نقطہ
ء خاص !
مجذوبوں کے
پاس بیٹھنے
سے ایک نقصان
یہ ہوتا ہے
کہ لوگ شریعت
کو بے کار سمجھنا
شروع کر دیتے
ہیں ۔ شریعت
کی وقعت اور
عظمت و قدرومنزلت
ایسے لوگوںکے
دِلوں سے جاتی
رہتی ہے۔مجذوب
تو مکلف نہ
ہونے کے باعث
شریعت کی پیروی
نہیں کرتے
۔ا ن کے پاس
بیٹھنے والے
بھی اس ڈگر
پر چل پڑتے
ہیں ۔ پاس بیٹھنے
والوں کو یہ
سوچنا چاہیے
کہ وہ تو عقل
سے معذور ہیں
ان پر تو شریعت
کی گرفت نہیں
اور جو صاحبِ
عقل ہیں ان
پر تو شریعت
کی گرفت ہر
حال میں ہے۔
یہ بھی ہے کہ
نیم مجذوب
اور مجذوب
کے پاس لوگ
بیٹھ کر شریعت
مطہرہ پر عمل
چھوڑ دیتے
ہیں اورخود
کو بھی شاید
اُن جیسا خیال
کرتے ہیں اور
یہاں تک ہوتا
ہے کہ شریعت
کو فالتو سمجھنا
شروع کر دیتے
۔بہر حال ایسے
لوگ شریعت
کی گرفت میں
آئیں گے جبکہ
مجذوب اس قید
سے آزاد ہوتا
ہے۔آپ فرماتے
تھے کہ مجذوب
کی نہ تو صحبت
اختیار کی
جائے اور نہ
ہی اُسے برا
بھلا کہا جائے۔
مجذوبوں کا
مرتبہ ومقام
اللہ کے نزدیک
کچھ زیادہ
نہیں ہوتا
وہ صرف معذور
ہوتے ہیں۔
مجذوب گو مقبول
ہیں مگر کامل
نہیں کیونکہ
وہ اعمال سے
محروم ہیں۔پیر
صاحب کے ایک
طالب نے ایک
مجذوب کی ملاقات
اور اس کی محبت
کا ذکر کیا
تو فرمایا
'' مجذوب کی خدمت
اگر ہو سکے
تو کر دی جائے
لیکن انکی
توجہ کا طالب
نہ ہُوا جائے۔
قلندر سے متعلق
ارشاد !
حضورپیر صاحبفرماتے
ہیں کہ'' قلندر
اس دور میں
بہت کم پائے
جاتے ہیں۔
قلندر حال
کا نام ہے ،قال
کا نہیں ۔ صوفیاء
کے گروہ میں
اُس جماعت
کو قلندر کہتے
ہیں جن میں
اعمالِ ظاہری
تو کم ہوتے
ہیں مگر اعمال
باطنی ان کے
بہت زیادہ
ہوتے ہیں۔
اعمال باطنی
یہ ہیںکہ اللہ
تعالی کے ساتھ
معاملہ درست
رکھا جائے۔قلب
و نظر کی نگہداشت
رکھی جائے۔
غیر اللہ کی
طرف متوجہ
نہ ہُوا جائے
۔ ہمیشہ قلب
کو مشغول ذکر
رکھا جائے۔
سب کے ساتھ
خیر خواہی
کا معاملہ
کیا جائے آپ
نے گفتگو جاری
رکھتے ہوئے
فرمایا کہ
قلندر کی سب
سے بڑی پہچان
یہ ہے کہ وہ
ہمہ وقت تفکر
اور مراقبہ
میں رہتا ہے۔
قلندر کو دنیا
کی وضع اور
رسوم کی پرواہ
نہیں ہوتی
۔ اس کا دِل
صاف اور سادہ
ہوتا ہے۔ اس
کی آرزویہ
ہوتی ہے کہ
خُدا سے تعلق
قائم کر کے
باقی سب کو
ترک کر دیا
جائے۔''
قبض وبسط سے
متعلق ارشاد
!
