بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

کوڑی کے لیے شفاء یابی
حضرت شرف شاہ رحمتہ علیہ نے بروز جمعرات اس دار فانی سے انتقال فرمایا ۔ آپ کا مزار مبارک پہاڑ کے اوپر ہے اور آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو کوئی میری قبر پر مرضِ کوڑ والا آئے اور ایک دن اور ایک رات وہاں گزارے تو انشااللہ دوسرے دن اس کا جسم ایسا ہو گا جیسا کہ انڈے کی سفیدی ہوتی ہے ۔ یعنی اس مرض سے شفائے کلی حاصل ہو جائے گی جیسا کہ جسم پر مرض تھا ہی نہیں ۔آپ کا مزار آج بھی مر جع خلائق ہے رات دن قرآن خوانی ہو تی رہتی ہے لوگ آتے ہیں مرادیں پاتے ہیں ۔
شیر کی سواری
شاہ شرف رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے کانام نامی اسم گرامی پیر عبدالخالق شاہ تھا۔ آپ دریا کے کنارے ایک درخت کے خول میں رہتے تھے اور تمام دن اسی میں گزارتے اور رات کو باہر تشریف لاتے۔آپ نے تمام مشاہدات و مجاہدات اسی میں گزارے۔
آپ شیر پر سواری کیا کرتے تھے اور لوگ شیردیکھ کر ڈر جا تے تھے۔ آپ لوگوں کو فرمایا کرتے تھے کہ بلے ہیں ان سے نہ ڈرا کرو یہ کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے ۔ شیر آپ کی خدمت میں اس طرح رہا کرتے تھے کہ جس طرح گھر کی بلی ہوتی ہے اورسواری کے لئے گھوڑوںکی جگہ آپ شیروں کو استعمال کرتے تھے ۔
جو آیا خالی نہ گیا
سید عبدالخالق شاہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے بیٹے کا نام نامی اسمِ گرامی سید عبدالمجید رحمتہ اللہ علیہ تھا ۔آپ نے کچھ وقت ٹھٹھہ شریف میں گزارا اور پھر کشمیر میں آگئے ۔ کشمیر کے راجہ نے کچھ سرکاری زمین ایک گاؤں کے ساتھ آپکو دے رکھی تھی وہیں آ کر آباد ہو گئے سید عبدالخالق شاہ صاحب کے چار بیٹے تھے ۔آپ سے جس کسی نے بھی کسی قسم کا سوال کیا آپ نے اس مُراد کو پورا کیا جو درپہ آیا کبھی خالی نہیں گیا جھولیاں بھر کر ہی گیا ایسا سخی گھرانا تھا کہ خود بھوکے رہنا منظور تھا مگر سائل کوکبھی رد نہیں کیا۔ آپ بہت نیک اور شریعت مطہرہ کے پابند تھے ۔
گوشت کا شلغم بن جانا
ایک دفعہ ایک راجہ ہندوستان سے آیا ہوا تھا آپ نے گاؤں سے بہت سے بیل لے کر ذبح کیے اور ان کا گوشت پکنے کے لیے دیگوں میں ڈال دیا جبکہ سری پائے دوسرے کمرے میںموجود صفوں کے نیچے رکھ دئیے ۔اس بات کی اطلاع جب وہاں کی انتظامیہ کو ہوئی تو ایک تھانیدار آیا اور کہنے لگا کہ یہاں گوشت پکا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا دیگو ں میں خود ہی دیکھ لو کیا پکا ہوا ہے ۔ جب تھانیدار نے دیگوں میں دیکھا تو بجائے گوشت کے شلغم پکا ہوا پایا وہ تھانیدار بہت متعجب ہوا اور دوسرے کمرے(جس میں سری اور پائے چھپائے گئے تھے) کو بھی چیک کیا تو اس میں دیکھا کہ لکڑی کے چھلکے پڑے ہوئے ہیں ۔ تھانیدار نہایت شرمندہ ہوا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر معافی مانگ لی۔