واقعات
ومشاہدات
سید غلام محمد
شاہ خاکی صاحب
سیدغلام محمدشاہ
خاکی سرکار
،جناب سید
رسول شاہ خاکی
کے چھوٹے بھائی
جان ہیں۔آپ
1998-99ء رمضان شریف
میں خصوصی
طور پر جناب
پیر صاحب کی
اولادِ پاک
قلندر پیرسید
محمود الحسن
شا ہ صاحب ،سرکار
حسین شاہ صاحب،امی
حضور اور دیگر
اہلِ خانہ
سے ملنے کے
لئے اپنے چھوٹے
بیٹے کے ہمراہ
سری نگر (مقبوضہ
کشمیر)سے مخدوم
پورشریف (چکوال)تشریف
لائے۔
آبائی گاؤں
اور خاندان
مبارک :
جناب سید غلام
محمدشاہ خاکی
سرکار نے بتایا
کہ ہم تین بھائی
تھے۔بڑے جناب
پیر صاحب،دوسرا
میں (سید غلام
محمدشاہ خاکی)اورتادمِ
تحریر دونوںچھوٹے
بھائی حیات
ہیں۔حضرت رسول
شاہ خاکی مختلف
علاقوں میں
گھومتے گھومتے
اپنے حسب،
حال فقراء
سے ملتے رہے
جن کا تذکرہ
آگے آئے گا۔بالآخر
مخدوم پور
شریف چکوال
کو اپنا دائمی
مسکن بنایااور
باقی دونوں
بھائی اپنے
آبائی علاقہ
۔موضع لشٹیال
سرینگر میں
ہی مقیم ہیں
اور وہاں اپنا
سلسلۂ فیض
جاری کیے ہوئے
ہیں۔سرکار
کی چار بہنیں
بھی تھیںجو
اب فوت ہو چکی
ہیں۔دو بڑی
بہنوں کی اولادِ
نرینہ بھی
نہیں تھی۔دو
چھوٹی بہنوں
کی اولادِ
نرینہ ہے جو
اپنی اپنی
جگہ آباد ہیں۔
سرکار کا خاندان
کشمیر میں
خاکی خاندان
کے نام سے مشہور
ہے۔اور ہر
جگہ آج بھی
انتہائی عزت
و تکریم کی
نگاہ سے دیکھا
جاتا ہے۔
آباؤ اجداد
کے مزارات:
پیر صاحب کے
والدِ گرامی
جناب موسیٰ
شاہ گیلانی
، دادا جان
جناب عبداللہ
شاہ گیلانی
اور پردادا
جناب عبدالمجید
گیلانی اپنے
آبائی گاؤں
موضع لشٹیال
میں مدفون
ہیںجنہوں نے
اپنے فیض پاک
سے ایک زمانے
کو نوازا ہے۔اور
جناب عبدالمجید
گیلانی کے
والدِ گرامی
جناب عبدالخالق
شاہ صاحب علاقہ
کلاہ روس میں
آرام فرما
ہیں۔ باقی
مختلف جگہ
کشمیر میں
رہائش پذیر
تھے اور اپنے
اپنے آبائی
گاؤں میں ہی
مدفون ہیں۔اُن
کی اولادیں
بھی مختلف
مقامات پر
آباد ہیں۔مزار
شریف آباؤ
اجداد میں
صرف جناب داؤد
شاہ خاکی کا
ہے جو ساڑھے
چھ سو سال پہلے
پردہ فرما
چکے ہیں یا
پھر سید رسول
شاہ خاکی کا
ہے درمیان
میں سب کی قبریں
ہی ہیں۔مزار
شریف بنانے
کی انہوں نے
اجازت ہی نہیں
دی۔سرکار داؤد
شاہ خاکی اور
جناب پیر موسیٰ
شاہ گیلانی
،دونوں کا
عرسِ پاک ہر
سال ۲۳ صفر
مبارک کو ہوتا
ہے۔
بچپن کی عاداتِ
شریفہ:
یہ فیضانِ
نظر تھا یاکہ
مکتب کی کرامت
تھی
سکھائے کس
نے اسمٰعیل
کو آدابِ فرزندی
اللہ کے بندے