واردات کا
انقطاع جب
کسی حکمت و
مصلحت کے تحت
ہوتواس کو
قبض کہتے ہیںا
ور قبض کے مدمقابل
حالتِ بسط
ہے۔ لطف و فضل
کے سبب سے قلب
کو جو سرور
ملتا ہے اسکو
بسط کہتے ہیں۔حالت
قبض کبھی اعمال
سوء کی وجہ
سے ہوتی ہے
اور کبھی کبھی
فطری مستی
وملال کی وجہ
سے ہوتی ہے۔کبھی
کبھار منجانبِ
شیخ کسی حکمت
کے پیش نظر
حالتِقبض رکھی
جاتی ہے اور
سالک کی اصلاح
کے لیے بھی
حالت بسط کو
سلب کر لیا
جاتا ہے تاکہ
سالک عُجب
و کِبر میں
مبتلا نہ ہو۔قبض
فیِ نفسہِ
تو مُضر نہیں
مگر جب اسکا
سبب کوئی فعل
قبیحِ ہو تو
وہ قبض مُضر
ہے۔ اس کا علاج
یہی ہے کہ ا
س فعلِ قبیح
کو ترک کیا
جائے۔ پیر
صاحب سے کثر
تِ قبض کے علاج
کے متعلق پوچھا
گیا تو آپ نے
ارشاد فرمایا۔''تازہ
غسل کر کے کپڑے
بدلے جائیں
،خوشبو لگائی
جائے ،دو رکعت
نماز نفل پڑھ
کر استغفار
کی جائے اور
کم ازکم گیارہ
سوبار یَابَاسِطُ
پڑھنا قبض
کے لیے نافع
ہے۔''آپ نے فرمایا
قبض بصورت
قہر لطف ربانی
ہے۔
مُوتُوْ قَبْلَ
اَنْتَ مُوتُوْ!
اس مشہور قولِ
صوفیاء کی
تشریح کرتے
ہوئے حضورپیر
صاحب نے ارشاد
فرمایا "مرنے
سے پہلے مر
جاؤ"کا معنی
یہ ہے کہ کہ
سالک/طالب
اپنی خواہشات
نفسانی وجسمانی
کوماردے اور
جو لوگ جیتے
جی اپنے نفس
کی خواہشات
مار دیتے ہیں
وہ اولیا بن
جاتے ہیں۔
اولیا کی موت
ان کے نفس کی
موت ہوتی ہے۔
چونکہ قرآن
پاک کے مطابق
نفس کو موت
ہے ۔ اولیا
جیتے جی نفس
کو مار دیتے
ہیں اس کے بعد
انہیں ہمیشہ
کی زندگی نصیب
ہوتی ہے۔ مومن
ولی دونوں
جہاں میںزندہ
رہتا ہے۔حضور
نے ارشاد فرمایا۔
’’الا ان اولیاء
اللہ لا یموتون
ولکن ینتقلون
فی دارالی
دار‘‘ترجمہ
یعنی اولیا
اللہ مرتے
نہیں بلکہ
ایک جگہ سے
دوسری جگہ
منتقل ہوجاتے
ہیں آپ نے فرمایا
کہ تصرفِاولیابعداز
وصال بھی باقی
رہتاہے کیونکہ
زندگی میں
تو جسمانی
حجاب اور ستر
(۷۰)احوال بعض
چیزوں میں
مانع ہوتے
ہیںجبکہ موت
کے بعد سب حجابات
اٹھ جاتے ہیں
۔
ضرورتِ شیخ
!
حضورپیر صاحب
نے ضرورت شیخ
کے متعلق فرمایا
کہ اس زمانہ
میں مرشد کامل
کے بغیر طریقت
کا حصول مشکل
ہے ۔خود بینی
کی گمراہی
سے خلاصی حاصل
کرنا نا ممکن
ہے ۔بزرگوں
نے فرمایا
ہے کہ’’ الشیخ
فی قومہ کا
البنی فی امتہ‘‘
۔ترجمہ ،شیخ
اپنے مریدوں
میں اس طرح
ہوتا ہے جسطرح
کہ نبی اپنی
امت میں'' جس
طرح علمِ ظاہری
کے لیے معلم
کا ہونا ضروی
ہے اس طرح علمِ
باطن کے لیے
بھی کسی عالم
کا ہونا ضروری
ہے کیونکہ
علم باطن دل
کی راہ سے دل
میں پہنچتا
ہے زبان یا
کتاب کے ذریعے
نہیں پہنچتا۔
1)سِّرِ حق از
کتاب نتواں
یافت ۔ (فارسی)
2) لَیْسَ تِلْکَ
الَرْمُوْزُمِنَ
الْاَوْرَاقِ
(عربی)
ترجمہ، اللہ
تعالی کا بھید
کتابوں میں
نہیں ملتا
کیونکہ اسرار
ورموز اوراق
سے بالا ہیں
۔ شیخ و مرشد
کی طلب ایسی
ہونی چاہیے
کہ جب تک اسے
پانہ لے چین
سے نہ بیٹھے۔
طلب الٰہی
کا یہ پہلا
قدم ہے ۔
مدینۃ اُلرسول
کی عظمت و برتری
!