آپ نے اس تھانیدار کو روٹی کھلائی اور وہی گوشت جو شلغم کی صورت اختیار کر گیا تھا کھلایا اور چائے پلا کر رخصت کیا ۔ ولی اللہ کی نگاہ پاک سے ہر چیز کی شکل وصورت اورہیئت بھی بدل جاتی ہے ۔ تھانیدار جب واپس تھانے پہنچا تو اس کو نوکری سے معطل کر دیا گیا ۔ آپ نے راجہ کی طر ف آدمی بھیجا اور کہا کہ یہ غریب آدمی ہے اور میں نے اس کو معاف کردیاہے اس لیے اس کو ملازمت پر بحال کردو ۔ راجہ نے پھر تھایندار کو واپس نوکری پر بحال کرکے ملازمت پر رکھ لیا۔
تمام غلہ لنگر میں ڈال دیا جاتا
سید عبدالمجید شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے کا نام سید عبداللہ شاہ تھا یہ اپنی زمین پر خود ہل چلا کر روزی کماتے تھے اور جوزمین اہل کاروں کو دے رکھی تھی اس کا غلہ لنگر میں ڈال دیا جاتا تھا ۔ آپ نے اپنے لیے اہل کاروں سے کبھی غلہ نہیں لیا تھا ۔
ہل کی چوری اور تمام آبادی پر عذاب
سید عبداللہ شاہ صاحب کے بیٹے کانام سید موسیٰ شاہ تھا جو سیدی ومرشدی حضرت اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی کے والد گرامی ہیں ۔ یہ بہت بڑے عالم دین تھے اورآپ کی طبیعت بہت جلالی تھی جس شحض کی طرف نظر کرتے خوف سے اس پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی ۔ آپ شکار کے بھی بہت شوقین تھے ۔ ایک دفعہ آپ نے اپنی زمین میں ہل چلایا اور پھر وہیں رکھ دیا۔ ہل وہاںسے کسی نے چوری کر لیا۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے ہل چوری کیا ہے اسے خود ہی پتہ چل جائیگا چنا نچہ ہوا یہ کہ جس نے ہل چوری کیا تھا اس کے مکان کو آگ لگ گئی اور تقریبا گاؤں کی آدھی آبادی جل گئی۔ پھر آپ نے پانی دم کر کے چھڑکا آگ فورا بجھ گئی ۔
لکڑی کا گھوڑا گھاس کھا نے لگا
سید موسی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ایک ماموں جان جن کا نام سید ثنا اللہ شاہ تھا ۔ وہ بھی بہت جلالی طبیعت کے تھے۔ وہ ایک بہت بڑی لکڑی کی چھڑی پاس رکھتے تھے جس کو آپ گھوڑا کہا کرتے تھے اس کووہ ٹانگوں کے نیچے رکھ کر بہت تیز چلتے تھے ۔
ایک روز ایک زمیندار نے آپ کو کہا کہ بابا جی آؤبیٹھو بابا جی نے فرمایا میرے گھوڑے کے لیے گھاس لاؤ ۔ یہ کہہ کر آپ زمیندار کے پاس بیٹھ گئے اور زمیندار نے آپ کی وہ چھڑی باہر کھیلان میں ڈال دی ۔ کھیلان میں بھوسہ کا بہت بڑاڈھیر لگا ہو ا تھا ۔ زمیندار نے دیکھا کہ وہ چھڑی جو کہ بابا جی کا گھوڑا کہلاتی تھی بھو سہ کا تمام ڈھیر چٹ کر گئی ۔ز میندار نے شور مچایا کہ بابا جی کا گھوڑا میرا تمام بھوسہ کھا گیا ہے ۔ آپ نے اس لکڑی کے گھوڑے کو حکم دیا کہ تمام بھوسہ واپس نگل دے۔ لکڑی کے گھوڑے نے کھانسہ تو تمام بھوسہ پہلے کی طرح برابر ہو گیا جیسا کہ پہلے تھا ۔
منکر ہوا تو خانہ خراب
