بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

16) آگ کا انگارہ اُٹھا کر ز بان پر رکھ لیا!
پیر صاحب کے چھوٹے بھائی غلام محمدشاہ خاکی سرکار نے1998ء میں جب وہ پاکستان تشریف لائے ایک واقعہ حضور پیر صاحب کے بارے میں سنایاوہ فرماتے ہیںکہ جب میں ایک مدرسے میں لاہور پڑھتا تھا تو وہاں ایک سید آتا تھا۔ وہ مجھے بہت تنگ کیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر تم سید ہو تو آگ کو پکڑو کیونکہ سادات کو آگ نہیں جلاتی۔ غلام محمد شاہ خاکی صاحب فرماتے ہیںکہ ایک روز بھائی جان یعنی سید رسول شاہ خاکی وہاں تشریف لے آئے اور ہم نے تمام ماجرا انہیں سنا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ سید صاحب بھی آگئے ۔سردیوں کا موسم تھاایک انگیٹھی جل رہی تھی جس میں آگ تھی ۔ پیر صاحب نے ایک انگارہ اُٹھایا اور اپنے منہ میں زبان پر رکھ دیا ،اور منہ میں دو تین دفعہ پھیر کر اس شاہ صاحب کے کپڑوں پرپھونک دیا وہ انگارہ جس جگہ لگا اس جگہ سے کپڑاجل گیا۔ وہ سید صاحب وہاں سے بھاگ گئے۔ اس طرح غلام محمد خاکی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہماری اُس سے جان چھوٹ گئی۔
17) محمود جی سرکار کو خلافت عطا فرمائی!
قلندر سیدمحمودالحسن شاہ صاحب فرماتے ہیںکہ جمعدار شیر زمان عرف ماما جان پرانے خدمت گار اور عقیدت مندوں میں شامل ہیں۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں دسویں جماعت میںپڑھتا تھا ۔ میںگھرمیں سویا ہو ا تھاعرس پاک کا موقع تھا۔ماما جان نے مجھے آکر جگایا کہ پیر صاحب مسجدمیںبلارہے ہیں۔ میں اُٹھ کر مسجد گیا تو جناب پیرصاحبنے مجھے اورماماجان کو خلافت عطا فرمائی۔ اسی طرح ماما جان بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ پیر صاحب نے اچانک کہا کہ نالہ صوج کے پار جانا ہے سائیکل نکالو( حالانکہ سائیکل اور موٹر سائیکل سرکار کو سخت ناپسند تھے)۔بہرحال میںنے سائیکل نکالا جناب پیر صاحب پیچھے بیٹھے ۔نالہ صوج کے پار ایک مزار پر گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد واپس آگئے۔ راستے میں ماما جان کہتے ہیں کہ میں نے ایک زبردست روشنی دیکھی جو کہ تھوڑی دیر کے بعد ختم ہو گئی۔ یہ واقعہ میرے لیے بڑا ہی عجیب تھا۔ بہرحال یہ فقراء کے معاملات ہوتے ہیں ۔ان کے حقائق سے وہ خودہی آگاہ ہوتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات میںکیا راز کار فرما ہوتے ہیں۔
18) ایک لڑکے کو زندگی کا ملنا!