ایک دن کچھ
حاجی صاحبان
حضورپیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوئے
آپ نے انھیںبڑی
محبت وشفقت
سے نوازا۔
انھوں نے جناب
کو کھجور،
تسبیح ، ٹوپی
اور جائے نماز
وغیرہ پیش
کیں ۔پیر صاحب
بہت خوش ہوئے۔
حج کی ساری
رودادسُنی
مدینہ شریف
کا ذکر ہوا
تو آنکھوں
سے بے اختیار
آنسو رواں
ہوگئے۔ آپ
نے عظمتِمدینہ
پرسیر حاصل
گفتگو فرمائی
۔ پیر صاحبنے
فرمایا کہ
مکان کی عظمت
و برتری اور
عزت و فضیلت
مکین کی وجہ
سے ہوتی ہے
مدینہ شریف
کی لازوال
بزرگی اس کے
مکین حضور
نبی اکرام
کی وجہ سے ہے
۔آپ کی مدینہ
تشریف آوری
سے پہلے اِس
جگہ کا نام
یثرب تھا۔
اس میں بیماری
کے اثرات کثرت
سے پائے جاتے
تھے۔ آپ نے
اس کے لیے دعاِ
خیر فرمائی۔
آپ کی دعا کے
اثر سے اور
قدم رنجائی
فرمانے سے
ہر قسم کی بیماری
کے اثرات ختم
ہوگئے۔اس کے
گردوغبار اور
ذرے ذرے کوامتِ
مسلمہ کے لیے
شفا بنادیا
گیا۔ آپ نے
فرمایا کہ
یثرب کا نام
ثرب سے مشتق
ہے جس کا معنی
فسادکے ہیں
۔یہ نام اچھا
نہ ہونے کی
وجہ سے آپ نے
تبدیل فرمادیا
اور اس کا نام
، طیبہ، ارض
اللہ، دارایمان،
بیت الرسول
وغیرہ رکھا
۔ علامہ ابن
حجر مکی نے
مدینہ شریف
کے تقریباً
ایک ہزار کے
لگ بھگ نام
لکھے ہیں۔
پیر صاحب فرماتے
ہیں کہ جتنے
نام مدینہ
شریف کے ہیں
دنیا میں کسی
اور شہر کے
اتنے نام نہیں۔
یہ بھی مدینہ
شریف کی عظمت
کی دلیل ہے۔
کیونکہ کثرت
اسماء بھی
عظمت کی دلیل
ہوتی ہے۔ آپ
نے فرمایا
کہ خاک مدینہ
جہاں روحانی
بیماریوں کے
لیے شفا یا
بی کا باعث
ہے وہاں جسمانی
امراض کی شفاء
کا بھی سبب
ہے کیونکہ
حضور نے فرمایا
''مدینہ کا غبار
کوڑھ کی بیماری
کے لیے شفا
ہے۔''
سلاسلِ طریقت!
حضورسید رسول
شاہ خاکی شاہ
سرکار کو سلسلہ
عالیہ قادریہ،
چشتیہ، سہروردیہ،
نقشبند یہ،
نظامیہ ، قلندریہ،
کبرویہ اور
اویسیہ میں
اجازت خلافت
تھی آپ فرمایا
کرتے تھے۔"اعراب
الی اللہ بعد
د انفاس الخلائق"
ترجمہ ''اللہ
تعالیٰ کی
طرف اتنی را
ہیں ہیں، جتنی
تعداد مخلوقات
کے انفاس کی
ہیں'' آپ نے سلاسل
طریقت کو انسان
کی نفسیات
کی ضرورت قرار
دیا کہ انسانوں
کے مزاج جدا
جدا ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ
نے حضور میں
تو
جامعیت رکھی
تھی۔ اولیاء
و مشائخ، فقراء
،یہ سب حضور
کی حسین سیرت
و صورت کے مظہر
ہیں۔ آپ نے
فرمایا کہ
تمام سلاسل
میں سلسلہ
قادریہ سب
سے افضل ہے
کیونکہ حضور
سید نا ً شیخ
عبدالقادر
جیلانی کا
مشہور قول
مبارک ہے کہ
''قدمیِ ہٰذِہِ
عَلٰی رَقَبِّۃِ
کُلُّ وَلِی
اللہ'' ترجمہ
،'' میرا یہ قدم
سب اولیاء
اللہ کی گردنوں
پر ہے ۔''
فیضانِ زیارت
!
