باقی
آپ لوگ اِس
کتاب میں اُن
کی زندگی کے
متعلق کافی
کچھ پڑھیں
گے۔ ہم نے پوری
کوشش کی ہے
کہ محنت کر
کے اِن تمام
چیزوں کو اکھٹا
کر دیا جائے
ہے۔ یہ بلاشک
و شبہ سخت محنت
کا کام تھا۔اللہ
اور رسول کی
مدد اور فضل
و کرم سے اس
میں کامیابی
نصیب ہوئی
۔جہاں تک ممکن
تھا ہم نے وہ
تمام مواد
اکٹھا کیا
اور اسے کتاب
کی شکل دی۔
اللہ تعالیٰ
آپ کو اسے پڑھ
کر سمجھنے
کی اور عمل
کرنے کی توفیق
نصیب فرمائے
آمین بحرمت
سید المرسلین۔
آخر میں ایک
بار پھر کہوں
گا کہ اللہ
اور رسول کی
مدد سے اور
غوث پاک کی
نظر سے اور
بزرگوں کی
دُعاوں سے
میں نے جناب
پیر صاحب کے
اس سلسلہ کو
بخوبی سنبھالا
،اورپھر اپنا
سلسلہ شروع
کیا جس میں
اللہ تعا لیٰ
کا بے انتہا
رحم اور کرم
ہوا جس کا میں
لاکھ لاکھ
بار اور کروڑ
ہا بار شکر
گزار ہوں۔دُعا
ہے کہ اللہ
پاک تمام مُریدین
کو محبت،ادب،وفا،تکمیل
حکم اور تصورِ
شیخ عطا فرمائے۔
بحرمت سیدناومُرشدنا
شیخ عبدالقادر
جیلانی،محبوبِ
سبحانی ،شہبازِ
لامکانی ،غوثِ
صمدانی ۔ بحرمت
اصحاب واہل
بیعت ،بحرمت
احمدمجتبٰی
جناب محمد
مصطفٰی آمین!
29) مختلف علوم
سے شناسائی!
اللہ پاک سے
طالب جب طلب
کرتا ہے تو
وہ اسے اس کی
طلب کے عوض
اپنی محبت
عطا کر دیتا
ہے۔ پھر جب
وہ اللہ پاک
سے محبت کرنے
لگ پڑتا ہے
تو اس محبت
کے عوض اسے
اپنا عشق عطا
کر دیتا ہے۔
جب وہ عشق میں
بے خود ہوتا
ہے، جتنا جتنا
اس میں وہ مست
و بے خود ہوتا
چلا جاتا ہے،
اتنے اتنے
اسے اللہ کے
قرب کے درجات
حاصل ہوتے
چلے جاتے ہیں۔
ان درجات میں
سوجھ بوجھ،
اعلیٰ قسم
کی سمجھ،فہم
وفراست وبصیرت
اور کسی شے
کو کماحقہ
پانا سب کچھ
عطا ہو جاتا
ہے۔اس طرح
اللہ کا ولی
تمام اقسام
کے کلام سمجھتا
ہے اور تمام
اقسام کے بیان
کو سمجھتا
ہے۔ یعنی کہ
کلام کی قسمیں
اور بیان کی
قسمیں ۔ اس
ناچیز قلندرسید
محمود الحسن
شاہ نے دیکھا
ہے کہ کلام
کی کوئی بھی
نوعیت ہوتی
تھی تو اسے
پیر صاحب بخوبی
سمجھتے اور
اس پورے کلام
کو اپنے اندر
پا کر اس کلام
کو اپنے کلام
میں ایسا تبدیل
کر کے پیش کرتے
کہ اس کلام
کی بھی صحیح
معنو ں میں
سمجھ آتی اور
جو اپنا کلام
تھا اس کا بھی
صیحح طور پر
اثر ہوتا۔
غرض کہ وہ ہر
قسم کے بیان
کو جانتے تھے
مندرجہ بالا
عطا کردہ درجات
کے باعث اسی
طرح علمِ موسیقی
کو بھی خوب
سمجھتے تھے
۔جیسا کہ میں
نے پہلے لکھا
ہے کہ اللہ
کے اس قرب میں
تمام علوم
آشکار کر دیے
جاتے ہیں تو
بالکل اِسی
طرح پیر صاحب
کو علم موسیقی
سے بھی شناسائی
تھی۔