ایک دفعہ ایک زمیندار نے بابا جی ثنااللہ رحمتہ اللہ علیہ سے کہا کہ باباجی ایک بیگھا(یعنی چار کنال) پر جو فصل ہے وہ آپ کی ہوئی اور باقی فصل کے لیے خدا کی بارگاہ میں دعا کرو کہ سلامت رہے ۔ جب فصل پک کر تیار ہوگئی تو آپ نے بھی اپنی چار کنال سے فصل کا ٹنے کا ارادہ کیا تو وہ زمیندار اپنے وعدہ سے منکر ہو گیا۔ آپ کو اس پر سخت غصہ آیا ۔ اسی دن شام کے وقت طوفان آمیز بارش ہوئی اور زمیندار کی تمام فصل تباہ و برباد ہو گئی اور وہ چار کنال زمین نیچے دھنس گئی ۔ دیگرلوگ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ باباجی ہماری فصل بھی خراب ہورہی ہے اور اس بیگھا والی زمین سے پانی بہہ رہا ہے ۔ باباجی نے فرمایا جاؤ اس زمین کو کہہ دو کہ پانی کم پیئے ۔ لوگوں نے جاکر ایسا ہی کہا تو پانی کم ہوگیا ۔ اور آج تک وہ زمین تالاب بنی ہوئی ہے ۔ جس کو لوگ ثنااللہ کا تالاب کہتے ہیں ۔
سانپ پتھر کا بن گیا
ایک دفعہ باباجی مسجد کی طرف گئے دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ چڑیا کے گھونسلے سے چڑیا کے بچے کھانا چاہتا ہے ۔آپ نے سانپ کو فرمایا ’’ او سانپ ‘‘ یہ کہنے کی دیر تھی کہ سانپ اسی جگہ پتھر کا بن گیا ۔
واقعات سید موسیٰ شاہ صاحب
بندہ ناچیز قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی نے اپنے چچا حضور پیر غلام محمد شاہ خاکی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ دادا حضور پیر سید موسیٰ شاہ صاحب کے رعب اور ہیبت اور جلا ل کاشہرہ اپنے پورے علاقے میں تھا اور کوئی بھی بڑے سے بڑا آدمی ، بڑا مالدار ، بڑے سے بڑا دنیا دار، بڑے سے بڑا جابر آدمی اور بڑے سے بڑا حاکم آدمی انکے سامنے لرزہ براندام ہو جاتا اس پر زبردست کپکپی طاری ہو جاتی تھی۔آج بھی اس بات کی گواہی وہاں کا پورا علاقہ دیتاہے ۔ جو پرانے لوگ اب بھی وہاں موجود ہیں انکو اس بات کی خبر ہے کیونکہ انہوں اپنے آباؤ اجداد سے جناب پیر موسیٰ شاہ صاحب کے متعلق سن رکھا ہے ۔ جناب کا یہ عالم تھا کہ ہمہ وقت استغراق میں رہتے تھے اور قرب مولا کی مستی میں مست رہتے تھے ایسا بالخصوص آپ کی آخری زندگی میں سلسلہ تھا ۔ اوائل میں قدرے عوام سے میں میل جول تھا ۔ لیکن بعد میں دن بہ دن کم ہوتا گیا اور آخرکار بالکل الگ تھلگ ایک پہاڑ پر جنگل میں اپنی جھونپڑی بنائی اور وہاں ہی بیٹھا کر تے تھے۔ آپ ہمہ وقت فنا فی ذات رہتے تھے۔ چچا حضور فرماتے ہے کہ ایک روز گورنمنٹ آف انڈیا کی طرف سے دوائیوں کا سپرے کرنے والی ٹیم آئی۔اُس ٹیم کے دو افراد جب ہمارے ہاں پہنچے تو ان میں سے ایک نے جناب موسیٰ شاہ صاحب کو دیکھا جو اپنی مستی میں مست تھے۔ ایک آدمی نے آپ کو ہاتھ سے جھنجھوڑا کہ ہم نے یہاںپر سپرے کرنا ہے ۔ بس اس کایہ کہنا تھا کہ جناب پیر موسی شاہ نے اسکی طرف دیکھا۔ وہ آپکا جلال برداشت نہ کر سکا، وہ دھڑم کر کے زمین پہ گر گیا اور بے ہو ش ہو گیا ۔ چچا حضور فرماتے ہیں کہ وہاں دو تین آدمی اور اکٹھے ہو گئے۔اُس آدمی کے منہ سے پانی بہہ رہاتھا۔پھر اُس کے ہاتھ پاؤں کو ملاگیاجس سے اُسے ہوش آیا۔

٭٭٭٭٭٭٭

پیر صاحب کے ارشاداتِ عالیہ سے اقتباسات!