حضور سید رسول
شاہ خاکی سرکار
نے مریدین
،طالبین اور
سالکین کو
مقصدِ زیارت
سے اگاہ کرتے
ہوئے فرمایاکہ
جس طالب و سالک
کا قدم حق کی
جستجو و تلاش
میں اٹھتا
ہے اس کی گردبھی
عرشیوں کے
لیے سرمئہ
عقیدت بن جاتی
ہے۔ جو سالک
و مرید خدا
اور رسو ل
کا مقرب و محب
بننے کے لیے
بزرگوں کے
پاس جاتاہے
اس کی راہیں
ہوا پر ہوتی
ہیں ۔اس کی
منزلیں سمٹ
کرخود اس کے
قدموں میں
آجاتی ہیں
۔ خدا اور رسول
کو پانے کے
راستے کی تکالیف
اور صدمات
خود بخود دور
ہوتی چلی جاتی
ہیں۔ مشیّت
اس کی طرفدار،
قدرت اس کی
غم گسار اور
توکل اس کی
تلوار بن جاتی
ہے ۔ وہ ما سوا
اللہ و رسول
سے بیگانہ
اور خدا اور
رسول کا دیوانہ
ہو جاتا ہے۔
وہ سالک فنا
فی الذات ہو
جاتا ہے مگر
افسوس صد ا
فسوس مرید
و طالبین دنیا
کی تگ ودومیں
محوہیں۔ اللہ
کے بندے کے
پاس جانا اسی
صورت میں باعثِ
برکت ، سخاوت
،رحمت اور
ذریعہ و سیلہ
و نجات ہوسکتا
ہے کہ وہ طالبِ
خداا ور طالبِ
رسول بن کر
آئے ۔محبت
خدا ور رسول
کے حصول کیلئے
تگ و دوکرے
اگرایسا نہیں
تو آنے جانے
کاکوئی فائدہ
نہیں۔
مقصدِ پیری
مریدی !
پیری مریدی
کا مقصد تلاش
و جستجوئے
حق ہے اس کے
علاوہ تمام
مکاری و عیاری
ہے۔ جو مریدین
پیر کے پاس
خُدا اور رسول
کی طلب لے کر
جاتے ہیں ان
کی ساری مُرادیں
پوری ہوتی
ہیںوہ کبھی
خالی نہیں
ہوتے اس کے
برعکس ہوسِ
دنیا ،ہوسِ
اقتدار ، ہوسِ
مال وزر، ہوسِ
جاہ ومنصب
،کے جال میں
پھنسے ہوئے
محروم ہوتے
ہیں ۔پیر صاحب
نے برملا فرمایا''
کمی دینے والے
میں نہیں ہوتی
،کمی لینے
والے میں ہوتی
ہے۔ فقیروں
کی دعائیں
سدا جاری رہتی
ہیںاور جاری
رہیں گی لینے
والوں کو اپنی
کمی دور کرنی
چاہیے۔ سفید
رنگ کے کپڑے
کو ہر رنگ میں
رنگا جا سکتا
ہے لیکن کالے
رنگ کے کپڑے
کو کسی رنگ
میں بھی نہیں
رنگا جاسکتا
۔ ''
طالبِ صادق
اور فضل الہی
!
