بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

چونکہ قلندر حق کی آواز ہوتی ہے اور حق کی آواز سے منافق لوگ ہمیشہ تنگ رہتے ہیں ۔ اللہ پاک ان کو پریشان رکھتا ہے۔ باقی اگلے مصرع کا مطلب یہی ہے کہ نبی اکرم  کی نظر ہے ۔ جن سے یہ ناچیز اپنے مشن میں کامیاب ہے اور یہی جانشینی کا اعلیٰ ثبوت ہے۔ اب اس صورت حال کو دیکھ کر بھی کوئی نہ سمجھے تو اس سے بڑھ کر نہ کوئی بے عقل ہے، نہ کوئی اندھا اور نہ ہی کوئی کم ترین ہے۔ ہمارا مشن اللہ اور رسول کے ذکر اور محبت کو عام کرنے اور صیحح سِلسلئہ قلندر یہ کا پر چار کرناہے۔ کیونکہ لوگ صرف بے نماز اور چرس اور بھنگ پینے والوں کو ہی قلندر سمجھتے ہیں حالانکہ یہ اس کے برعکس ہے تو اس لیے صحیح سلسلہ قلندریہ کو واضح کرنا ہمارا مقصود ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جناب پیر صاحب کامزاربھی بنانا تھا جوکہ اللہ اور رسول  کی مدد سے ہم نے بنوایا دیا ہے اس کے بعد پیر صاحب کا چند کتابوں کو یکجا کرناتھا۔ وہ بھی اللہ اور رسول  کی مدد سے کام پورا ہو گیاہے۔ علاوہ ازیںجناب پیر صاحب کے حالات زندگی اور ان کی کرامات، ان کے معاملات پر ایک جامع کتاب جو کہ چھپ کرآپ کے ہاتھوںمیں ہے میرے مشن کا حصہ تھی۔ یہ کام بھی اللہ اور رسول کی مدد سے مکمل ہوا ۔ تمام مریدین کو کہا گیا تھا کہ اپنے اپنے حالات اور کرامات جو انھوں نے دیکھیں وہ حسبِحال صحیح صحیح لکھ کر آستانہ عالیہ پر پہنچا دیں۔ اس طرح تمام مریدین جو حالات و واقعات یا کرامات سے واقف تھے،انھوںنے لکھ کر ہمارے حوالے کیں( تمام سے مراد سارے کے سارے مریدین نہیں ابھی بہت سارے مریدین نے واقعات بوجہ سستی یامصروفیات نہیں دی ہیں اور ویسے بھی ہزاروںمریدین کے معاملات نہیں لکھے جا سکتے تھے)۔ اس کے باوجود پیر صاحب کے تمام حالات زندگی قلم بند کرنا نا ممکن ہے۔ جو واقعات و حالات اور معاملات و کرامات ہیں اور مل سکیں وہ ہم نے یکجا کردیںہیں۔ یہ کافی حد تک وسیع معلومات ہیں پھر ان تمام مسودات کو اکھٹاکرکے ایک جگہ پر لکھنے کی ذمہ داری خلیفہ سید افتخارحسین شاہ صاحب کو دی۔ جنہوں نے انتہائی محنت کے ساتھ انہیں یکجا کیا اور اب اللہ کے فضل و کرم سے یہ مکمل کتاب چھپ چکی ہے۔ پیر صاحب کی حالات زندگی پر بحث کرنا ،بیان کرنا یا تحریر کرنا انتہائی مشکل کام ہے، کیونکہ کسی بھی اللہ والے کے معاملات کو لکھنا یہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں اسے صاحبِ حال ہی لکھ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے یہ تو اللہ اور رسول کی مدد سے اور جناب غوث پاک کی نظر پاک سے چند باتیں اس قلندر نے بیان کی ہیں اور چند کا ذکر آگے ہے ۔
1) جناب مادر زاد ولی تھے !