ایک دفعہ کا
واقعہ ہے کہ
ایک خاندانی
راگ جاننے
والا (یعنی
راگ گھرانے
کا آدمی تھا)جسکا
نام استاد
علم دین تھا
(جو کتھک ڈانس
کا ماسٹر تھا،
اس علم کی تعلیم
و تربیت کرتا
تھااور ۱۰۳سال
کی عمر میں
بھی وہ باقاعدہ
رقص کر لیتا
تھا) حضور کے
سامنے اپنا
راگ پیش کر
رہا تھا ۔ (حمد،
نعت، منقبت
اور غزل اور
دیگر راگ کی
اقسام جو ہوتی
ہیںوہ پیش
کر رہا تھا)
اس کے بیان
کرنے کے دوران
جناب نے تین
چار دفعہ اسے
روکا کہ تم
یہاں سے غلط
پڑھ رہے ہو
جب اس نے اپنا
کلام ختم کیا
تو وہ بہت زیادہ
متاثر ہو چکا
تھا اور انتہائی
حیران تھا
کہ یہ علمِ
موسیقی کو
اس طرح جانتے
ہیں کہ آپ نے
مجھے گردن
سے پکڑ لیا
ہے ۔ آپ نے ارشاد
فرمایا کہ
بس میاں میں
تو کچھ بھی
نہیں جانتا
یہ سب کچھ اللہ
تعالیٰ کی
طرف سے ہے۔
پھر ایک دفعہ
کا ذکر ہے کہ
ایک دفعہ جناب
پیر صاحب نے
یہاںقوالی
کا بندوبست
کیا۔ اس وقت
میری (قلند
رسید محمود
الحسن شاہ)عمر
چھوٹی تھی
ادھر قوالی
ہوئی میں بھی
پیر صاحب کے
ساتھ سامنے
بیٹھا ہوا
تھا قوال قوالی
کرتے رہے۔
درمیان میں
انھوں نے ایک
راگ چھیڑا
تو پیر
صاحب نے فوراً
انھیں ٹوک
دیا کہ میاں
تم اس جگہ غلطی
کر رہے ہو۔
وہ قوال حضرات
بھی انتہائی
حیرت سے تکنے
لگے۔ فیصل
آباد کے کافی
نامور قوال
تھے اور کافی
گدیوں پر قوالی
کے لئے مخصوص
تھے ۔ اللہ
پاک اپنے بندے
کو تمام علم
تمام کلام
تمام بیان
سے اِس طرح
آگاہ کر دیتا
ہے کہ اس میں
اسے معلم بنا
دیتا ہے۔
30) حضرت خواجہ
خضر کے ساتھ
قرآن کا دور
کرنا!
یہ واقعہ میں(
قلندرسید محمود
الحسن شاہ)
نے اس طرح پیر
صاحب سے سنا
تھا کہ ہمارے
بزرگوں میں
سے ایک بزرگ
تھے وہ پیدل
کشمیر سے حج
پر گئے۔ راستے
میں ان کی ملاقات
حضرت خواجہ
خضرسے ہوئی
اور یہ بات
بھی مسلمہ
حقیقت ہے کہ
جو اللہ کا
دوست ہوتا
ہے۔ اس سے کسی
ارواح کا ملنا
یاکسی بزرگ
کا غائبانہ
ملنا یہ ممکن
ہوتا ہے اور
خواجہ خضر
کی ملاقات
لازمی ہوتی
ہے۔خواہ کوئی
ابھی راہ طریقت
کا مسافر ہو
یا کامل ہو
جائے۔ اس طرح
جب راستے میں
خواجہ خضر
ملے تو وہ بزرگ
حضرت خواجہ
خضر کے ساتھ
قرآن کا دور
کرتے رہے حتیٰ
کہ وہ بیت اللہ
شریف پہنچے
تو قرآن مجید
مکمل ہوگیا
حضرت خواجہ
خضرنے دعا
دی کہ آپ کی
نسل میں قرآن
کریم اچھا
پڑھنے والے
ہوں گے۔ ایک
دِن دربار
میںکافی لوگ
موجود تھے
ان کے سامنے
پیر صاحب نے
یہ واقعہ بیان
کیا اس کے علاوہ
بھی متعدد
بار یہ واقعہ
بیان فرمایا
تھا۔
31) مجھ قلندر
سے متعلق ارشادات
اور جانشینی
کا اشارہ!