فقیر کی گفتگو کبھی خالی از حکمت نہیں ہوتی بڑی معنی خیز اور ایک ایک بات سے درجنوں مطالب نکلتے ہیں۔جتنا کسی کاظرف ہوتا تھا اُسی قدر وہ پیر صاحبکی گفتگو کی گہرائی تک جاتا تھا ۔ اکثر اوقات آپ گفتگو فرماتے تو اتنی جامع ہو تی کہ جتنے بھی محفل میں بیٹھے ہوتے،ہرکوئی یہی محسوس کرتا کہ میرے سوال کا جواب مل رہاہے اور دل کی پیاس بجھ رہی ہوتی تھی۔ حکمت اور معرفت کے موتی آپ کے مبارک دہن اقدس سے جھڑتے تھے۔ دل یہی چاہتا تھا کہ آپکلام جاری رکھیںاور دل وروح کی پیاس بجھتی رہے۔
آپ کے حکمت امیز ارشاداتِ عالیہ میں سے چند اقتباسات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں تاکہ پڑ ہنے والوں کے ذوق اور وجدان میں اضافہ ہو۔
ملک کے عمومی اخلاقی اور سیاسی حالات سے متعلق ارشادات!
پیر صاحب نے ایک موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔ "ہمارے ایمان زبانی جمع خرچ پر مبنی ہیں ۔ ایمان کمزور ہیں درست نہیں ہیں۔ ایک دوسرے سے عداوت دشمنی، بُغض، حسد، عناد، چغلی، جھوٹ،فراڈ اور دھوکہ اس لیے ہے کہ ہم لوگوں نے قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بھلا کر
رکھ دیا ہے۔ "اَلمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُْسِلُمونَ مِنْ لِّساَنہِ وَےَدِہ اورخَےْرُ النَّاسَِ مَنْ نَیفَْعُ اَلنَّاسِْ" جیسی احادیث طیبہ کے سنہری اصول بُھلا دیے ہیں اگر ان تعلیمات پر عمل کرتے تو ہمارے دِل ایک دوسرے کے لیے شیشے کی طرح صاف ہوتے ۔ مومن کی تویہ تعریف کی گئی ہے کہ" قَلبِ الْمئُومِنْ مِراَۃُ الّرِحْمانِ" ایک دوسرے کی قدر و منزلت باہمی محبت کی فضا اس لیے نہیں ہے کہ ہم مسلمانوں نے ان تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ جب تک مسلمان قوم متحد نہیںہوتی اور یک جان نہیں ہوتی، اس وقت تک تبدیلی مشکل ہے۔"
آپ نے نہایت افسردگی سے فرمایا!
کہ "ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے مولوی حضرات بھی علیحدہ علیحدہ ،الگ الگ گروہوں اور پارٹیوں میں منقسم ہیں اور پیر صاحبان بھی علیحدہ بٹے ہوئے ہیں ۔ فرقہ واریت اور گروہی تعصب سب سے بڑا ظلم اور جرم ہے۔ جس کی وجہ سے ہم عذاب میں مبتلا ہیں۔راہبران طریقت اور پیران طریقت وہ ہوتے ہیں کہ جن کے سامنے تفرقہ، عداوت ،بغض ،کینہ اور عنا سب سے بڑا مہلک مرض ہوتا ہے۔ جس کے سدِباب کے لیے ہمیشہ وہ کوشاں ہوتے ہیں۔ جتنے اس وقت گروہی تعصبات ہیںاِن کی وجہ انانیت ہے۔ ایک یہ کہتا ہے کہ میں بڑا ہوں دوسرا کہتاہے کہ میں بڑا ہوں ۔ یہ مفاد پرستی اور انانیت ہے۔ یہ دِلوں کے نا پاک ہونے کی علامت ہے ۔ جب تک دِل ناپاک ہوں تزکیہ نفس و قلوب حاصل نہ ہوتب تک اجتماعیت پیدا نہیں ہوتی ا ور نہ ہی تفرقہ ختم ہو سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کا تزکیہ نفس کرنے والے راہبرانِ شریعت اور پیرانِ طریقت خود بھی اپنا تزکیہ نفس کریں۔ ہمارے و عظ بے اثر اس لیے ہیں کہ ہمارے مقررین خطباء خود بے عمل ہیں۔ اِن کی بے عملی ہمارے فساد کی جڑ ہے۔