بعض ایسے بھی
ہوتے ہیں جو
کہ شروع دن
سے ہی ذاتِ
حق سے واصل
ہوتے ہیں،واصل
رہتے ہیں،واصل
ہی دنیا سے
چلے جاتے ہیںاورکبھی
بھی ذاتِ حق
سے جدا نہیں
ہوتے۔اُن کے
ظاہری و باطنی
تربیت کے سامان
خود ذاتِ حق
پیدا فرماتی
ہیں۔بچپن سے
ہی اُن کی عادات
سے اللہ کی
قدرت اور حکمت
نظر آتی ہے۔ایسے
احباب قدرت
کا کرشمہ بن
کر عمر گزارتے
ہیں۔حضور پیر
سید رسول شاہ
خاکی کے بچپن
کے واقعات
اور عادات
جوغلام محمد
شاہ صاحب نے
لکھوائے ہیں
پڑھ کر یہ اندازہ
لگانا مشکل
نہیں کہ سرکار
کس طرح قدرت
کی ایک نشانی
تھے۔
۱) بچپن میں
پیر صاحب اکثر
و بیشتر ننگے
پاؤں پھرتے
تھے۔
۲) پیر صاحب،
صاحبِ حال
تھے۔
۳) جلتا انگارہ
اپنے کپڑوں
پر رکھ لیا
کرتے تھے اور
پیر صاحب کے
کپڑے نہیں
جلتے تھے۔
۴) اُس علاقے
میں ایک خاص
قسم کی گھاس
اگتی ہے،وہ
جسم کے جس حصے
پر بھی لگ جائے
وہاں سخت قسم
کی جلن شروع
ہو جاتی ہے۔اسطرح
کہ جیسے آگ
لگ گئی ہو۔اسے
گجر زبان میں
’’کیاری‘‘ کہتے
ہیںاور کشمیری
زبان میں ’’سوی‘‘
کہتے ہیں۔اسے
کوئی ڈر کر
ہاتھ نہیں
لگاتا۔پیر
صاحب اس کا
بستر بناکر
لیٹا کرتے
تھے اورانہیں
پرواہ بھی
نہیں ہوتی
تھی۔
۵) بچپن میں
اکثر پیر صاحب
حالتِ دیوانگی
میں ہی رہا
کرتے تھے اور
مست الست پھرتے
تھے۔زیادہ
تر گھر سے باہر
ہی رہتے تھے۔جب
گھر تشریف
لاتے تو کھانا
اپنی مرضی
سے مختلف طریقوں
سے پکواتے
تھے۔
۶) جنگل میں
ایک درخت ’’بیار‘‘
نامی ہوتاہے
اس کا چھلکا
اتار کر قہوہ
بنواکر پیتےتھے
وہ انتہائی
زہریلا ہوتا
تھا ۔حضور
پیر صاحب پی
جاتے تھے اور
انہیں کچھ
نہیں ہوتا
تھا۔
۷) کبھی کبھی
بہتے دریا
میں چلے جاتے
تھے اوراس
میںتیرتے تھے۔عام
سمجھ دار آدمی
اس گہرائی
میں جانے کا
سوچ بھی نہیں
سکتا تھا۔لیکن
آپ چلے جاتے
پھر بخیریت
واپس تشریف
لے آتے تھے۔
۸) کبھی کبھی
پیر صاحب آگ
سے کھیلتے
تھے اوراکثر
جنون کی حالت
میں پھرتے
تھے۔
۹) کلامِ غیبی
سنتے تھے اور
اس سے لطف اندوز
ہوتے تھے۔لوگ
آپ کی حا لت
دیکھ کر حیران
ہوتے تھے۔
۱۰) اپنی کتابیں
دریا برد کرتے
تھے پھر خشک
کتابیں دریا
سے نکال لیتے
تھے۔ کتابیں
صحیح سلامت
ہوتی تھیں(تفصیلاً
واقعہ آگے
آئے گا)۔
۱۱) آپ نے بہت
سے چلّے جنگلوں
میںکیئے اوربغیر
کچھ کھائے
پیئے کئی کئی
دن جنگلوں
میں رہتے تھے۔
۱۲) ہندولوگ
حتی کہ پنڈت
بھی آپ کی بہت
تابعداری کرتے
تھے۔آپ سے
بہت ڈرتے تھے،کیونکہ
آپ جو بات منہ