ایک دفعہ حسبِ
معمول پیر
صاحب داتا
صاحب کے عرس
پر گئے میں
بندئہ نا چیز
قلندرسید محمود
الحسن شاہ
بھی ساتھ تھا۔
داتا صاحب
کے عرس مبارک
سے فارغ ہوئے
تو پیر صاحب
نے داتا صاحب
کے مزار کا
سبز رنگ کا
غلاف(چادر)
منگوایا ۔اسے
پیکو کروائی
اور واپس گھر
آئے۔ گھر لا
کرامی جان
کے حوالے کر
دیا اور کہا
کہ اسے سنبھال
کر رکھو کچھ
دِنوں کے بعد
یہ تمہارے
کام آئے گا
۔یہ دستار
ہے ہمارے بعد
محمودالحسن
شاہ صاحب کو
دے دینا ۔یہ
واقعہ جناب
پیر صاحب کے
وصال مبارک
کے ٹھیک تین
ماہ اور پانچ
دِن پہلے کا
ہے۔ یعنی اپنی
حیات مبارکہ
میں ہی پیر
صاحب نے اس
قلندر کی جانشنی
کا علان کر
دیا ۔اس سے
قبل جس وقت
میں میٹرک
میں تھا تو
محرم الحرام
میں سیدنا
امام حسین
کا عرس ہوتا
ہے تو اس پر
دس محرم کی
صبح بلا کر
دستارِ خلافت
بھی عطا فرما
دی تھی۔
32) مزیدارشادات!
(i)۔ اِس کے علاوہ
پیر صاحب نے
بندہ(قلندر
سید محمود
الحسن شاہ)
کے متعلق فرمایا
کہ تاجدارِاولیا
حضور غوث الااعظم
نے بھی مجھے
بشارت دی کہ
آپ کے گھر محمود
آرہا ہے۔
(ii)۔ پیر صاحبنے
مزید بندئہ(قلندر
سید محمود
الحسن شاہ)
کے متعلق فرمایا
کہ اسکی پیدائش
سے قبل حضور
پیر موسیٰ
شاہ خاکی(حضور
پیر صاحب کے
والد گرامی
قدر) نے خواب
میںآکر بشارت
دی کہ ہمارا
بیٹا آپ کے
گھر پیدا ہو
رہا ہے۔
(iii)۔ جیسا کہ پہلے
بھی بیان کیا
ہے کہ بابا
داؤد شاہ خاکی(جوکہ
ہمارے آباؤاجداد
میں سے ہیں)
کا ارشاد ہے
کہ ہماری نسل
میں ایک بچہ
مادر زاد فقیر
ہوگا اور اپنے
آباؤ اجداد
کی وراثت کا
امین ہوگا۔
(iv)۔ مزیدبراں
پیر صاحب نے
فرمایا کہ
بیٹاتمہارا
نام امام بریّ
سرکار نے تجویز
کیا ہے اور
تمہاری ایک
نسبت امام
بری سرکار
سے بھی ہے۔
(v)۔ امی حضور
فرماتی ہیں
کہ اکثر پیر
صاحب ارشاد
فرماتے تھے
کہ اگر ہم نے
محمود الحسن
پر توجہ نہ
دی تو یہ یہاں
سے چلے جائیں
گے۔
(vi)۔ جناب پیر
صاحب نے یہ
ارشاد فرمایا
کہ میاں پاکستان
میں ایسا کوئی
نہیں جو تمہارا
ہاتھ پکڑسکے
بس ایک دفعہ
بغداد شریف
چلے جانا۔
(vii)۔ محمود جی
سرکار کی پیدائش
مبار ک کا جب
وقت آیاتو
امی حضور بیان
فرماتی ہیں
کہ دو دِن قبل
پیر صاحب نے
ارشاد فرمایا
کہ ہمیںبذریعہ
خواب یہ بشارت
ہوئی ہے کہ
آپ کے گھر بیٹا
پیدا ہوگا
اُس کا نام
محمود رکھنا
اور وہ قلندر
ہوگا۔ پیر
صاحب فرماتے
ہیں کہ میں
نے بشارت دینے
والی ہستی
سے خواب میں
ہی پوچھا کہ
اِس کی کیا
نشانی ہے تو
بتانے والے
نے بتایا کہ
آپ کے بیٹے
کے جسم پر سرخ
رنگ کے سات
نشان ہوںگے۔
وہ سات قوتوں
کی نشان دہی
کرتے ہیں۔
پھر پیدائش
کے بعد فرمایا
کہ بچے کو نہلا
کر اِدھر لے
آؤ پھر وہ ان
نشانات کو
دیکھنے لگے
اور واقعی
سات نشان تھے
ان کا رنگ بھی
سرخ تھا۔ یہ
دیکھ کر پیر