بندہ جب اللہ کریم سے پیا ر کرتا ہے تواس پیار میں اللہ پاک وہ مقامِ قرب عطا کر دیتا ہے کہ جس کی بدولت بندہ اپنے رب سے اپنی بات منوا لیتا ہے۔ یہ مقام بھی دراصل بوساطِت سید الکونین عطا ہوتا ہے جیسا کہ درج ذیل واقعہ سے ظاہر ہے۔ایک واقعہ جو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دِن خوب بارش ہونے کے بعد ہلکی پھلکی پھوار پڑرہی تھی۔ ہمارے گھر میں جو خادم عبداللہ رہتے ہیں ان کا ایک ہی بیٹا ہے جس کا نام رشید ہے وہ اس وقت چھوٹا تھا۔وہ قینچی سے" بجلی کے تارجو لٹکے ہوئے تھے" کاٹ رہا تھاکہ اُسے بہت ہی زبردست کرنٹ لگاحتی کہ وہ زمین پر گر گیا۔ چند عورتوں نے دیکھا اور شور مچا دیا۔ رونا دھونا شروع ہوگیا میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو دیکھا کہ رشید زمین پربے حس وحرکت گرا پڑا ہے ۔ میں نے اسے بہت اچھی طرح دیکھا کہ وہ مردہ حالت میںتھا میں فوراً باہر دوڑا اور سیدھا آکے مین سوئچ بند کیا ۔میرے ساتھ واہ کینٹ کے صوفی ارشد صاحب اور صوفی افضل صاحب بھی تھے میںنے انہیں کہا کہ فوراً فیوزنکالو۔ انھوں نے فوراً فیوز نکال دیا میں پھر دوڑ کر اندر پہنچا تو اس وقت پیر صاحب کو دوسرا رشید نامی لڑکا اندر دربار سے پکڑ کر برآمدے میں لے آیا جب پیر صاحب نے یہ معاملہ دیکھا تو صحن میں کھڑے کھڑے آپ کے چہرے کی رنگت بدل گئی یکدم ایک نورسا ظاہر ہوااوراوجھل ہوگیا۔اس کے بعد (رشید جس کو کرنٹ لگا تھا اور بظاہر مر چکا تھا)وہ اپنی جگہ سے ہلا اور ٹھیک ہو گیا۔
19) پیر صاحب کے تمام اعضاء کا الگ الگ ہونا!
یہ واقعہ ڈھوڈہ(چکوال) کا ہے ۔ جب پیر صاحب ابتداء میں آکر ڈھوڈہ میں قیام پذیر ہوئے اوردس، بارہ سال وہیں مقیم رہے آستانہ عالیہ پر ایک خادم جو ارائیںتھا، رات کوپیر صاحب کو دبانے کے لیے آیا کرتا تھا۔ ایک روز وہ لیٹ ہو گیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں جب آیاتو آ کر دیکھا کہ پیر صاحب کے تمام اعضاء الگ الگ پڑے تھے۔ میں نے سمجھا کہ شاید کسی نے پیر صاحب کو قتل کر دیاہے۔ میں خوف سے دوڑا اتنے میں پیر صاحب نے مجھے آواز دی میں اور ڈر گیا۔ پھر پیر صاحب نے مجھے اور اونچی آواز سے بلایا میں رُک گیا۔اورپیرصاحب کیطرف واپس پلٹا تودیکھا کہ پیر صاحب صحیح سلامت تھے۔ پیر صاحب نے بتایا کہ اگر آنا ہو تو جلدی آیا کرو اور یہ واقعہ کسی سے بیان نہیں کرنا۔ بعد میں بات اس آدمی سے نکلی اور اس گاؤں میں بھی پھیلی اور ہم تک بھی پہنچ گئی۔ یہ کیفیت اور حال اسی ڈھوڈہ میں ایک اور آدمی (جو کہ مستری تھا )نے بھی دیکھی۔
20) فقیری سلب کرنے والے مجذوب کو سزا!