سے نکالتے
تھے وہ اُسی
وقت پوری ہو
جاتی تھی۔
اس لئے وہ ڈرتے
تھے کہ کہیں
گستاخی ہو
گئی تو بد دعا
نہ دے دیں اور
ہمیں نقصان
نہ ہو۔
۱۳) بچپن میں
اکثر مردوں
اور عورتوں
کا ہجوم آپ
کے گرد رہتا
تھا۔آپ سے
دعائیں کرواتے
تھے۔بہت سے
لوگ اپنے ایسے
مریضوں کو
پیر صاحب کے
پاس لاتے جنہیں
ڈاکٹر لا علاج
قرار دے دیتے
تھے۔پیر صاحب
ایسے مریضوں
کو اکثر زہر
کھلاتے اور
وہ لوگ شفا
یاب ہو جاتے
تھے۔
بچپن میں فقیروں
اور درویشوں
سے تعلق:
دادا جان کو
آپ سے بہت پیار
تھاآپ اپنے
والدِ گرامی
سے دُور دُور
رہتے تھے۔آپ
رات کو اکثر
دادا جان عبداللہ
شاہ گیلانی
کے ساتھ ہوتے
تھے۔بچپن بھی
زیادہ تر فقیروں
اور درویشوں
کے ساتھ گزرا۔یحییٰ
قلندراور سید
شرف الدین
سے بھی خاص
تعلق رہا۔جب
آپ دہلی کے
علاقے میں
آئے تو امام
احمد رضا خان
بریلوی کے
وعظ میں بھی
کبھی کبھی
جاتے تو وہ
آپ کو عام لوگوں
سے اٹھا کر
سٹیج پر بٹھا
لیتے تھے۔
دہلی میں سیدنا
ابراہیم نقیب
الاشراف سے
بھی ملاقات
ہوئی وہاں
ہی قادری بابا
سے بھی ملاقات
ہوئی جو بعد
میں آپ سے مخدوم
پور شریف آکر
ملے اور پھر
ٹھٹہ کو اپنی
آخری آرام
گاہ بنایا۔والدہ
محترمہ سے
بہت پیار کرتے
تھے۔اُن کی
رحلت پر بہت
زیادہ پریشان
رہتے تھے۔والد
صاحب سے ڈرتے
تھے اُن کے
سامنے روٹی
تناول نہیں
فرماتے تھے۔اکثر
وقت ماں اور
دادا جان کے
ساتھ ہی گزارتے
۔فاقہ کشی
میںخوش رہتے۔
بوٹینگو ایک
گاؤں کا نام
ہے وہاں ایک
بڑے پائے کے
بزرگ جناب
سید شرف الدین
رہا کرتے تھے۔قلندر
تھے اُن کے
ساتھ بھی پیر
صاحب کا بڑا
ہی پیار تھا۔
یحییٰ قلندر
سے تعلق:
غلام محمد
شاہ خاکی صاحب
فرماتے ہیں
کہ یحییٰ قلندر
نامی بزرگ
کشمیر کے گاؤں
مزار کے رہنے
والے تھے۔اُن
کی روحانی
ڈیوٹی کچھ
اس طرح کی تھی
کہ وہ ہر وقت
سفر میں رہتے
تھے۔پوری وادی
کا چکر لگاتے
تھے۔کسی خاص
جگہ پر ان کا
قیام نہیں
ہوتا تھا۔اپنے
ساتھ بہت سے
خلفاء اور
سواری کے لئے
گھوڑے رکھتے
تھے۔سارا کھانے
پینے کا سامان
اور بستر وغیرہ
بھی ساتھ رکھتے
تھے۔دورانِ
سفر جہاں بھی
قیام کرتے،کھانے
پینے کا بندوبست
خود کرتے۔کسی
سے کوئی چیز
نہ لیتے اوریہ
سب کام انکی
پارٹی ہی کرتی
تھی۔وہ پیر
صاحب سے اور
پیر صاحب ان
سے بہت پیار
کرتے تھے۔جب
بھی وہ ہمارے
علاقے سے گزرتے
تو پیر صاحب
کو بلا لیتے
تھے۔پیر صاحب
نے بھی اُن
کے ساتھ کافی
وقت گزارا۔قلندر
صاحب قوالی
