینی نہیں ہے‘
لندن جانے کی بشارت
ہمارے مالی حالات ٹھیک نہ تھے انہی دنوں حضور پیرصاحب حج کیلئے مکہ پاک تشریف لے گئے ۔وہاں سے آپ نے میری والدہ کوخط لکھا کہ راجہ طاہر رضا کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دو وہ ایک دن لندن چلا جائے گا اوراسکا وہاں پر کام بھی سیٹ ہوجائے گا اور یہ وہیں رھیگا اگرتمہیں یقین نہ آئے تومیرا یہ خط سنبھال کر رکھنا۔
راجہ صاحب کہتے ہیں میرے لندن جانے کے ظاہری اسباب تو نظر نہ آتے تھے میں کبھی کبھی پیر صاحب کاخط نکال کر دیکھا کرتا تھااور سوچتا تھا کہ ایسا کیسے ہوسکتاہے۔پندرہ سال بعد اللہ کریم نے ایسے اسباب مہیا فرمادیے کہ میں لندن چلا گیا(تادمِ تحریر لندن ہی ہوں)۔

<< پیچھے :: فہرست ::

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.