والدِگرامی قدر جناب سید رسول شاہ خاکی صاحب نے مجھے (قلندرسید محمود الحسن شاہ) کو اس طرح بتایا کہ ہم (دادا جی) عبداللہ شاہ گیلانی  کے پاس ہی رہتے تھے انھوں نے ایک سے دس تک گنتی اور (الف سے ی ) تک لکھنا سکھایا ۔ انہی کی زیرِ کفالت رہے۔ وہ بہت پیار کیا کرتے تھے۔ وہ اکثرفرمایا کرتے تھے کہ اس بچے کو مت چھیڑو یہ ،بچہ جائزکرے یا ناجائز کرے،اسے چھیڑنا نہیںہے اور اگر ایسا کیا تو سخت نقصان اُٹھاؤ گے۔
والدِ محترم (حضرت موسٰی شاہ صاحب)چونکہ بچپن سے ہی مادرزاد ولی تھے اور بچپن سے ہی حالاتِ جذب میںرہتے تھے۔ ان کی کیفیات ،عادات اور خصائل دیگر عام بچوں سے ہٹ کے تھے، تنہا اور خاموش رہتے تھے۔ اکثراوقات جنگل میں وقت گزارتے اور جنگل میں جاتے وقت اپنی جھولی میں دہکتی ہوئی آگ کے انگارے رکھ کے چلے جاتے تھے۔ نہ ان کا ہاتھ جلتا تھا اور نہ ہی کپڑا۔ جنگل میں آگ جلا کے اپنے حال میں مست رہتے تھے۔
2)جناب کی حفاظت کے لیے شیر کی ڈیوٹی!
پیر صاحب اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ایک دِن ہم غار میں بیٹھے تھے۔ مغرب کا وقت جب ہوا ایک شیر سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ ہم ذرا اس سے جھجھک گئے۔ ساتھ ہی پڑے ہوئے پتھر کو لڑھکا کر غار کے منہ کی طرف کر دیا اور خود غار کی دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئے۔ فرماتے ہیں کہ ہمیں غنودگی سی آئی اور اپنے دادا جی کو خواب میںدیکھا انھوں نے کہا کہ شیر سے مت ڈرو یہ تمہاری حفاظت کے لیے ہے ۔پھرایسا ہوتاکہ صبح کے وقت وہ شیر چلا جاتا تھا اور ساری رات بیٹھا رہتادن میںوہ نظر نہیں آ تا تھا۔ شام کو آجاتا تھا اور صبح تک رہتا تھا۔ تین چاردن ہم وہاں رہے ا یسا ہی ہوتا رہا اور پھر گھر چلے آئے اس واقعہ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ پاک کے انعام یافتہ لوگ کس طرح، کِن کِن جگہوں پہ جا کے، کتنی محنت کرکے، رات دن اور ہمہ وقت یادالٰہی میں مست رہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالی ایسے لوگوں کے نام کو زندہ و جاوید بنا دیتا ہے ۔
3)مجذوبہ مائی کا پیار !
اسی طرح ایک اور واقعہ پیر صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ اُن کے خاندان میں ایک قریبی رشتہ دار خاتون مجذوبہ تھیں ۔جو ایک اخروٹ کے درخت کے نیچے بیٹھاکرتی تھیں اور بڑے بڑے پتھر اپنے آس پاس رکھ کر خوددرمیان میں بیٹھا کرتی تھیں۔ کسی کو اس کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں ۔ پیر صاحب فرماتے ہیں، جب بھی ہم جاتے تھے تو بڑے پیار سے گود میں لے لیتی تھیں اور دائرے کے اندر بٹھاتی تھیں اور کہتی تھیں کہ یہ گُل ہے، گُل آگیا ہے۔گُل کہہ کر پیر صاحب کو پکارتی تھیں۔ بہت ہی باجلال مجذوبہ تھیں ۔
4)جنگلی جانور آپ کو دیکھ کر بھاگ جاتے !