پسند کرتے
تھے اوربہت
پائے کے فقیر
تھے۔
قلندر صاحب
کا آبائی گاؤں
صف پور تھا۔یہ
سرینگر سے
بیس کلو میٹر
دور ایک وادی
میں واقع ہے۔آخری
عمر میں وہاںہی
قیام کیا۔وہاں
ہی بیماری
کے دن گزارے
اور وہاں ہی
وصال فرمایا۔قلندر
صاحب کا مزار
بھی وہاں ہے۔پیر
صاحب بھی اکثر
ان کو یاد کرتے
تھے۔وادئ کشمیر
کے درویشوں،صوفیوں
اور فقیروںسب
کے ساتھ ہی
پیر صاحب کا
گہرا تعلق
اور لگاؤ تھا۔
بچپن میں پیر
صاحب کو زہر
بھی دی گئی:
جناب سید غلام
محمدشاہ خاکی
سرکار نے یہ
واقعہ بتاتے
ہوئے فرمایا
کہ ہمارا علاقہ
کپواڑہ ہے۔والد
صاحب نے پیر
صاحب کو قریبی
قصبہ بہی پورہ
بھیجا۔وہاں
ایک پیر صاحب
تھے جو اصل
میں سوپور
کے رہنے والے
تھے اوردرس
و تدریس دینے
کے لئے بہی
پورہ میں قیام
پذیر تھے۔والد
صاحب نے پیر
صاحب کو وہاں
بھیجا تا کہ
آپ فارسی اورعربی
کی تعلیم حاصل
کریں۔کچھ مدت
آپ وہاں رہے۔
وہاں ایک سبحان
نامی حجام
رہتا تھااس
کے ساتھ پیر
صاحب کا جھگڑا
ہو گیا۔کچھ
عرصہ یہی صورتِ
حال رہی بعد
میں پیر صاحب
کے تعلقات
اس حجام کے
ساتھ ٹھیک
ہو گئے۔
لیکن حجام
نے دل میںمنافقت
رکھی اوربظاہر
صلح کر لی۔ایک
دفعہ اس نے
پیر صاحب کو
گھر کھانے
کی دعوت دی
اور اس میں
زہر ملا دیا۔زہر
مقدار میںبہت
زیادہ تھا۔پیر
صاحب اس کے
اثر سے شدید
بیمار ہو گئے۔عرصہ
چھ ماہ تک بیمار
رہے بعد میں
بڑی دعاؤں،دواؤں
اور نذر و نیاز
کے بعد شفا
یاب ہوئے۔آپ
کی بیماری
کے دوران ہی
حجام بیمار
ہوا اور وہ
فوت ہو گیا۔یکے
بعد دیگرے
اس کی بیوی،اس
کی لڑکی اور
ایک بیوہ بہن
،سب فوت ہو
گئے اسطرح
حجام کا پورا
گھر خالی ہو
گیا۔بیماری
ختم ہونے پر
پیر صاحب پھر
گھر سے چلے
گئے اور نگری
نامی جنگل
میں قیام فرمایا۔چھ
ماہ تک وہاں
رہے بعد میںآپ
کے والد صاحب
آپ کو بڑی کوششوں
کے بعد واپس
لائے۔
پیر صاحب کی
پہلی شادی:
ایک دفعہ پیر
صاحب موضع
گنڈی ترس نامی
گاؤں میں گئے۔وہاں
کچھ وقت رہے
اور وہاں ہی
شادی کر لی۔پھر
وہاں سے کسی
کو بتائے بغیر
چلے گئے۔بہت
مدت گزرنے
کے بعد والد
صاحب کو ایک
خط ملا جو کہ
پیر صاحب نے
لاہور سے لکھا
تھا۔اس میں
لکھا تھا کہ
میں آج کل لاہور
پڑھ رہا ہوں۔(پیر
صاحب مدرسہ
حزب الاحناف
نزد داتا دربار
لاہور پڑھتے
رہے ہیں) اس
خط کے تقریباً
دو سال بعد
اپنی اُس بیوی
کو بذریعہ
خط طلاق بھجوا
دی۔بعد میں
کشمیر کبھی
نہ آئے اورپاکستان
میں ہی مقیم
ہو گئے۔
کتابوں کو