جیسا کہ حضرت امام بو حنیفہ سے کسی نے کہا تھا کہ" حضرت آپ میری فکر نہ کریں۔ اپنے سنبھلنے کا خیال کریںکہ اگر آپ گرِ پڑے تو ہم سب گر پڑیں گے۔ میرے تنہا گرنے کا نقصان میری حد تک ہے لیکن آپ کے گرنے کا نقصان پوری امت کو ہے "اس لیے مشائخ و علما و اکرام کواس بات سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ ہمارے لیڈروں اور راہبروں کو چاہیے کہ وہ ایسی بات نہ کریں جس سے اسلام کی عظمت پر کوئی حرف آئے۔ ایک دوسرے کی اہانت سے پرہیز کرنی چاہیے۔اس سے نفرتیں بڑھتی ہیں۔ تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے پاکستان میں اس وجہ سے نفرتیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔روز بروز فرقہ واریت بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسی تقریر و تحریر سے پرہیز کرنی چاہیے جس سے دوسرے مکتبِ فکرکے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔
جعلی پیرسے متعلق!
حضور خاکی شاہ سرکار نے انتہائی دکھ اور درد سے فرمایا کہ "ہماری بدنصیبی ہے کہ اس دور میں یہاں ہر گلی اور ہر محلے میں پیر فقیر کے نام پر ڈاکو، چور اور رہزن موجو دہیں ۔ ان لوگوں کاروحانیت یا تقویٰ سے کوئی تعلق نہیںہے اور یہ شیطان کے چیلے ہیں۔ ان کی وجہ سے طریقت و
تصوف بد نام ہو رہا ہے۔ اس لیے ان جھوٹے اور نام نہاد پیروں سے بچنا چاہیے۔ آپ نے ارشاد فرمایاکہ میں کسی کا نام لینا پسند نہیں کرتا ورنہ یہاں بڑے بڑے پیر روحانیت کے نام پر کاروبار کرتے ہیں ۔ انہیں مریدین سے کوئی محبت نہیں ہے صرف کاروبار ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے متعلق ارشاد!
حضرت پیر سید رسول شاہ خاکی  نے پروفیسر ڈاکٹرمحمد طا ہر القادری کی دینی خدمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اُنہیں شیخ الاسلام کے لقب سے نوازا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ پروفیسرصاحب دین کی خدمت کا کام عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق کررہے ہیںجو کہ وقت کی ضرورت ہے۔ آپ شریعت مطہرہ کے مطابق چل رہے ہیںاور مصطفوی انقلاب کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔مزید فرماتے کہ اگر کوئی پروفیسر صاحب کی حمایت نہیں کرتا تو اُسے مخالفت بھی نہیں کرنی چاہیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس جیسے قابل شخص کاملنا مشکل ہے۔اصل میں قادری صاحب کے مرشد سیدنا طاہر علاؤالدین قادری  کی ان پر خاص نظر ہے جسکی وجہ سے ان کا کام چل رہا ہے۔
آداب شیخ اور نسبتِ شیخ سے متعلق ارشاد !
جب مرید اپنے شیخ و مرشد کی خدمت میں باادب رہے گا تو مرشد کے دل میں اس کی محبت پیدا ہو جائے گی اور جب شیخ کے دل میں اس کی
محبت آجائے گی تو مُرید فیوض و برکات کا حامل ہوجاتا ہے مرید کا اپنے شیخ کے حضور مقبول ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اللہ تعالی اور حضور نبی اکرم اور ان سب اولیاء اکرام کے حضور میں جو اس کے مرشد اور حضور کے درمیان ہیں مقبول ہو چکا ہے۔
"مقبولِ اہل دِل مقبول خُدا است"
نماز میں یکسوئی سے متعلق ارشاد!