صاحب ازحد
خوش ہوئے۔
(viii) ایک دفعہ
کاذکر ہے کہ
عرس کا موقعہ
تھا۔دربارشریف
میں کافی جمِ
غفیر تھا ۔
ایک خادم جس
کانام فقیر
محمدہے( کھوڑ
ضلع اٹک سے
اُس کا تعلق
ہے)وہ بھی اُس
محفل میں موجود
تھا۔اُس کے
پاس ایک ٹیپ
ریکارڈرتھا۔وہ
پیر صاحب کے
ارشادات کو
ریکارڈ کر
رہا تھا۔ بعداز
وصال اُس نے
وہ کیسٹ مجھے(پیر
قلندر سید
محمودالحسن
شاہ خاکی) دی
جس میں وہ ارشادات
ریکارڈتھے۔
جب میں نے سُنا
تو میں چونک
اُٹھاآپ بہت
ہی خاص گفتگو
فرمارہے تھے۔جناب
فرما رہے تھے
اور میںسُن
رہاتھا۔ کیسٹ
سے آواز آرہی
تھی کہ’’ میاں
یہ جو بڑا ہے
یہ ابھی اِدھر
توجہ نہیں
دیتا۔جس وقت
اِس نے اِدھر
(سلوک) توجہ
دی تو یہ وقت
میں واحدہوگا‘‘
۔ اس قسم کی
اور باتیں
بھی میں جناب
کے پاس بیٹھا
سُنتا رہتاتھا۔خاص
کر جب عرس کی
محفل ہوا کرتی
تھی متعددبار
ایسا ہوا کہ
جب پیر صاحب
نے ذکر شروع
کروایامیں
نے بھی ساتھ
شروع کیاجس
سے مجھ پروجد
کی سی کیفیت
طاری ہو جاتی
تھی توجناب
کندھے کوپکڑ
کرجھنجھوڑتے
تو فوراً میری
کیفیت ٹھیک
ہو جاتی۔ کئی
بار نعت شریف
مسجد میں سپیکر
پر پڑھی تو
آدمی بھیج
کر رکوا دیتے
تھے کہ ابھی
صرف پڑھائی
پر توجہ دو۔
33) آخری ایام
کی باتیں اور
اشارات!
میرا ہر سال
خانپور، کراچی،لاہوراوردوسرے
علاقوں کا
دورہ ہوا کرتا
تھااور پیر
صاحب مجھے
بخوشی اجازت
فرما دیتے
تھے۔لیکن آخری
مرتبہ میں
دربارشریف
میں ان کے پاس
گیا اور جب
میں نے وہاں
جانے کا کہا
تو آپ نے فرمایا"چلو
اچھا ٹھیک
ہی ہے چکر لگا
ہی آؤ"اِن کے
اس فقرے سے
میں بہت حیران
ہوا کہ اس طرح
پیر صاحب نے
کیوں فرمایا
ہے۔ بہرحال
میں چلا گیا
اور ابھی کراچی
سے خانپور
پہنچا ہی تھا
تو فون آگیا
کہ پیر صاحب
کی طبیعت سخت
خراب ہے لہذا
میں بقیہ پروگرام
چھوڑ کر واپس
گھر آگیا ۔
پیر صاحب کافی
کمزور ہو چکے
تھے لیکن باتیں
وغیرہ ٹھیک
کررہے تھے۔
پتہ چلا کہ
پندرہ ،بیس
دِن سے بیمار
ہیں ۔ میرے
آنے کے بعد
حالت زیادہ
خراب ہوتی
گئی اور سار
ا دِن غنودگی
اور غشی کی
سی حالت رہتی
تھی تقریباًجذب
کی حالت میں
ہوگئے تھے۔
اس حالت کے
دوران ایک
رات مغرب کے
بعد میں پاس
بیٹھا تھا
اور بھی چار،
پانچ آدمی
تھے۔ پیر صاحب
پوچھتے ہیں
"یہ محمود ہے"
کسی نے کہاکہ"
ہاں "تو آپ
نے مخصوص انداز
میں ہاتھ اوپر
اُٹھا کر سوالیہ
انداز میں
کہا "محمود
کیا بنے گا"؟
میں نے کہا
اللہ خیر کرے
گا۔ پھر ہاتھ
دوبارہ سوالیہ
اندازمیںاوپراُٹھایاا
ور پوچھا" محمود
کیا بنے گا"؟
پھر میں نے
کہا اللہ خیر
کرے گا۔ پھر
اپنی حالت
جذب میں فرمانے
لگے اِدھر
شور ہے، اُدھر
شورہے،فلاں
ملک میں شور
ہے، فلاں ملک
میں شور ہے
۔ میں کہاں
کہا ںجاؤں
میں کہاں کہاں
جاؤں ۔ بس اس
طرح کی گفتگو
فرماتے رہے۔اس
کے علاوہ ان
کے آخری ایام