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ پیر صاحب داتا صاحب  کے عرس پرلاہور جارہے تھے کہ دریائے راوی پر گاڑی خراب ہوگئی چنانچہ وہاں سے
پیرصاحب نے پیدل چلنا شروع کردیا۔ راوی پل جونہی پار کیا تو وہاں ایک مجذوب کھڑا تھا۔ اس نے پیرصاحب سے ہاتھ ملایا۔ بس ہاتھ ملانا تھا کہ اس نے پیٹنا شروع کر دیا اورزور زور سے رونا شروع کر دیا۔ تھوڑا آگے جا کے پیر صاحب نے فرمایا" اب روتا رہے گا، نہ جانے اس نے کتنوں کو رلایا ہے" بات دراصل یہ تھی کہ وہ جس سے ہاتھ ملاتا تھا اس کی روحانی طاقت سلب کر لیتا تھا۔ جب اس نے پیر صاحب سے ہاتھ ملایا تو اس کی اپنی طاقت سلب ہوگئی وہ رونے پیٹنے لگا۔ساتھ جو آدمی تھے انھوں نے کہا کہ حضور اس پر کرم کیجئے۔ پیر صاحب نے فرمایا کہ اس نے بہت لوگوں کو خراب کیا ہے۔ اسے خراب ہی رہنے دو کچھ عرصہ بعد ٹھیک ہو جائے گا اور پھر یہ غلطی نہ کرے گا۔ یہ فقیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے طاقت اور قوت نصیب ہوتی ہے اور یہ اس کے فضل کی ایک نشانی ہے۔
21) گستاخ کا دماغ خراب ہو گیا!
پیرصاحب فرماتے ہیں کہ ایک جگہ ہم کافی سال سکونت پذیر رہے۔ ایک آدمی نے کچھ ایسی بات کہی جو پیر صاحب کے متعلقہ تھی۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے رات کو خواب میں دیکھا کہ والدِ محترم پیر موسیٰ شاہ خاکی تشریف لاتے ہیںآپ بہت غصے کی حالت میں اور اسی حالت میں اس شخص کو تھپڑ مارتے ہیں۔ اتنا منظر خواب میںدیکھا ،صبح اُٹھے نمازپڑھی وظائف سے فارغ ہوئے تو پتہ چلا کہ اس شخص کا دماغ خراب ہوگیا ہے اور وہ دماغی توازن کھو بیٹھا ہے۔ یہ واقعہ بھی پیر صاحبنے ارشاد فرمایا تھا جو قلندر نے رقم کر دیا ہے۔
22) فقراء اور مجذوبوں سے تعلق!
پیر صاحب نے زندگی کا بیشتر حصہ حالتِ جذب میں گزارا۔ ہندوستان اور پاکستان میں کافی جگہو ں پر پھرتے رہے۔ ہندوستان میں دہلی، بمبئی، امرتسر، ڈیرہ دون، انبالہ اور بریلی شریف میں رہے ۔ پاکستان میں لاہور، راولپنڈی، مری، رزمک، چلاس، ڈھوڈہ ،مرید اورآخرمیں مخدوم پور شریف میں آستانہ بنایا۔پیر صاحب فرماتے ہیں کہ ہم موہڑہ شریف پہنچے تو اس وقت غوث زماںخواجہ قاسم موہڑوی کا زمانہ تھا۔ انھوں نے پیارسے اپنے ساتھ بٹھایا۔ کچھ عرصہ اُن کے ہاں رہے۔ پھر جب آنے لگے توانھوں نے کہا کہ مجھ سے تمہارا دوبارہ ملنا پتہ نہیں خدا کو منظور ہوگا یا نہیں۔ پھر انھوں نے ایک کپڑااُٹھایا جو کہ دستار تھی وہ ہمارے سر پر لپیٹ دی۔ اس طرح سے نقشبندیہ سلسلہ کی خلافت آپ کو ملی ۔ پیر صاحب فرماتے تھے کہ کافی مجذوب میرے ساتھ رہے ہیں انڈیا میں ایک بابا بنڈل تھا، ایک جنگلی بابا تھا جو ان کے ساتھ رہتے تھے۔ پاکستان میں بابا ولائیت شاہ(خیر پور کلر کہار) ، سائیں مرچوں(راولپنڈی)، سائیں مہنا، ایک مجذوب امیر حسین شاہ، سائیں نور خان( فتح جنگ) ، لال شاہ (کوہِ مری) ایک مجذوب خواجہ صاحب اورچکوا ل کے مجذوب سائیں عطا کے ساتھ پیر صاحب کی مصاحبت رہی ہے۔ پیر صاحب فرماتے ہیںکہ ایک دفعہ سائیں عطا اِدھر آستانہ عالیہ پر آگیا۔پیر صاحب نے ایک چبوترا بنوایا ہو ا تھا جس پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب سائیں عطا آیا تواس نے وہاں پڑا ہوا جائے نماز اُٹھایا اور بھاگ نکلا۔ پیر صاحب ذرادُور کھڑے تھے ۔جب انھوں نے اسے جائے نماز لے جاتے ہوئے دیکھاتو پیر صاحب نے بھی دوڑ لگائی اور دروازے پر پکڑ لیا اس کو ایک تھپڑ مارا اور جائے نماز لے لی۔ یہ فقراء کا باطنی معاملہ ہوتا ہے۔ بہرحال پھر بھی وہ جہاں کہیں دیکھتا، ملتا اور باطنی معاملات بیان کیا کرتا تھا۔ اس طرح چکوال میںا یک مجذوبہ مائی"بلو"بھی آپسے عقیدت رکھتی تھی اور جب کہیں ملتی تو باطنی معاملات بیان کرتی۔ ایک دفعہ وہ پیر صاحب کو دیکھ کر یہ گیت گنگنانے لگی کہ "چن چن دے سامنے آگیا"۔ علاوہ ازیں پیر صاحب ہر سال داتا گنج بخش علی ہجویری کے عرس پاک پر جایا کرتے تھے۔ اس طرح بری امام سرکار  کے عرس پر بھی جایا کرتے تھے۔
23)قریب وبعید سے فقراء کا مشاہدہ !
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ پیر صاحب لاہور داتا صاحب کے عرس پر گئے۔ آپ راوی روڈ پر اترے وہاں ایک گھر گئے پھر وہاں سے ٹانگے پر سوار ہو کر جارہے تھے کہ راستے میںبابا چھاتے والا(نزدمینار پاکستان ) کے پاس سے گذرے۔ اس نے آپکو دیکھتے ہی بلا لیا۔ آپاس کے پاس گئے ۔اب بابا چھاتے والا کہتا تھا کہ آپ اِدھرمیرے پاس بیٹھیں۔ پیرصاحب نے کہا میاںیہ تمھارا کام ہے تم کروہماری ڈیوٹی مخدوم پور شریف میں لگی ہوئی ہے۔مگر وہ بضد تھا بہرحال زبردستی وہاںسے جان چھڑائی۔ پھر جب پیر صاحب وہاں سے گزرتے تو اپنا منہ لپیٹ لیتے تھے۔ اس سفرمیں آپ کے ساتھ ایک حافظ صاحب بھی تھے۔انھوں نے سوچا کہ پیرصاحب کے علاوہ بابا چھاتے والے سے ملنا چاہیے۔ اس وقت پیر صاحب لاہورمیں( کوٹ لکھپت) مقیم اپنے ایک خلیفہ نور محمد صاحب کے گھرقیام فرمایا کرتے تھے جن کا اب وصال ہوچکا ہے۔ جب وہاں پہنچ گئے تو حافظ صاحب پھر بابا چھاتے والے کے پاس(المعروف بابا چھتری والے نزد مینار پاکستان راوی روڈ) کے پاس آئے۔ چونکہ حافظ صاحب پیر صاحب کو بتائے بغیر آئے تھے بابا چھاتے والے نے دیکھتے ہی تین ،چارگالیاںدے دیں اور کہا کہ اپنے خصم کو چھوڑ کر کدھر آئے ہوواپس چلے جاؤ ۔ جب حافظ صاحب واپس آئے تو ان کی حیرانگی کی اور بھی حد نہ رہی جب پیر صاحب نے اُن سے کہا کہ فیض لے کر آگئے ہو۔ حافظ صاحب حیران رہ گئے اور شرمندہ بھی ہوے۔ جناب لال بادشاہ مری والے اکثر لوگوں کو پیر صاحب کے پاس بھیجتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارا خصم یعنی(شوہر) ادھر بیٹھا ہوا ہے مخدوم پور چلے جاؤ ۔ پیر صاحب ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم پیراپیّ (رزمک) کے پاس گئے تھے وہ انگریز کے خلاف لڑرہا تھا۔ ہم ایک دودِن اس کے ساتھ غار میں رہے۔ اندرہی وہ گوشت وغیرہ پکاتے تھے۔ ان کے متعلق پیر صاحب فرماتے ہیں کہ بہت ہی اعلیٰ صفت درویش اور فقیر آدمی تھے۔
24) تعلیمات وہدایت!