آپ نے فرمایا"فرائض میں سب سے اہم اور مقدّم نماز ہے۔ اس کی حفاظت کی سب سے زیادہ فکر کرنی چاہیے ۔ اس زمانے میں ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں جو کہ خود بھی اس فریضہ سے غافل ہیں اور ان کے اہل و عیال بھی غافل ہیں۔ انہیں سو چنا چاہیے کہ سب سے پہلا سوال آخرت میں نماز کے بارے میںہوگا۔"
خاص نقطہ!
حضور خاکی شاہ سرکار فرمایا کرتے تھے کہ" بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس وجہ سے نماز نہیں پڑھتے کہ نمازمیں دِل نہیں لگتا جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں بُرے بُرے و سوسے دِل میں آنا شروع ہو جاتے ہیںاور ذہنی یکسوئی حاصل نہیں ہوتی۔ حضورِ قلب کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔ ایسی نماز سے کیا فائدہ؟پیر صاحب فرماتے ہیں کہ ایسے فاسد خیالات میں گرفتار لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ نماز میں دِل لگنا مقصود نہیں، دِل لگانا مقصود ہے اور دِل لگانا بھی اپنے اختیار کی حد تک۔ جب غیر اختیاری طور پر دِل ہٹ جائے تو اس پر نہ مواخذہ ہے اور نہ ہی نماز غیر مقبول ہوگی۔آپ فرماتے کہ شیطان نے لوگوں کو اس نیک راہ سے روکنے کے لیے ایسے مہمل اور لایعنی خیالات دِل میں ڈال دیے ہیںاور ہم نے انہیں معقول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔ بہر کیف نمازوں کی حفاظت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکر بجا لاتے رہنا چاہیے۔
مستحبات سے متعلق ارشاد!
حضور خاکی شاہ سرکار فرماتے ہیں کہ یہ لفظ"حُب ۔۔"سے نکلا ہے، جس کے معنی محبت کے ہیں ۔ لہٰذا مستحبات وہ عمل ہو گا، جس پر مسلسل عمل کرنے سے بندہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو جائے گا اور محبت کی یہ خاصیت ہے کہ وہ دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ اس لیے بندہ محب ہو جائے گا۔ گویا مستحبات پر عمل کرنے والے کواللہ تعالیٰ کی محبت اور محبوبیت دونوں حاصل ہو جائیں گی۔آپ نے فرمایا کہ مستحب کو معمولی چیز سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے۔
فقر کی حقیقت!
کسی نے فقر سے متعلق سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک فقر رسولِ اکرم کی طرزِ زندگی کا نام ہے۔ فقر بدن کی مفلسی ہے۔ ذہن کا غناء ہے اور دِل کی زندگی ہے۔ پس اللہ کی راہ پر چلنا ہی فقر ہے۔ دِل اللہ کی یاد میں مست الست بنائے رکھنا ایسا فقر ہے، جو تمام صوفیاء
کی اصل ا ور اساس ہے۔حضور غوث اعظم جیلانی سرکار کا ارشاد پاک ہے کہ "تم اسلام کو اس حقیقت تک پہچانو کہ ایمان تک رسائی حاصل ہو جائے۔ ایمان کی حقیقت کو پاؤ تاکہ یقین تک جاپہنچو ۔اس طرح تم وہ کچھ دیکھو گے جو تم نے پہلے نہ دیکھا تھا۔ آپ ہی کا ارشاد گرامی ہے کہ فقیر کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فقر سے اتنی ہی محبت رکھتا ہے جتنی دولت منداپنی دولت سے محبت رکھتا ہے۔
معرفت !