اسی طرح آپ کے متعلق ایک اور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ کشمیر کے لوگ اکثر مکئی کاشت کرتے تھے یہ واقعہ پیر صاحب خود اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرماتے تھے کہ اُس مکئی میں کافی جنگلی درندے تھے ۔ان میں ریچھ اور دیگر جانور بھی تھے ۔پیر صاحب نے فرمایاکہ ایک دفعہ تھوڑی سی اونچی سی جگہ سے جب میں زور سے نیچے اترا اور آگے ان جانوروں کو دیکھا تو دل میں ذرا خوف آیا ۔ لیکن وہ خود ہی کہتے ہیں کہ میں نے وجدانی حالت میں ان کی ہی طرف دوڑ لگا دی اور وہ سب جانور بھاگ گئے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے ۔ پیر صاحب بڑی زور سے مسکرا رہے تھے ۔کیونکہ ان درندوں کا خوف بے جا نہیں وہ انسان کو چیرنے پھاڑنے والے جانور تھے۔لیکن آپ کے خوف سے وہ جانور بھاگ گئے ۔
5)اُس کھیت میں کبھی جانور نہیں آتے تھے !
وہاں کے لوگوں کا معمول تھا ۔ کہ وہ اپنے کھیتوں کے اردگرد آپ کاایک چکر لگوالیے کرتے تھے جس کے باعث اس کھیت میں کوئی جانور اس فصل کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا ۔
6)امیر زادے کا پاگل ہونا !
ایک واقعہ یوں ہے کہ آپ فرماتے ہیں ایک دفعہ ہم بمبئی میں تھے اور ایک سڑک پر جارہے تھے۔ پیچھے سے ایک کار کی آواز آر ہی تھی جو مسلسل ہارن بجا رہی تھی پیر صاحب سڑک کے درمیان کھڑے تھے اورآپ اس گاڑی کے آگے سے نہ ہٹے ۔اس کا ر کے ڈرائیورنے( جو کہ بہت امیر زادہ تھا)کار کی کھڑکی سے منہ باہر نکال کر کہا کہ" پاگل آگے سے ہٹو "آپ نے پلٹ کر جواب دیا کہ"تُو پاگل ہے" بس اسی وقت اس کا دماغ خراب ہو گیا۔ کچھ لوگ اُسے کسی طر ح گھر لے گئے۔ کچھ دِنوں کے بعد ایک شخص جن کا نام بابا قادری تھا، آرمی میں میجر رہ چکے تھے، اس وقت بزنس کیا کرتے تھے، انہیں لوگوں نے یہ واقعہ بتایا وہ سمجھ گئے اور اُسے لے کر پیر صاحب کے پاس آگئے۔ باباقادری صاحب ،پیرصاحب کو آقا بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔انھوں نے کہا کہ آقا بھائی اس آدمی سے غلطی ہو گئی ہے اسے معاف کر دیں۔ لیکن پیر صاحب نہیں مانتے تھے۔ ساتھ ایک ہی بازار تھا بابا قادری اس بازار کی طرف گئے، اور وہاں سے بھنی ہوئی مچھلی لاکر پیر صاحب کو پیار سے کھلانے لگے۔ اورساتھ ساتھ باتیںبھی کرنے لگے ۔وہ خود بھی درویش آدمی تھے۔ بہرحال کسی طریقہ سے انھوں نے پیر صاحب کو منا لیا۔ اب پیر صاحب نے الٹا تھپڑ اس آدمی کو جس نے پاگل کہا تھا اور خود پاگل ہو گیا تھا کو مارا اور وہ اسی وقت ٹھیک ہو گیا۔ یہ واقعہ بعد ازاں جب بابا قادری صاحب پاکستان دربار عالیہ میں تشریف لائے تو انھوں نے بھی سنایا تھا۔ وہ پیر صاحب سے اس واقعہ کے چالیس سال بعد پاکستان میں ملے تھے۔ جب بابا قادری صاحب پاکستان آئے تھے تو پہلی دفعہ ان کو کسی نے کہا کہ یہا ں کوئی مخدوم پورشریف میں ایک درویش رہتے ہیں۔ وہ مخدوم پور شریف پہنچے۔ اور انھوں نے پیر صاحب کو نہ پہچانا کیونکہ اس وقت پیر صاحب حالتِ جذب میں تھے۔ اور اب حالتِ سلوک تھی لیکن پیر صاحب نے انہیںپہچان لیا تھا۔ لیکن انہیں جتایا نہیں۔ جب وہ دوبارہ آپ سے ملنے آئے تو پیر صاحب نے بتایا کہ ہم وہی بمبئی والے ہیں تب وہ بولے اچھا آپ آقا بھائی ہیں ۔
7)امرتسر میں آپ بابا بوری والے کے نام سے مشہور تھے!