پیر صاحب اپنی زندگی میں ہمیشہ حکمت سے بھر پور کلام کیا کرتے تھے۔ ان کاکلام اپنے اندر کئی مطالب اورکئی مفہوم لیے ہوتا۔ اُس کلام کی کئی جہتیںہوتیںاور ہر جہت میں عجیب سبق آموز، روح پرور ،دِل کو بھانے والے اثرات موجود ہوتے۔ کلام ایک سے ہوتاسمجھایا اس میں سب کو جاتا۔ سب یہ محسوس کرتے تھے کہ شاید ہمارے متعلق بیان ہورہا ہے۔ اکثر آنے والوں کو جب درس دیتے تو اس کے تمام حالات ظاہر کر دیتے جو کہ وہ دِل میں رکھتا تھا۔ اس طرح اسے تمام سوالات کا جواب بغیر سوال کیے مل جاتا تھا۔ یہ بھی پیر صاحبکا تصرف تھا۔ مرید کو انتہائی محبت کے ساتھ، پیار کے ساتھ، تمام تر توجہ کے ساتھ۔ انتہائی قریب بیٹھا کراُسے سمجھاتے تھے، درس دیتے تھے، توجہ فرماتے تھے اور یہ عمل باربار فرماتے تھے تاکہ کوئی کسر باقی نہ رہے۔
ایک اور اہم اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہر مریدیہی کہتا ہے کہ جو بات مجھ سے تھی وہ کسی اور سے نہ تھی۔ یہ بھی ان کے روحانی تصرف، روحانی قوت اور نظر کا کمال تھا۔ دراصل یہ اہل اللہ کا کمال ہے اور فقیر کی نشانی ہے۔ اکثر بات کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ "میاں اپنی نہ پڑھا کرو۔" اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی مردِ کا مل کا بیعت ہو جاتا ہے تو اس وقت اس کی حالت ایک ذبح شدہ جانور کی سی ہو جاتی ہے۔ اب ذبح کرنے والا جس طرح اس کو کاٹے یا جو چاہے سو کرے۔ ذبح شدہ جانور کی اپنی کوئی مرضی، حیثیت اور رائے ہر گز نہیں ہوتی۔ یہی حال مریدکا ہوتا ہے۔ "المرید لایُرید"یعنی مریدوہ ہوتا ہے جس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ جب کوئی بیعت ہو جائے، مرید ہو جائے، طالب ہو جائے، اپنے شیخ کے سا تھ منسلک ہو جائے تو پھر اسے اپنی رضا ترک کرنی پڑتی ہے اور رضائے شیخ پر نثار ہونا پڑتا ہے۔ اسی بابت میں وہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ "میاں اپنی نہ پڑھا کرو"۔اسی طرح پیر صاحب فرماتے کہ اچھی اولاد اپنے والدین کا نام روشن کرتی ہے اور بری اولاد اپنے والدین کا نام اور کام تباہ کرتی ہے۔مقصد یہ تھا کہ اپنے آپ کو سنبھال کر رکھنا چاہیے ہر برائی سے بچنا چاہیے۔ تاکہ آدمی اپنے والدین کی وراثت کو سنبھا ل سکے اور ہر طرح سے سرخرو ہو سکے۔
پھر اکثر فرماتے تھے کہ ہر کسی کے لیے اس کا مرشد کافی ہوتا ہے۔ یعنی جس جگہ وہ بیعت ہو گیاوہ اس کا مرشد ہے وہی اس کے معاملات میںکافی ہوتا ہے۔ یہ بات آپ باربار دھراتے اور بہت سخت تنبہیہ فرمایا کرتے تھے ۔ مزید فرماتے تھے کہ جس طرح وراثت میں اولاد کو اپنے باپ کی جائیداد سے حصہ ملتا ہے، اس طرح مریدین کو حصہ اپنے مرشد سے ہی ملتا ہے یہ اور کہیں سے ممکن نہیں ۔ تصورِ شیخ اور فنا فی الشیخ کا درس دیتے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہرولی اللہ نے یہی کہا ہے کہ ہر ایک کے لیے اس کا مرشد ہی کافی ہوتا ہے۔ پھر صحبت کے متعلق فرماتے تھے کہ صحبتِ شیخ از حد ضروری ہے اول تو روز شرفِ زیارت و صحبت حاصل کی جائے اگر روز ممکن نہ ہو تو ہفتہ میں ایک بار، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ماہ میں ایک بار اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار شرف صحبت وزیارت لازمی ہے۔ ورنہ اس کے ایمان کو خطرہ ہے وہ شیطان کے جال میں پھنس جائے گا اور اپنی آخرت اورروحا نی منزل کو تباہ کر بیٹھے گا۔ اس لیے ان احکامات پر عمل کرنا اشد ضروری ہے۔
ایک مرتبہ عاجزی کا ذکر کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ایک جگہ چار فقراء بیٹھے تھے اور ان میں سے ہر ایک نے اپنا حال بیان کیا کسی نے کہا کہ میری طاقت فلاں تک ہے ،فلاں تک ہے ۔ جب تین بیان کر چکے اورچوتھے کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میری بہت کم طاقت ہے ۔ سب نے کہا کہ تُو بتانا نہیں چاہتا۔ بہت اصرار کرنے کے بعد پھر وہ بولے کہ میری تھوڑی سی طاقت ہے ذرا نظر اُٹھاتا ہوں بغداد شریف تک دیکھ لیتا ہوں اُن کا نام مجھے یاد نہیں ہے۔ یہ واقعہ چار مجذوبوں کا ہے۔ جو پیر صاحب کے ہم نشین تھے۔پیر صاحبمزید فرماتے ہیں کہ آج کل ہم(مریدین) کہتے ہیں کہ ہم قطب کے مقام پر فائز ہو جائیں جبکہ ہم نے کئی سال جنگلوں کو چھان مارا، پانی میں رہے ،ریت میں رہے، پتھربھی کھائے، گھاس کھاتے تھے، رات دِن جاگتے تھے، ریاضت و مشقت کرتے تھے، مجاہدہ کرتے تھے، اللہ کی خاطرسفر پیدل کرتے تھے۔ مادرزاد فقیرہونے کے باوجود اور آباؤ اجداء کے فیض کے امین ہونے کے باوجود اتنی سخت محنت اور مشقت اور مجاہدہ کیا۔ایک دفعہ تو جسم میں کیڑے پڑ گئے انہیںمارنے کا بھی حکم نہیں تھا۔ منزل مقصود ہونے کے بعد کچھ طالبوں نے سوئی لے کر کرید کرید کر جسم سے ان کیڑوں کو نکالا۔ مزید فرما تے ہیں کہ
اب بھی زندگی جہد مسلسل کی طرح گزرتی ہے۔ دِن رات تفکرات میں گزرتے ہیں اور یہ آنے والے،(یعنی طالبین، مریدین) ان تمام حالات کو بالائے طاق رکھ کر ،کہتے ہیں کہ پہلے ہی دِن پرواز کر یں اور کسی اعلی روحانی مقام پر فائز ہو جائیںحالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے۔
جناب پیر صاحب کی عمر مبارک کا اندازہ لگانا بھی بہت مشکل ہے۔ پیر صاحب کے جو حالات و واقعات لوگوں سے سنے ہیں اور جن کی معتبر دلیلیں بھی موجود ہیں اِن تمام چیزوں کو مدِنظر رکھ کر قلندر یہ کہتا ہے کہ فقیر کی زندگی دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک باطنی اور ایک ظاہری جسے ہم روحانی اور جسمانی زندگی بھی کہہ سکتے ہیں ۔ ظاہری طور پر عمر اتنی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ مندرجہ بالا واقعات انکی روحانی زندگی کے متعلق ہیں ۔فقیر کو روحانی طور پر بے شمار چیزوں کا مشاہدہ کروا دیا جاتا ہے۔ جو کہ عین حق ہے، اس طرح صحیح عمر کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
25) سفرِارض مقدس!