میں پانچ سات
دِن یہی حالتِ
رہی۔ اس میں
بے شمار وہ
گفتگوکرتے
رہے اور یوں
محسوس ہوتا
تھا کسی سے
ہم کلام ہیں۔
ایک دفعہ ایک
خادم جس کا
نام مزمل خان
ہے وہ پاس بیٹھا
تھا۔ اِسی
حالت کے دوران
وہ کہتا ہے
کہ پیر صاحب
فرما رہے تھے
کہ یہ سب سے
آخری مقام
ہے اور اعلیٰ
مقام ہے۔ مزید
وہ خادم کہتا
ہے کہ ان کے
منہ سے مختلف
بزرگوں کے
نام سنائی
دیتے تھے کہ
فلاں آیا ہے
فلاں آیا ہے
جن میں پیر
مہر علی شاہ
کا نام بھی
آیا ۔اپنے
آباؤ اجداد
کے نام بھی
آئے۔ میں(قلندر
سید محمود
الحسن شا ہ
خاکی )یہ کہتا
ہوں کہ غالباً
تمام اولیاء
کی روحیں جن
سے ان کا رابطہ
تھا ملاقات
کے لیے آرہی
تھیں۔ یہ بات
واضح طورپر
محسوس ہو رہی
تھی۔ کہ وہ
مختلف بزرگوں
سے ہم کلام
تھے اور ان
سے واضح طور
پر باتیں کررہے
تھے۔ اس لیے
ہم نے وہاں
لوگوں کا آنا
جانا آخری
دِنوں میں
بند کر دیاتھا۔
پھر سوموار
کے دِن شام
کے وقت میں
باہرحویلی
میں بیٹھا
ہوا تھا۔ خادمہ
گئی چونکہ
اندر کوئی
آدمی نہ تھا
اُس نے مجھے
بلایا میں
اندر آیا ساتھ
ہی اور آدمی
آگئے اُس وقت
پیر صاحب کے
ایک خلیفہ
سید گوہر علی
شاہ صاحب بھی
موجود تھے
میں نے آتے
ہی دِل پر ہاتھ
رکھا وہ دھڑک
رہا تھا۔ ابھی
محسوس نہیں
ہوتا تھا کہ
پیرصاحب کا
وصال ہو گیا
ہے۔ خلیفہ
گوہر علی شاہ
صاحب نے کہا
کہ پیر صاحب
وصال فرما
چکے ہیں میں
پاؤں کی طرف
کھڑا ہوگیا
اور ایک روحانی
کیفیت مجھ
پر طاری ہوگئی
وہ ایک خاص
جذب کی کیفیت
تھی۔اسی دوران
پھر پیر صاحب
کا جسم ہلا۔بہرحال
اس کے بعد پیرصاحب
وصال کر گئے
۔ "اِنَّا اللہِ
وانا اِلیہ
رَاَجِعُونْ"۔
ایک اور واقعہ
وصال مبارک
سے ہی متعلق
ہے کہ پیرصاحبنے
تدفین کیلئے
دو دِن قبل
اپنی کھونٹی
سے قبر کی نشان
دہی فرمائی
تھی اس وقت
امی جان ساتھ
تھیں۔آپ نے
فرمایا کہ
اِس جگہ قبر
بنانا پھردربارمیںواپس
آئے اور گدی
والی جگہ (جہاں
آپ عموماً
تشریف فرما
ہوا کرتے تھے)کو
دیکھا تو امی
جان نے فرمایا
کہ کیا یہاں
بیٹھنے کا
ارادہ ہے؟آپ
نے اچھی طرح
اس جگہ کو دیکھا
کتب خانے کو
دیکھا۔ تمام
دربار کو دیکھا
اور واپس اندر
چلے گئے۔ پیر
صاحب آخری
ایام میں انگلی
سے دربار کی
طرف اشارہ
کرتے تھے۔
جس سے مراد
یہ تھی کہ اس
دربار کا اور
اِس کتب خانے
کا خیال رکھنا
۔پیر صاحب
کا زندگی بھر
کتابوں سے
بہت پیاررہا۔
اِس وجہ سے
اس طرف اشارہ
کیا کہ کتابوں
کا خیال رکھنا
اور اِس طرح
مریدین سے
پیار تھا اور
اسی بابت دربار
کی طرف اشارہ
فرمایا ۔مزید
اگردوائی کے
لیے آپ سے کہا
جاتا توآپ
مغرب کی طرف
انگلی کا اشارہ
کرتے تھے۔
آخری ایام
میں اس کی تعبیریہ
نکلی کہ کھوڑ
سے شیخ ریاض
احمد صاحب
ایک حکیم کو
ازخود لے آئے
اور وہی آخری
دنوں میںمعالج
تھا۔
34) جنازہ کے لیے
فرمان!