حضورپیر صاحب
نے فرمایا
پیری مریدی
کوئی جال نہیں
ہے کہ جس میں
لوگوں کو پھنسا
کر دنیا کمائی
جائے بلکہ
پیری و مریدی
و اصل بااللہ
کرنے کا نام
ہے ۔اللہ تعالی
جس کسی کے دل
میں طلبِصادق
پیدا کرتا
ہے تو اسے اپنا
اور اپنے محبوب
کا طالب بنا
کر اپنے کسی
مقرب و عارف
بندے کے پاس
بھیجا کرتا
ہے۔ اللہ تعالی
خود ہی طالب
بناتا ہے اور
خود ہی طلب
صادق دے کر
اپنے ولی کے
حضور حاضر
ہونے کی توفیق
بخش دیتاہے۔
مرد خود اگاہ
کی ایک نگاہ
طالب کو تاباں
اور درخشاں
بنادیتی ہے
۔ سالک کی آ
زمائش اور
امتحان شرط
ہے۔ یہ امتحان
ہر سالک سے
جدا جدا ہوتا
ہے۔ جس حال
میں اللہ رکھے
انھیں راضی
رہنا چاہیے
۔ شکوہ و شکایت
زیر لب بھی
نہیںآنی چاہیے۔ہمہ
وقت شاکرو
صابر رہنا
طریقت وسلوک
کی راہ ہے۔
پیر صاحبفرماتے
ہیں کہ سالک
کو ہمیشہ اپنے
شیخ و مرشد
سے تعلق مضبوط
رکھنا چاہیے
۔ ہر وقت اس
کے فضل کی بھیک
مانگتے رہنا
چاہیے۔اِس
راہ پر چلتے
چلتے ایسی
منزلیں بھی
آتی ہیں کہ
جہاں انسان
کو اپنے مقصد
کی خاطر سب
کچھ قربان
کرنا پڑتا
ہے۔ ترک لذت،
ترک شہوت،
ترک زینت،
ترک شہرت ،
ترک راحت بلکہ
ہر شے سے دست
برداری وقت
کا تقاضا بن
جاتی ہے۔ مسافرانِ
باوفا پر ایسے
ایسے کھٹن
مراحل آتے
ہیںجن کا تصور
کرنا بھی مشکل
ہے۔
جناب پیر صاحب
کے فرمودات
،عادات مبارکہ
اور عمومی
واقعات !
1) آپ مٹی کے پیالے
میںدودھ اورپانی
پیناپسند فرماتے
تھے۔
2) ۔ پیر صاحب
والدین کی
خدمت پر بہت
زیادہ زور
دیتے تھے۔
سرکار فرماتے
تھے کہ میاں
جو والدین
کا فرمانبردار
نہیں اللہ
فرماتے ہیں
وہ میرا بندہ
نہیں۔ رسول
پاک فرماتے
ہیں کہ میرا
امتی نہیں
وہاں اب خاکی
شاہ کیا کرے
گا ۔
3)۔ سید نا ً ابراہیم
سیف الدین
نقیب الااشراف
نے جناب کو
اپنا جبہ مبارک
عطا فرمایا
تھا ۔
4)۔ آپ فرماتے
ہیں کہ صبح
اٹھو تو اپنے
مکان کے چاروں
کونوں میں
دیکھو کہ جالا
تونہیں ہے
اگر ہے تو اتاردو
کیونکہ حدیث
شریف میں ہے
کہ جالا غربت
کی علامت ہے
۔
5 )۔ آپ اس بات
کو سخت ناپسند
فرماتے کہ
جو پیر مریدوں
کے پاس جاتے
ہیںاور ساتھ
کافی تعداد
میں مریدوں
کو بھی لے جاتے
ہیں اِس طرح
مریدکا اتنا
خرچہ ہو جاتا
ہے کہ وہ بیچارہ
بعد میں قرض
اتارتارہتا
ہے۔ یہ خلاف
حکمت ہے ایسا
نہیں کرنا
چاہیے ۔
6)۔ آپ فرماتے
کہ پیر کو چاہیے
کہ مریدوں
کو ذکر سکھائے
اور اللہ کا
راستہ سکھائے
جو پیر ایسا
نہیں کرتے،
ان کے بارے
میں فرمایا
کہ قیامت والے
دن اللہ اور
کے درمیان
پردہ ہو گا
۔ ایسے پیر