اسی طرح ایک اور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک دفعہ پیر صاحب بری امام سرکار کے عرس پر گئے اور وہاں سے حسن ابدال گئے۔ اُن دِنوں
وہاں سکھ آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے پیر صاحب کو پہچان لیا اور وہ پیر صاحب کو یاد کرواتے تھے کہ آپ بابا بوری والے ہیں۔ آپ فرماتے تھے کہ ہم وہ نہیں ہیں لیکن وہ بضدر ہے۔ پھر آپ نے کہا کہ ہاں ہم وہی ہیں۔ پیر صاحب نے بتایا کہ ہم کافی عرصہ امر تسر میںایک جگہ جس کا نام کرم سنگھ کا کٹہرا ہے اس میں بوری کا لباس پہنے پڑے رہتے تھے۔ بظاہر یہ حالتِ جذب تھی اور باطنی طور پراپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے ۔پیر صاحب نانگاباباکے نام سے بھی مشہور رہے۔
8)ہندوستان میں توکّل شاہ انبالوی سے ملاقات!
اسی طرح ایک اور واقعہ جناب پیر صاحب فرماتے ہیںکہ ہم انبالہ میں بھی رہے تھے ۔انبالہ میں ایک بہت ہی بلند پایہ بزرگ توکل شاہ انبالوی تھے۔ ان (توکل شاہ انبالوی ) کے پاس ہم رہتے رہے ہیں۔ ایک دِن کا واقعہ ہے کہ بہت بڑا حقہ تھاجو چرس سے بھرا ہواتھا اوران کے آگے پڑا ہو اتھا۔ جب وہ اس کا کَش لگاتے تھے تواس میں سے آگ کا شعلہ نکلتاتھا۔ دو چارکَش لگانے کے بعد انھوں نے حقے کو پیچھے کیا تو ایک ذاتی خادم جوکہ پاس بیٹھاہی ہوا تھا اس نے وہ حقہ اٹھا کر پیرسید رسول شاہ خاکی صاحب کی طرف کردیا تو کل شاہ صاحب اس بات سے جلال میں آگئے اور لات کھینچ کر اسے ماری اور کہنے لگے کہ سامنے یہ حقہ رکھتے ہو یہ تو دودھ ہیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک آدمی آیا اس نے سر پر بہت بڑا مٹکا دودھ سے بھر ارکھا ہوا تھا ۔تو کل شاہ صاحب نے اس مٹکے سے پیر صاحب کو دودھ پلانا شروع کردیا ۔کافی دودھ پلایا تھوڑی دیر کے بعد وہ گھوڑے پر بیٹھے اور چل دیے ۔ انھوں نے بہت ہی اعلی نسل کا گھوڑا رکھا ہوا تھا ۔توکل شاہ  ایک لمبی دستار سر پر باند ھتے تھے ۔اس دستار کے دو چکر سر پر دیتے اور باقی لمبی چھوڑ دیتے تھے ۔دستار چونکہ بہت ہی لمبی ہوتی تھی وہ گھوڑے پر بیٹھتے تب بھی زمین کے ساتھ گھسٹتی رہتی تھی ۔ پیر صاحب ان کا حلیہ اس طرح بیان فرماتے تھے کہ داڑھی صاف کر تے تھے ۔مونچھوں کے تین چار بال ایک طرف اور تین چاربال دوسری طرف چھوڑ دیتے تھے اس طرح سر پر بھی استراپھیرتے تھے اور دائیں بائیں ماتھے پر تھوڑے سے بال چھوڑدیتے تھے۔ ایک دفعہ جب وہ گھوڑے پر جارہے تھے تو ایک ٹانگے والے نے مذاق کیا کہ آپ کی پگڑی مبارک (جو کہ لٹکی ہوئی تھی)کو اپنی چھڑی سے چھیڑا تو پیرسید رسول شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہم یہ واقعہ دیکھ رہے تھے انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور اتنی بات سمجھ آئی کہ" اے نیلی چھت والے( بہت ہی غضب ناک حالت میں کہا) اتنا ان کا کہنا تھا کہ اس کا ٹانگہ ہوا میں اڑا اور الٹا ہوکر زمین پر پٹکا اور ٹانگے والا اس کے نیچے آگیا۔ جس سے وہ بے ہوش ہوگیا مزیدپیر صاحب فرماتے تھے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ روزِقیامت اُن کی وجہ سے تمام انبالے والے بخشے جائیں گے۔
9)سیدنا ابرا ہیم سیف الدین نقیب الاشرف سے ملا قات!