جنازہ کے متعلق
یہ کہ پروفیسر
ڈاکٹر محمد
طاہر القادری
صاحب نے پڑھایا
،حضور پیرصاحبنے
امی حضورکوپہلے
ہی بتا دیا
تھا۔ امی حضور
نے کہا
کہ کسی سیّد
سے پڑھائیں،
لیکن پیر صاحب
نے کہا کہ عالم
باعمل ہے۔آخری
ایّام بیماری
میں اور جیسے
کہ پہلے بیان
ہوا پیر صاحب
اکثر غنودگی
کی حالت میں
رہتے تھے۔
دراصل یہ حالتِ
جذب تھی۔ والدہ
محترمہ نے
مجھ سے کہا
کہ اندر آؤ
اورپیر صاحب
سے کچھ باتیں
کرو۔ جب ہم
اندر گئے تووہ
حالتِ غنودگی
میں تھے۔ کافی
بلایا مگر
وہ اسی حالت
میںرہے میں
نے کہا کہ انہیں
آرام کرنے
دیں میں باہر
آگیا۔ باہر
برآمدے تک
پہنچاہی تھا
کہ پیچھے سے
امی جان نے
آواز دی کہ
واپس آجاؤ۔
میں نے دیکھا
کہ پیر صاحب
ہوش میں تھے
اور بیٹھے
ہوئے تھے۔
ان سے گھر یلو
گفتگو ہوتی
رہی۔پیرصاحب
نے فرمایا
کہ محمودالحسن
پیچھے ہے یہ
خود ہی سنبھال
لے گا۔باقی
انھوں نے مزیدکہا
کہ اس بات کا
افسوس ہے کہ
چھوٹے(حُسین
شاہ صاحب) کے
مستقبل کے
اُمور کو نہ
دیکھ سکا۔
بس زندگی ہی
یہاں تک تھی۔
اس کے بعد میںنے
کہاآپ دعا
فرمائیں اللہ
پاک خیر کرے
گا ۔
35) چہرے پر نورانیت
!
قلندر سیدمحمودالحسن
شاہ سرکار
فرماتے ہیںکہ
ایک اور عجیب
واقعہ جو میں
نے خود دیکھا
کہ جب آخری
مرتبہ سفر
ارضِ پاک کی
طرف جا رہے
تھے تو ہم لوگ
بھی اسلام
آباد ائر پورٹ
گئے ۔ اُس دِن
جناب پیر صاحب
کے چہرے پرعجیب
اثرات نظر
آرہے تھے (بہت
ہی نورانیت
ٹپکتی محسوس
ہو رہی تھی)۔
ہر خاص و عام
جو ائرپورٹ
پر موجود تھے،
اور آنے جانے
والے لوگ جن
میں مرد عورتیں
مسلم غیر مسلم
سبھی شامل
تھے جو بھی
جناب کے چہرے
کو دیکھتا
تھا کافی دیر
دیکھتا ہی
رہتا تھا۔
اس کی نگائیں
چہرے پر جم
جاتی تھیں۔
میں خود بھی
آپ کے چہرے
کو دیکھ کر
بہت حیران
تھا یہ ان کی
کیفیات کا
ایک عجیب اور
دلکش منظر
تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭
واقعات ومشاہدات
زوجہ محترمہ
پیر سید رسول
شاہ خاکی
۱) سانپ کا پیر
صاحب کے جسم
پر پھرتے رہنا!
امی حضور فرماتی
ہیںکہ میں
ایک دِن حسبِ
معمول ظہر
کے بعد چائے
لے کر سرکار
کے لیے دربار
شریف میں گئی
تو کیا دیکھا
ایک سانپ دربار
شریف کے دروازے
سے نیچے اترااور
سرکار کی طرف
گیا۔ ایک زانوسے
سرکارکے اوپر
چڑھا اورگرد
ن سے دوسری
طرف نیچے اُتر
گیا۔ میں یہ
دیکھ کر حیران
ہو رہی تھی
پیر صاحب معمول
کے مطابق بیٹھے
رہے۔ پھر وہ
جسم سے اُتر
کر کتابوں
کی الماریوں
کی طرف غائب
ہو گیا۔
۲) جسم مبارک
کا سورج کی
طرح چمکنا!