وں کو بلا کر
سوال ہو گا
کہ مریدوں
کو ذکر اذکار
سکھائے تھے
کہ نہیں یا
دنیا کی خاطر
مریدوں کو
ساتھ رکھا
تھا۔ اُس وقت
اُ ن کا منہ
کالا ہو گا
جبرائیل امین
کو حکم ہو گا
کہ اس کے سارے
مرید اسکی
پیٹھ پر چڑھاؤ
اِس کی ناک
میں لوہے کی
گرم نکیل ڈال
کراسکو جہنم
میں پھراؤ
۔
7)۔ سرکار فرماتے
ہیں کہ جو لوگ
ہاتھ نجومیوں
کو دکھاتے
ہیں وہ کفر
و شرک کرتے
ہیں ۔آقا نے
ایسا کرنے
سے منع فرمایا
تھا۔ ایسا
کرنے سے برکت
اُڑ جاتی ہے۔
یہ یہودیوں
کا طریقہ ہے،
مسلمانوں کا
نہیں۔
8)۔ سرکار فرماتے
کہ حضور نے
فرمایا کہ
چاروں قُل
شریف سات ،
سات بار پڑھ
کر صبح و شام
دم کر لو جادو
کا اثر نہ ہو
گا۔
9)۔ خوابوںکے
متعلق اکثر
سرکار فرماتے
کہ میاں خواب
خیال ہوتا
ہے۔ وہ خواب
جو سحر کے وقت
آتے ہیں وہ
اچھے اور سچے
ہوتے ہیں۔
10)۔ پیرصاحب
خواب بیان
کرنے سے منع
فرماتے اور
فرماتے کہ
اس سے اللہ
کا راز فاش
ہوتا ہے
11)۔ پیرصاحب
تعلیم فرماتے
کہ اگر کسی
بزرگ کی رات
خواب میں زیارت
ہو،توصبح الحمد
شریف او ر چاروں
قُل شریف اوّل
و آخر درود
شریف پڑھ کر
اس کی روح کو
ایصال ثواب
کرنا چاہیے
12)۔ پیرصاحب
فرماتے ہیں
کہ ایک دفعہ
مجھے کسی نے
زہر دی تھی۔
حضرت پیر مہر
علی شاہ کے
خلفیہ جناب
شرف دین نے
اپنی چھڑی
دم کر کے ۳بار
میری پیٹھ
پر ماری مجھے
قے آگئی اور
زہرخارج ہو
گیا۔ یوں مجھے
افاقہ ہو گیا۔
13)۔ آپ فرماتے
کہ ایک وقت
میںجواولیاء
کا سردار ہوتا
ہے وہ ابن سبیل
کہلاتا ہے۔
14)۔ اللہ کے ولی
کی ایک نشانی
بیان کرتے
ہوئے آپفرماتے
کہ جب نماز
کا وقت ہو گا
آذان ہو گی
تو ولی کے دِل
کی تڑپ بڑھ
جائے گی کہ
جلداز جلد
نماز پڑھوں
اوروہ غافل
نہیں ہوتا
۔ وہ ہر وقت
اللہ سے فریاد
کرتاہے کہ
اے اللہ تو
اپنے بندوں
سے راضی ہوجا
یہ تیری ہی
مخلوق ہے۔
15)۔ آپ فرماتے
تھے کہ ولایت
میں پاکیزگی
کیلئے دِل
و زبان کی صفائی
انتہائی ضروری
ہے۔
16)۔ (لاَحَولَ
وَلاقُوَّ
ۃَاِلاَّ بِااللّٰہ)
اکثر وردِ
زبان ہونا
چاہیے اِس
سے آدمی اللہ
کے قلعے میں
داخل ہو جاتا
ہے اور جو اللہ
کے قلعے میں
داخل ہو جائے
اسے کوئی چیز
نقصان نہیں
پہنچا سکتی۔
17)۔ طالبِ مو
لا کو نصیحت
فرماتے ہوئے
آپ نے فرمایا
کہ "یقینِ صادق
ہونا چاہیے
اور آدمی کوچاہیے
کہ اللہ سے
اللہ کو طلب
کرے اگر وہ
اس طلب پر قائم
رہے تو اللہ
خود بخود اس
کی طرف رغبت
فرمائے گا"
18)۔ سیدّ کی عزت
پر آپ بہت زیادہ
زور دیتے تھے
اور فرماتے
تھے کہ کوئی
کہے کہ میں
سیدّ ہوں تو
تحقیق بھی