ایک دفعہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ جب ہم بمبئی میں تھے تو وہاں ایک سیٹھ قاسم تھا اس کے پاس بغداد شریف سے سجادہ نشین سیدناابرہیم سیف الدین نقیب الاشراف رہا کرتے تھے ۔ ہم ایک دن حالت جذب میں ایک جگہ پڑے تھے وہ پاس سے گذرے ہمیں دیکھا تو رُک گئے اورہمارے پاس آگئے ہمیں اٹھا کر گود میں لے لیا اور بہت پیار کیا اور ساتھ ہی دعا مانگنے لگے۔ جب وہ دعا مانگتے تھے تو ہم ان کا ہاتھ پکڑلیا کرتے تھے ۔ایک دفعہ بھی ایسا کیا دوسری دفعہ بھی ایساکیا۔ جب تیسری دفعہ ایساکیا تو وہ فرمانے لگے کہ بیٹا ہوش میں بھی آنا ہے ۔وہ جانتے تھے کہ ان سے مخلوق خدا کو فیض نصیب ہو گا۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ شاید ان کی دعا کا ہی اثر ہے کہ ہم بعد میں ہوش میں آگئے اور جذب سے سلوک کی راہ اختیار کی ۔ جناب سیدنا ابراہیم نقیب الاشراف صاحب نے بغداد شریف سے جناب پیر صاحب کے لیے جبہ مبارک اور ایک ٹوپی مبارک بھیجی اور ساتھ ہی فرمایا کہ ہمیں پتہ ہے کہ آپ ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے مگر ایک دفعہ ضرور پہن لینا وہ چیزیں اب بھی دربار عالیہ پر تبرکا ًمحفوظ ہیں ۔
10) زہر کادیا جانا !
ایک مرتبہ پیر صاحب نے فرمایاکہ جب ہم لاہور میں رہا کرتے تھے تو ایک مولوی صاحب تھے جنھوں نے ہمیں زہر دے دیا جس کا بہت زبردست اثر ہوا ۔بس یہ اللہ پاک کا ہی فضل و کرم تھا۔ایک آدمی وہاں پہنچا وہ فوراً مجھے اٹھا کرساتھ ہی کوئی ہسپتال تھا اس میں لے گیا ۔ڈاکٹر نے علاج کیا اور ہم ٹھیک ہو گئے اور ڈاکٹر یہ کہتا تھا کہ پانچ منٹ کی اور تاخیرہو جاتی تو جان کو خطرہ تھا۔ اس واقعہ سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ فقیر کو کن کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے اور کس طرح ایک فقیر اپنے مشن پر ڈٹا رہتا ہے۔ بالآخر خدا وندِقُدوس اپنے بندے کو انعام و اکرام سے نواز کر زندہ و جاو ید بنا دیتا ہے ۔
11) جناب کی حالتِ جلال !