امی حضور بیان
فرماتی ہیں
کہ پیر صاحبکا
معمول ہوا
کرتا تھا کہ
تہجد کہ بعدسبز
قہوہ پیا کرتے
تھے اور میں
حسبِ معمول
قہوہ بنا کر
عبادت خانہ
میں لے جایا
کرتی تھی۔
ایک روز جب
میں قہوہ بنا
کر عبادت خانے
کے اندر دربار
میں پہنچی
تومیں نے محسوس
کیاکہ عبادت
خانے کے اندر
بہت زیادہ
روشنی ہے جو
کہ سفید اور
سبز قسم کی
ہے میں ڈر گئی
اور آگے نہ
گئی۔ بلکہ
دربار کا دروازہ
کھولا اور
باہر برآمدے
میں آگئی۔
برآمدے میں
کتب خانے کی
کھڑکی تھی
اس میں سے چھپ
کر دیکھا تومیں
ششدر رہ گئی
کہ پیر صاحب
کا تمام جسم
ماتھا، چہرہ،
ہونٹ، ناک،
گردن، آنکھیں،
زانو، سینہ،
کندھے اور
بازوحتٰی کہ
ہاتھ میں پکڑی
تسبیح، تمام
کے تمام اعضاء
روشنی سے بنے
ہوئے ہیں۔
جن سے زبردست
چمک اورخوشبو
نکل رہی ہے
۔میں ڈر کے
مارے واپس
اندر چلی گئی۔
یہ یادرہے
کہ اس وقت بجلی
نہیںہوا کرتی
تھی تیل کی
لالٹین جلائی
جاتی تھی۔
اس واقعہ میں
یہ دونوں چیزیں
قابل ذکر ہیں
کہ تمام جسم
کا چمکنا اور
روشن ہو جانا۔
دوسرا بے مثال
اور بلاکی
خوشبو کا آنا
یعنی امی حضور
کہتی ہیں کہ
اس جیسی خوشبو
زندگی بھرمیں
نے محسوس نہیں
کی۔ تھوڑی
دیر کے بعد
پھر میں قہوہ
لے کر گئی تو
وہ پہلے والی
حالت نہیں
تھی۔پیر صاحب
نے کہا کہ قہوہ
لیٹ کیوں لائی
ہوتو میں نے
کہا کہ یہ ماجرا
میں نے دیکھا
ہے۔ پیر صاحب
نے کہا کہ اگر
تم آجاتی تو
اس طرح تمہارا
دِل بھی فوراً
روشن ہو جاتا
اور تمام علوم
تم پر آشکار
ہو جاتے بہرحال
پھر بھی تمہارا
مقام ہے۔
۳) مرچ کے پودے
کے ساتھ بینگن!
ایک اور واقعہ
اِس طرح بیان
فرماتی ہیں
کہ دربار میں
چندعورتیں
بیٹھی ہوئی
تھیں ۔ پیر
صاحب نے مجھے
بلایا اور
فرمایا کہ
لنگر میں کیا
پکایا ہے۔
میں نے کہا
کہ رات کو کچھ
گوشت پکایا
تھااور اب
کچھ سبزی پکانے
کا ارادہ ہے۔
تو جس جگہ اب
قبرِ پاک ہے
اس جگہ پر کشمیری
مرچیں لگائی
ہوئی تھیں
۔ مجھے کہا
کہ وہاںجاؤ
وہاں بینگن
لگے ہیں لے
کے آؤ۔ میں
نے کہا وہاں
تو مرچیں ہیں
۔ سرکار نے
فرمایا کہ
میں نے جو کہا
ہے کہ بیگن
توڑ کر لے آؤ۔
امی حضور فر
ماتی ہیں کہ
میں آئی تو
دیکھا واقعی
ایک مرچ کے
پودے کے ساتھ
بینگن لگے
تھے میںانہیں
توڑ کرلے آئی۔
میں خودبھی
بڑی حیران
ہوئی۔ عورتیں
بھی بڑی حیران
ہوئیں۔ یہ
بھی زندگی
کا حیران کن
واقعہ تھا۔
دراصل یہ واقعہ
فقیر کی نگاہ
میں اثر ہونے
کی دلیل ہے۔
۴) حضورنبی
اکرم کی کرم
نوازی!