پیر صاحب نے اپنی زندگی میں ارض پاک کا سفر بھی کیا۔آپ کودو دفعہ حج اورایک عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اسطرح آپ حج بیعت اللہ اور زیارت روضہِ رسول  سے فیض یاب ہوئے پیر صاحب فرماتے ہیں کہ جب ہم پہلی بار گئے تو وہاں ایک مجذوب سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ اپنا منہ کھولو ان کے ہاتھ میں کوئی دانہ تھا یا کوئی پتھر تھا۔ انھوں نے ایسے منہ میں پھینکا ،پیر صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ سید ھا حلق سے نیچے اتر گیا۔ وہ مجذوب صاحب باربار فرمانے لگے کہ" آؤ جاؤ، آؤ جاؤ، آؤ جاؤ"۔ غالباًتین بار کہا۔ پیر صاحب فرماتے ہیں یہ واقعہ پہلی بار پیش آیا اور پھر غالباًتین باروہاں جانے کا پروگرم بنا۔مزید فرماتے ہیں کہ ہم نے روضہ رسول  کے سامنے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ روضہ ء مبارک سے باتیں کر رہا تھا۔ یہ واقعہ بالکل ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا مزید وہاں کے واقعات خلیفہ نورالدین چشتی صاحب نے اس کتاب میںدرج کیے ہیں ۔
26) تبرکاتِ مبارک!
دربارِ عالیہ پر چند تبرکات مبارکہ بھی موجود ہیں۔جنہیں یہاں لانے کے لیے قدرت نے کچھ آدمیوں کا سبب پیدا کیا۔ یہ واقعہ اس طرح کا ہے کہ مدینہ شریف میں ایک شاہ صاحب رہتے ہیں جن کا نام مسکین شاہ صاحب ہے وہ بچپن میں پیدل مدینہ شریف گئے تھے۔ ان کی ملاقات مدینہ شریف میں پیر صاحب سے ہوئی اور یہ ملاقات وہاں پیر صاحب کے ایک مرید مرزا محمد اقبال صاحب نے کروائی۔ پیرصاحب کا قیام اقبال صاحب کے گھر ہوتا تھا اور مسکین شاہ صاحب کا مرزا اقبال سے تعارف تھا۔ اِس طرح پیر صاحب سے مسکین شاہ صاحب کی ملاقات ہوئی۔ مسکین شاہ صاحب روضئہ رسول کے اندر جھاڑ وکش تھے اور فقیر آدمی تھے۔ پیر صاحب سے ملاقات کے فوراً بعد ہی پیرصاحب کے بہت زیادہ قریب ہوگئے۔ انھوں نے اور مرزا اقبال صاحب نے یہ تبرکات دربار نبوی سے حاصل کیے چونکہ ان کے وہاں اچھے تعلقات تھے۔ روضئہ رسول کے اندر کی دیوار جو سیدہ فاطمہ الزھرہ کے ہجرہ مبارک سے ملحق تھی اس میںایک کھڑکی لگی ہوئی تھی۔تعمیرات کے دوران حکومت نے وہ کھڑکی نکالی تو ان دونوں صاحبان نے یعنی شاہ صاحب اور مرزا اقبال صاحب نے وہاں سے وہ کھڑکی لے لی اور بڑی حفاظت اور محنت کے ساتھ اقبال صاحب یہاں لائے۔ اور پیرصاحب کو پیش کر دی۔