ایک دفعہ ایک بہت ہی انوکھا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ خادمِ دربار جن کا نام عبداللہ ہے (پیر صاحب جنکو شیخو شیخو کہہ کر پکارتے تھے)نے بھی سنایا تھا اور دیگر لوگوں نے بھی سنایا ہے کہ ایک روز پیر صاحب تمام کپڑے اتار کر کھڑے ہوگئے آپ غصے کی حالت میں تھے اور مختلف قسم کے سخت الفاظ کہہ رہے تھے۔ دراصل جذب کی حالت وارد ہوگئی تھی چند لوگوں نے کپڑے پہنانے کی کوشش کی۔ ایک آدمی آگے بڑھا (اس کا نام محمد خان تھا جو کہ فوت ہوگیا ہے) تاکہ کپڑے پہنائے تو پیر صاحب نے ایک پتھر اٹھایا جو عام حالت میں دو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ پیر صاحب نے اس آدمی کی طرف اتنے زور سے پھینکاجیسے کوئی معمولی سی چیز پھینکی جاتی ہے مگر اسے لگا نہیںوہ پتھر بہت دور جاگرا ۔ بہرحال اور آدمی بھی اکٹھے ہو گئے اوربڑی مشکل سے چادروں سے ان کے اردگرد پردہ بنا لیا۔ کافی دیر کے بعد وہ کیفیت ختم ہوگئی۔ پیر صاحب چادر لپیٹ کر اندر چلے گئے اس واقعہ کو وہی جان سکتے ہیں جنہوں نے مئے توحید چکھی ہو یہ فقرا ء کے راز ہوتے ہیں۔عقل کا بندہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔واللہ واعلم بالصواب۔
12) حج کی پیش گوئی !
اللہ کے بندوں کا اللہ کے پیار میں عجیب حال ہوتا ہے اور اللہ کے پیارے اللہ کے پیارکو عجیب طریقے سے ہی تقسیم فرماتے ہیں۔جو بھی ان کے دامن سے وابستہ ہوتا ہے وہ بھی پیار والا بن جاتا ہے۔ اس پیار میں جلال کی کیفیت بھی دل نواز ہوتی ہے۔ عطا کا عجیب حال ہوتا ہے ماضی حال اور مستقبل روزِ روشن کی طرح فقرا ء کے سامنے ہوتے ہیں۔دوسری کیفیت یہ بھی کہ عطائے الٰہی کے سبب جو قدرت نصیب ہوتی ہے اس قدرت پاک سے تقدیر کے فیصلے بدلتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ پیر صاحب کے ایک مرید جن کا نام چوہدری شبیر احمد ہے انھوں نے جناب کے ساتھ کافی سفر بھی کیا چونکہ ان کی اپنی گاڑی تھی اور اپنی گاڑی میں پیر صاحب کو ساتھ لے کر مختلف مقامات پر لے جاتے تھے اسی وجہ سے پیر صاحب کی ان پر کافی شفقت تھی ۔ چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں اور میری اہلیہ دونوں پیر صاحب کے پاس دربار شریف میں آئے تو پیر صاحب نے میری اہلیہ کو کہا کہ تم انشاء اللہ حج کروگی۔ چوہدری صاحب کہنے لگے کہ حضور کیا میں حج نہیں کروں گا۔ پیر صاحب نے فرمایا کہ میاں تم دونوں حج کرو گے۔یہ بات نوٹ کر لو اس واقعہ کے تقریباً ۱۴سال بعد اللہ پاک کے کرم اورپیرصاب کی دعا سے حج ہی نہیں بلکہ حج اکبر نصیب ہوا جو کہ نہایت ہی خوش بختی کی علامت ہے۔ تو اس واقعہ سے واضح ہوتاہے کہ فقیر مستقبل کے حالات سے آگاہ ہوتا ہے او ر بے شک یہ درجہ کسی کامل کو ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔جناب پیر صاحب نے فرمایا اوراللہ پاک نے اس کے مطابق کر دیا ۔ایسے ہزاروں واقعات ہیں اگر انہیں قلم بند کیا جائے تو کئی کتابیں درکار ہوں گی ۔ مزید چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم لاہور سے واپس یعنی داتا دربار کے عرس سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں سوھاوہ کے مقام سے آگے ایک ویران جگہ آئی پیر صاحب نے فرمایا "چوہدریا بھوک تو نہیں لگی "اس طرح کا ر میں سوار تمام افراد سے پوچھا کہ میاں تمہیں بھوک تو نہیں لگی ۔ان سب نے کہا کہ نہیں اس پر پیر صاحب بولے کہ میاں یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں جنگل میں کھانا نہیں کھلا سکتا اللہ کے فضل سے یہاں بھی کھلاسکتا ہوں ۔اس کتاب میں آپ دیکھیں گے کہ کئی ایسے عجیب واقعات آئیں گے ۔یہ فقیر پر اللہ کا فضل ہوا کرتا ہے ۔
13) حضرت داؤد شاہ خاکی کی دُعا !