امی حضور فرماتی
ہیں کہ پیر
صاحب کے وصال
مبارک سے ایک
سال قبل میںنے
ایک خواب دیکھاوہ
خواب کچھ اس
طرح تھا کہ
میں اندر لکڑی
کی جائے نماز
پر بیٹھی ہوں
جہاں نماز
اور وظائف
کیا کرتی ہوں۔
اندر روٹی
اور چاول کافی
زیادہ تعداد
میں پکے ہوئے
ہیںجیسے کسی
کی دعوت ہوتی
ہے۔اتنے میں
میں نے دیکھا
کہ حضور بمع
کافی صحابہ
کرام کے تشریف
لائے ہیں اور
اُسی جائے
نماز پر آکے
بیٹھے ہیں۔
جائے نماز
کے سرکی جانب
حضور تشریف
فرما ہوگئے
ہیں اورپائندی
کی جانب پیر
صاحب بیٹھ
گئے ہیں ۔ انھوں
نے اکھٹے کھانا
کھایا۔ کھانا
کھانے کے بعد
حضور چل دیے
اِسی اثنا
میںپیر صاحب
کی نظر اپنی
شلوار پر پڑی
تو پیر صاحب
نے کہا کہ سالن
میری شلوار
پر گر گیا ہے۔اتنی
دیرمیں حضور
کچھ آگے تک
جا چکے تھے۔
پیر صاحب کی
یہ بات سن کرحضور
نبی کریم واپس
تشریف لے آئے
اور فرمایا
کہ کہاں سالن
گر گیا ہے؟
پیر صاحبابھی
تک سالن لگی
شلوار دیکھ
رہے تھے۔ آقا
کی یہ بات سُن
کر کہ کہاں
سالن لگ گیا
ہے پیرصاحب
نے اوپر دیکھااورعرض
کی اوہ!حضور
آپ کیوں واپس
تشریف لائے
ہیں۔ پیر صاحب
نے کہا کہ کوئی
بات نہیںہے
حضور یہ دھل
جائے گا۔پھر
سرکارِ دو
عالم واپس
تشریف لے گئے
اور تمام ا
صحاب بھی واپس
چلے گئے۔ سب
نے سفید کپڑے
سفید ٹوپیاں
پہنی ہوئی
تھیں آقا کا
لباس مبارک
خاکی تھا سفید
رومال تھا۔
رنگ مبارک
گندمی تھا،ماتھا،
آنکھیںاور
رُخسار نظر
آرہے تھے۔
باقی چہرہ
مبارک رومال
سے لپیٹا ہو
ا تھا۔ صبح
ہوئی تو میں
نے یہ خواب
پیر صاحب کو
سنائی تب پیر
صاحب نے فرمایا
کہ بس اب ہم
جانے ہی والے
ہیں۔
۵) وصال مبارک
کے متعلق پشین
گوئی!
امی حضور فرماتی
ہیں کہ وصال
سے چند دن قبل
ایک دِن حضور
پیر صاحب اپنے
کمرے میں آرام
فرما رہے تھے۔
پہلے انھوں
نے دِن کا پوچھا
کہ آج دِن کیا
ہے۔ یہ وصال
سے ایک یا دو
دِن قبل کی
بات ہے۔ امی
حضور نے دِن
بتایا پیرصاحب
نے فرمایا
کہ پیر، منگل
،بدھ اس سے
زیادہ ہمیں
نہ رکھنا اور
جناز ے کا طاہر
القادری کو
کہنا وہ پڑھائے
گا کہ وہ باعمل
عالم دین ہے۔
مزید فرمایا
کہ اگر آپ لوگ
ایک ماہ تک
بھی رکھیں
گے تب بھی ہمیں
کچھ نہ ہوگا
۔یہاں یہ بات
قابلِ ذکر
ہے کہ تین دن
تک جسم گرم
اور نرم رہا۔لوگ
آسانی سے کپڑے
اتارتے اور
پہناتے رہے
اور عجیب بات
یہ کہ حضور
پیر صاحب کے
چہرہ مبارک
کا رنگ بھی
ساتھ ساتھ
تبدیل ہوتا
رہا۔
۶) محمود جی
سرکار کی شادی
مبارک کی پیشگوئی
ایک اور واقعہ
جو امی حضور
نے میرے( قلندر
سید محمود
الحسن) تعلق
بیان فرمایا
۔ کہ میر&