مت کرو کہ سیدّہے
کہ نہیں بس
اس کی عزت کرو۔
ایک دفعہ آپ
نے فرمایا
کہ غوث پر بھی
سیدّ کی عزت
واجب ہے۔ آپ
فرماتے کہ
کوئی وقت ایسا
بھی تھا کہ
اگر کوئی سید
ّکسی غوث الوقت
کے پاس جاتا
تو وہ غوث اس
سیدّ کی اتنی
عزت کرتا کہ
اس کے ادب میںکھڑا
ہو جاتا ۔
19)۔ ایک دفعہ
آپ کے ایک خادم
نے سید ّکے
کتے کو ماراتو
آپ سخت ناراض
ہوئے کہ سیدّ
کا کتا تھا
ایسا کیوں
کیا۔
20)۔ آپ عرس پاک
کے لیے لکڑیاں
ایک سید ّسے
لیتے تھے۔
وہ سیدّ صاحب
لکڑیاںکم دیتے
تو ل میں زیادہ
بتاتے اور
دوسرا خراب
لکڑی دیتے
تھے۔ خادم
نے پیر صاحب
کو ساری بات
بتائی ۔ خادم
نے کہا کہ جناب
اس
سے بات کرنی
چاہیے کہ اس
نے ایسا کیوں
کیاہے۔ جناب
نے فرمایا
کہ آئندہ لکڑی
لینا چھوڑ
دواور اسے
کچھ نہیں کہنا
ایک بات بھی
اس کے خلاف
نہیں کرنی۔
21)۔ ایک دفعہ
ایک آدمی آپ
کے پاس آیا
۔اُس کا تعلق
واپڈا سے تھا۔
اس نے طریقیت
اورحقیقت کے
بار ے میں کوئی
اعتراض کیا۔
آپ جلال میں
آگئے اوراس
جلال کا اثر
اس آدمی پر
یہ ہوا کہ اس
نے اپنے کپڑے
پھاڑ ڈالے۔
اس کی حالت
دیوانوں کی
سی ہوگئی۔
٭٭٭٭٭٭٭
﴿ باب دوئم
﴾
واقعات اہلِ
خانہ
مشاہدات وارشاداتِ
قلندر پیر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی
والدِ گرامی
جناب پیر سید
رسول شاہ خاکی
کے وصال کے
بعد اس قلندر
نے یہ سلسلہ
سنبھالا تو
ذہن میں ایک
بات تھی وہ
یہ کہ آباؤ
اجداد کے طریق
کے مطابق اور
سیدی و مرشدی
جناب غوث الثقلین
کے حکم کے مطابق
اپنا سلسلہ
شروع کرنا
تھا۔اس مشن
کو لے کر چلنا
تھا جوآباؤ
اجداد اورغوث
الثقلین کے
حکم کے مطابق
تھا ۔ لیکن
اس سے پہلے
یہ بات بھی
قابل ذکر تھی
کہ جناب پیر
صاحب کے سلسلے
کو سنبھالنا
تھا۔ الحمد
اللہ، اللہ
اور رسول کریم
کی مدد سے پیر
صاحب کے سلسلے
کوسنبھالابعد
میں اپنے آباؤ
اجداد اور
غوث الثقلین
کے حکم کے مطابق
اپنا سلسلہ
شروع کیا جس
میں بے حساب
کامیابی نصیب
ہوئی ۔یہ سب
کچھ اللہ اور
اس کے رسول
کی مدد، جناب
علی المرتضیٰ
مشکل کشاء
،جناب غوث
پاک کی نظرعنایت
اور جناب پیر
صاحب کی دعا
سے ہے۔ ہمارا
بہت عظیم مشن
ہے جوانشااللہ
پورا ہو کر
رہے گا۔ چونکہ
پیر صاحب کا
فرمان تھا
کہ ہمارے جدِا
مجد بابا داؤد
شاہ خاکی کا
ارشاد ہے کہ
اس نسل سے ایک
بچہ مادر زاد
فقیرپیدا ہو
گا یہ وہی ارشادِ
بابا داؤد
شاہ خاکی کا
کرم ہے کہ آج
اس ناچیز قلندر
تک یہ سلسلہ
اللہ اور رسول
کے فضل سے قائم
ہے۔پیر صاحب
کے وصال مبارک
کے بعد ابتداء
میں کافی مشکلات