کسی نے پیر صاحب سے سوال کیا کہ معرفت کسے کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا۔’’ کسی کے لیے جل جانا، نابود ہو جانا، خود کومٹا دیناکسی کا ہوجانایا کسی کا بن جانا‘‘۔مجذوب کی صحبت سے اکثر پیر صاحب بچنے کا ارشاد فرماتے اور فرماتے کہ افضل کا م حضور نبی اکرم  کی اطاعت ہے۔ صحابہ اکرام کے اعلیٰ مدارج ان کی دیوانگی کی بنا پر نہیں تھے بلکہ جنونی اطاعت و محبت کی وجہ سے تھے" آپ نے اپنی زندگی کی بات کرتے ہوئے فرمایاکہ جب مجھے شیخِ کامل کی تلاش تھی تو میں وادئی کشمیرکے قصبوں اور شہروں میں گھوما۔ یہاں تک کہ میری حالت بھی مجذوبا نہ ہو گئی۔ سرینگر سے لے کر گورداس پور تک کوئی پیر اور شیخ نہیں چھوڑا جسے میں ملانہ ہوںگا۔ بہت سے ایسے تھے کہ مریضوں کے جسم پر ہاتھ مس کرتے تو بیماریاں کا فور ہو جاتیں اور بہت سے ایسے تھے کہ مہینوں کے حساب سے کھانا نہیں کھاتے تھے لیکن غوثِ زمان جناب بابا قاسم موہڑوی نے مجھے سنبھالا اور مجھے اتباعِ نبوی کی خیرات سے نوازا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ فکر نور ہے جبکہ غفلت اندھیرا ہے اور جہالت گمراہی ہے۔ فضلِ خُدا سالک کی منزل بھی ہے، راستہ بھی ہے اور علم بھی ہے۔ تقویٰ سالک کو کروڑوں سال میں وہاں نہیں پہنچا تاجہاں فضل ِخُدا لمحوں میں پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے سوال اس کے فضل کا ہی کرنا چاہیے۔
خواب سے متعلق ارشاد!
حضورپیر صاحب فرماتے ہیں کہ خواب کے متعلق بڑی افراط و تفریط پائی جاتی ہے۔ بعض لوگ تو وہ ہیں کہ جونہ تو خواب کی تعبیرکے قائل ہیں نہ ہی سچے خوابوںکے جبکہ یہ خیال غلط ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو خوابوں ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیںخواب ہی کو مدار نجات اور مدار فضلیت سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کے بارے میں اچھا خواب دیکھ لیا تو معتقد ہو گئے اور اگر اپنے ہی بارے اچھا خواب دیکھ لیا تو اپنے ہی معتقد ہوگئے کہ اب میں پہنچا ہوا بزرگ ہو گیا ہوں ۔ بعض اوقات بیداری کے عالم میں کچھ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جس کو کشف کہتے ہیں۔خوب سمجھ لیا جائے کہ انسان کی فضلیت کا اصل معیار خواب اور کشف نہیں ۔ بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ اس کی بیداری کی زندگی سنت بنوی کے مطابق ہے کہ نہیں ۔ آخرمیں فرمایا کہ بعض لوگ خوابوں پر تنقید میں بے جا حد پھلانگ جاتے ہیں یہ بھی درست نہیں ہے ۔
مجذوب سے متعلق ایمان افروز گفتگو !
آپ فرماتے ہیں کہ مجذوب و ہ شخص ہے کہ جس کی عقل کسی واردغیبی سے زائل ہو جائے ۔ مجذوب مجنون ہوتا ہے، مگر ہر مجنون مجذوب نہیں ہوتا ۔ مجذوب سے نہ دنیا کا فائدہ ہوتا ہے اور نہ دین کا۔دنیا کا اس لیے نہیںہوتا کہ دین تعلیم و نصیحت پر موقوف ہے جبکہ تعلیم و تلقین اور نصیحت اسے حاصل نہیں ہوتی ۔ اور دنیا کا فائدہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ دعا سے ہوتا ہے اور مجذوب دعا نہیں کرتے۔ اصل میں مجذوب لوگ صاحبِ کشف ہوتے ہیںاور ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں معاملہ میںیوں ہو گالہٰذاوہ دعا کرنا فضول سمجھتے ہیںاور تقدیر الٰہی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ البتہ کشف کی بنا پر بطور پیش گوئی کچھ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں معاملہ میںیوںہوگا۔حضرت سید رسول شاہ خاکی سرکار برملا ارشاد فرماتے تھے کہ مجذوب سے کسی طرح کا نفع نہیں ہوتا بلکہ اُلٹا نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ سالک کے متعلق فرمایا کہ اِن سے ہر طرح کا نفع ہوتا ہے۔ کیونکہ تعلیم و تلقین بھی فائدہ مند ہے اور دعا بھی نفع بخش ہوتی ہے۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.