تبرکات میں دوسری چیزیں قبراطہر پر پھیرنے والا جھاڑ و مبارک تھا وہ بھی ان دونوں صاحبان نے حاصل کیا اور دربارِ عالیہ پر لے آئے ۔اِس طرح باقی تبرکات بھی بڑی محنت کر کے حاصل کیے اور دربار عالیہ پر لے آئے۔بلاشبہ یہ بہت بڑا خزانہ ہے ، رحمت و برکت سے بھرپور ہے اور یہ حضور  کی نواز شات کا مظہر ہے۔ یہ ان کی طرف سے انعامات ہیں ۔ جھاڑ و مبارک کاجو دستہ تھا اُس کا اعصا بنا دیا گیا ہے وہ بھی تبرکات میں پڑا ہے۔
27) جناب پیر صاحب کی تصانیف!
جناب پیر صاحب نے اپنی حیات مبارکہ میں جہاں لاکھوں لوگوں کو باطنی ورُوحانی فیض سے فیض یاب کیا ،دِلوں کی اصلاح کی، دنیا کی محبت سے نکال کر لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول  کی محبت سے روشناس کروایا، وہاں آپ نے اپنی نادر تصانیف کے ذریعے بھی لوگوں کی ظاہری و باطنی اصلاح کا سامان فراہم کیا۔ آپ کی مبارک کتب روحانیت ،طریقت اور شریعت کاماخذو منبع ہیں ۔جس طرح جناب کی اپنی مبارک زندگی روحانیت
اور شریعت مطہرہ کا مکمل نمونہ تھی اِسی طرح آپ کی کتب آپ کی شخصیت مطہرہ کی آئینہ دارہیں ۔
آپ کی کتب اپنا ثانی نہیں رکھتی جو مندرجہ ذیل ہیں:
کشکولِ قلندریہ
اسرارِ اموزِ طریقیت
مجموعہ اور ادمعہ دلائل الخیرات
 نسبتِ رسولی 
مسائلِ شریعت
 مصباح الھدایت
اعجازِ ھادی
 حزب البحر
 رموزِ حقیقت
 دعائے سیفی۔
28) حاصلِ کلام!
فقیر کی زندگی کو احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ فقیر کی زندگی کا ہر دن، ہر رات،ہر لمحہ کسی نہ کسی حکمت سے بھر پور ہوتا ہے۔ گویا اس طرح فقراء کے تمام دِن اور تمام راتیں پُراَز حکمت ہوا کرتی ہیں۔ اُن کے ارشادات، معمولات، معاملات ،عبادات، کردار ،حُسنِ اخلاق، اصول، توجہ اور پیار یہ تما م چیزیں اپنے اندر کرامات لئے ہوئے ہوتی ہیں اورکرامات کا تعلق اللہ کے کرم کے ساتھ ہے۔ فقیر میں مذکورہ بالا تمام چیزیں اللہ کے کرم کے ساتھ ہی ہوتی ہیں۔میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اِس قلندر پر اللہ اور اس کے رسول کا کرم اور جناب غوث الااعظم کی نظر ہے اِ سی وجہ سے ایک عظیم مشن سونپا گیا ہے جس کا کام میں نے شروع کر دیا ہے اور اِ س مشن میںا للہ اور رسول کے کرم سے بے حد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انشا اللہ ہم اپنے مقاصد میں کامیاب رہیںگیں۔مزید پیر