اور مسائل
تھے جو بعد
میںا للہ اور
رسول کریم
کے فضل وکرم
سے دور ہو گئے۔
چونکہ اس ضمن
میں بھی پیر
صاحب نے فرمایا
تھامیں خودبھی
اُس مجلس میں
موجودتھا،
کاتب دربارجو
اس وقت ہوا
کرتا تھا اس
کا نام محمد
حنیف ہے وہ
بھی موجود
تھا اوردیگر
کافی لوگ بھی
مجلس میں بیٹھے
ہوئے تھے،
خاص کر مجھے
(قلندرسیدمحمود
الحسن شاہ
)کو مخاطب کر
کے فرمایا
کہ میاں کچھ
لوگ ہمارے
ہوتے ہوے مرتد
ہوگئے ہیں
اور کچھ بعد
میں ہو جائیں
گے۔ مزیدفرمانے
لگے کہ جیسے
موسیٰ زئی
شریف والے
پیر صاحب نے
فرمایا تھا
کہ میرے کچھ
خلفامرتد ہو
جائیں گے اور
بعد میں ایسا
ہی ہوا کہ کچھ
خلفامرتدہو
گئے۔اس بات
پرحنیف صاحب(کاتب
دربار)نے کہاحضور
کچھ نشان دہی
فرما دیجئے۔
جناب پیر صاحب
اس بات پر سخت
خفاء ہوئے
اور کہا میاں
خاموش ہو جاؤ
خود ہی پتہ
چل جائے گا۔
پیر صاحب کے
وصال مبارک
کے بعد میں
نے دیکھا کہ
وہ پیش گوئی
جو جناب پیر
صاحب نے کی
تھی سچ ثابت
ہوئی اور کچھ
لوگ مرتد ہو
گئے۔ ویسے
بھی میں کہتا
ہوںکہ فقیر
کو فقیر ہی
جانتا ہے۔
جیساکہ داتاصاحب
فرماتے ہیںکہ
عار ف کوعارف
ہی پہچا نتا
ہے۔اسی حقیقت
کو عیاں کرنے
کیلئے میں
نے ایک رباعی
کہی ہے ۔ اس
رباعی کا مقصد
یہ ہے کہ کنارہ
کبھی سمندر
کی گہرائی
کو نہیں پہچان
سکتاہے۔ کنارہ
کنارہ ہی رہتا
ہے اور گہرائی
سمندر کے اندر
ہوتی ہے۔ کنارہ
کا اندر سے
کوئی تعلق
نہیںہوتا اسی
لیے اسے کنارہ
کہتے ہیں۔
بالکل اسی
طرح عقل کا
جو بندہ ہے
وہ کنارے کی
مانند ہے وہ
کسی کے اندر
کے حال کو نہیں
پہچان سکتا
کیونکہ وہ
مانند کنارہ
باہر ہے۔ کسی
کی حالت مانندِ
حقیقت سمند
رہے اور وہ
اندر ہواکرتی
ہے۔ اب قلندر
کا مزید تعارف
کراتے ہوئے
آگے ایک اور
صفتِ قلندر
بیان ہو رہی
ہے کہ زمانے
کا نظام جن
لوگوں سے چلتا
ہے وہ ذاتِ
قلندر ہے ۔
آگے مزید شان
بیان کرتے
ہوئے کہا گیا
ہے کہ یہ صورتِقلندر
اس ذاتِپاک
کے حُسن کا
مظہر ہے۔ اس
رُبائی سے
خوب اور واضح
پتہ چل جاتاہے
۔ کہ شانِ قلندرکیا
ہے۔ پھربھلا
عام لوگ کیوں
کر اس کو پہچان
سکیں۔ جس پہ
اللہ پاک فضل
و کرم کرتاہے،
اس پر حقیقت
قلندرواضح
کر دی جاتی
ہے۔اللہ پاک
کے کرم بِنا
حقیقتِ قلندر
قطعاً سمجھ
نہیں آسکتی
اور نہ ہی کوئی
سمجھ سکتا
ہے۔ رباعی
:
کنارہ پا نہیں
سکتا حقیقت
سمندر کی
عقل والا کیا
جانے حالت
کسی کے اندر
کی
بدلتے ہیں
اندازِ زمانہ
جن سے محمود
وہ مظہر جمالِ
ذات ہے صورت
قلندر کی
<< پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>