اللہ پاک کے احسانات کا اندازہ لگانا تو اس دنیامیں مشکل ترین کام ہے۔ ان احسانات کا شمار آدم زاد کیا دیگر تمام مخلوکات (جنہیں اللہ تعالی نے پیداکیا ہے) کے بس کا کام نہیں اس پرمُستزاد یہ کہ اُن احسانات کے انداز جدا جدا ہیں ۔جس طرح ایک ہی خاندان یہودمیں نبوت کا سلسلہ چلتا رہا ۔ جلیل القدر ابنیاء اور رُسل آتے رہے ہیں۔ جن میں اللہ کریم کے احسانات اور فضل و کرم نہ صرف زیادہ تھے بلکہ اندازبھی جدا جدا تھے ۔ اس طرح قلندر کے خاندان میں روحانیت کے سلسلے کا رنگ جدا ہے ۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوںکہ ایک بڑے بزرگ حضرت داؤدشاہ خاکی (جو ہمارے جدا امجد ہیں)نے دعا دی تھی کہ آخر وقت تک ایک فرزند فقیر ہوگا ۔ اپنے دور کا واحد ہوگا اور اس کی مثال جناب پیر صاحب یوں دیتے تھے، ان کے الفاظ یہ تھے کہ" میاں ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں"اور ناچیز قلندر اپنے جد امجد کی ہی دُعا کا صدقہ ہے۔
14)میرے متعلق ایک اور خصوصی ارشاد مبارک !
جناب پیر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ" میاں پاکستان میں ایسا کوئی نہیں جو تمہارا ہاتھ پکڑسکے بس میاں ایک دفعہ بغداد شریف چلے جانا ۔ "
15) طالبوں کے مختلف اور انوکھے تر بیتی مراحل !
پیر صاحب نے روحانیت کے اسرار و ر موز پر کافی کچھ لکھا اور بیان بھی کیا ہے اور عملی طور پر اس کے نمونے بھی دیے ہیں ۔ روحانیت ایک ایسا سمندر ہے جس کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ عام انسان کے فہم و فراست، قوت اور پہنچ سے بعید ترین ہے۔ رُحانیت کا غوطہ زن ہی اس کے حالات سمجھ سکتا ہے اور یہ بھی اللہ کے فضل و انعام کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ اس راہ میں عجیب و غریب واقعات پیش آتے ہیں۔جس بات کی انسانی سوچ نفی کرتی ہے اسے بار بار سامنے لایا جاتاہے۔ توہمات کا ایک سیلاب ہوتا ہے خطرات کا جہان آباد ہوتا ہے ۔عجیب عجیب خدشے ذہن میںاس طرح بیٹھ جاتے ہیں جیسے کہ انتہائی قابل شاہ سوارگھوڑے کو کنڑول میں لیتا ہے اور سوار ہوتا ہے ۔اس حالت میں فقراء اپنے طالبوں کو مختلف مشقوں سے درست کرتے ہیں۔اس ضمن میں ایک سبق آموز واقعہ زیر تحریر ہے یقینا طالبانِ حق کی رہنمائی کرنے والا ہے اور طالبانِخاص کی منزل کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دُور کرنے والا ہے ۔ایک دفعہ پیر صاحب نے اپنے طالب ( جن کا نام احمد شاہ تھا اصل میں وہ اعوان تھا سید نہ تھا جو کہ قلندریہ سلسلے میں ہی تھا)کو ایک مزار(جوکہ قریبی گاؤں مُرید میں واقع تھا) پر بھیجا کہ وہاں جاکر کچھ وظائف کرو۔اس نے پڑھنا اپنے مقاصد کے لیے تھا ۔شیخ کی مرضی ہوتی ہو تو خاص نظرِکیمیاء سے نہ صرف اس کے جملہ مقاصد کو حل فرمادے اور اگر چاہے تو اسکی اصلاح کامل فرماسکتا ہے ۔ لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ کئی طریقوں سے مرشد آزماتا اور اصلاح کرتاہے اس لیے ادھر بھیج دیا۔ سلسلہ قلندری تھاوہ وہاں پڑھتا رہا جب کوئی چیز نظر نہ آئی تو غصے سے واپس آیا ۔ مزار سے باہر نکل کر ابھی جوتے پہن رہا تھا کہ کچھ خیال آیا تو مزار کے اندر واپس چلا گیا اور مزار کے اوپر بیٹھ کر پڑھنا شروع کردیا یہ واقعہ اس نے مجھے خود سنایا کہ جب میں پڑھ رہا تھا تومجھے یوں محسوس ہوا کہ میں بہت اونچا بیٹھا ہواہوں جیسا کہ آسمان پرہوں اور سامنے نالہ صوج ہے۔ اس کے پار ایک مزار نظر آیا اتنے میں وہ صاحبِ مزاربزرگ سامنے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ تیرا کام نہیں ہو گا۔ احمد شاہ کہنے لگا اگر کام نہیں ہونا تھا تو پہلے ہی بتا دینا تھا ،اتنے دن محنت کیوں کروائی ۔اتنا کہہ کر جب وہ قبر سے زمین پر نیچے اترا تواُسے ایسا لگا کہ جیسے وہ بہت بلندی سے نیچے گرا ہو۔ وہاں سے واپس آیا تو جناب پیر صاحب کو دیکھا کہ سڑک پر پیر صاحب بڑی بے قراری سے چل رہے تھے کبھی اِدھر کبھی اُدھر اور دُور سے مجھے دیکھ کر غصے میں فرمایا میاں کہا ںدفعہ ہو گئے تھے۔تُو آج سارا نظام درہم برہم کرنے لگا تھاتو نے ایسا کیوں کیا؟قبر کے اوپر چڑھ کر کیوں پڑھا۔ پیر صاحب نے سختی سے کہاتمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔اس واقعہ میں یہ خاص بات سامنے آتی ہے کہ مرشدیت اس کو کہتے ہیں کہ طالب کے تمام احوال کا اللہ کے حکم سے شیخ کو پتہ ہوتا ہے۔ جو مزاراحمد شاہ کو نظر آیا تھا پیر صاحب نے فرمایا کہ وہ ہمارے آباؤ آجداد میں سے ایک بزرگ کا تھا۔ اس طرح ایک مرشد جب اپنے مشن کا کام کر رہا ہوتا ہے تو اُس میں اس سلسلے کے پچھلے تمام بزرگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے( یعنی ان بزرگوں کا مزار نظر آنے سے مراد یہ ہے) کہ بزرگوں کو اپنی اولاد میں سے کسی بھی کامل اور اللہ کے دوست بیٹے کی مہارت کا پتہ ہوتا ہے اوروہ تمام بزرگ اُس کے معاون ہوتے ہیں۔ ایک اور بات جواس واقعہ سے سامنے آتی ہے کہ اس مرید کا وہاں پڑھنا اور اس بزرگ کا کام کرنے سے انکار کرنا یہ بھی طالب کی اصلاح کے لیے ہے ۔میں نے جن باتوں کا ذکر کیا ہے کہ روحانیت میں یہ واقعات حالات، معاملات سامنے آتے ہیں اور اُن کے تدارک کے لیے ایسا کام کیا جاتا ہے۔ جب اس بزرگ نے اسے انکار کیاتو اس کے کئی ایسے ذہنی مسائل جن میں گرفتار ہو کروہ روحانیت سے دور رہتا وہ درست ہو گئے اور دوسرا اسے اپنے شیخ کے ادب کا پتہ چلا۔ اس طرح ایک شیخِ کامل کئی طریقوں سے طالبِ صادق کی پرورش اور تربیت کرتا ہے۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.