دریا سے خشک
نکالنے کا
واقعہ:
(شاہ شمس تبریز
سے متماثل
واقعہ) حضور
پیر صاحب کی
عمرِ پاک اس
وقت تھوڑی
تھی۔آپ کے
دادا جان نے
آپ کو دینی
تعلیم اور
ابتدائی تعلیم
کے لئے علاقہ
کے مشہور فقیہہ
کے پاس پڑہنے
کے لئے بٹھایا۔پیر
صاحب اکثر
پڑھنے نہیں
جایا کرتے
تھے۔استاد
صاحب سے کہہ
رکھا تھا کہ
اگر دادا جان
میرے متعلق
پوچھیں تو
بتانا کہ میں
پڑھتا ہوں۔اکثر
آپ جنون کی
حالت میں جنگل
میں چلے جایا
کرتے تھے۔دادا
جان آپ کی پڑھائی
کے لئے فکرمند
رہتے تھے۔وہاں
علاقے کے کچھ
اور لڑکے بھی
پڑھتے تھے
یاد رہے کہ
اس وقت بہت
کم لوگ پڑھتے
تھے۔کیونکہ
کتابیں نایاب
اور قلمی لکھی
ہوئی ہوتی
تھیں۔دوسرے
غربت بھی بہت
زیادہ تھی
جس کی وجہ سے
پڑھائی کا
رجحان کم تھا۔فارسی
میں زیادہ
تر حافظ شیرازی
اورسعدی کی
کتابیں پڑھائی
جاتی تھیں۔ایک
دفعہ سیلاب
آگیا۔دریا
میں پانی بہت
زیادہ تھا۔فقیہہ
صاحب کا گھر
دریا کے پار
تھا۔دریا پر
اونچائی میں
رسوں اور لکڑیوں
کی مدد سے پُل
بنا ہوا تھا
جس سے لوگ آر
پار جاتے تھے۔کافی
خستہ حال قسم
کا پُل تھا۔لڑکے
اس سے گزرتے
ہوئے ڈرتے
تھے۔پیر صاحب
نے سب سے کہا
کہ کتابیں
مجھے دے دیں
اور خود میرے
پیچھے آ جائیں۔
پار جا کر کتابیں
لے لینا ۔پیر
صاحب آگے آگے
چل پڑے درمیان
میں جا کر پیر
صاحب نے ساری
کتابیں دریا
میں پھینک
دیں۔خود بھاگ
کر دریا سے
پار ہوکر جنگل
میں چلے گئے۔لڑکوں
نے آکر فقیہہ
صاحب کو سارا
ماجرا سنایا۔وہ
بھی پریشان
ہو گئے۔چونکہ
کتابیں بڑی
نایاب تھیں،لڑکوں
کے گھر والے
بھی پریشان
تھے۔چند دن
کے بعد پیر
صاحب فقیہہ
صاحب کے پاس
آئے تو فقیہہ
صاحب پیر صاحب
سے ناراض ہوئے
کہ آپ نے بہت
بڑا نقصان
کر دیا ہے۔پیر
صاحب نے کہا
میرے ساتھ
آئیں میں کتابیںنکال
دیتا ہوں۔سب
بڑے حیران
ہوئے۔بہر حال
پیر صاحب آگے
آگے چل دیے۔
سیلاب تھم
چکا تھا اورپانی
تقریباً ختم
ہو چکا تھا۔پیر
صاحب دریا
میں چلے گئے
اور لڑکوں
کو بھی ساتھ
لیا درمیان
میں پل کے نیچے
کی طرف کافی
وزنی پتھر
تھا،اس کے
ساتھ پانی
کھڑا تھا۔سرکار
نے فرمایا’’اس
پتھر کو تھوڑاسا
ایک طرف کر
دو‘‘۔سب نے زور
لگایاتوپتھر
اپنی جگہ سے
تھوڑا سا لڑھک
گیا۔آپ نے
پتھر کے ساتھ
پانی میں ہاتھ
ڈالا ۔اندر
سے کتابیں
نکال لیں۔جس
جس کی جوجو
کتاب تھی،سب
کو باری باری
دے دیں۔کتابیں
بالکل صحیح
سلامت اور
خشک تھیں۔فقیہہ
صاحب اور سب
لڑکے حیران
اور ششدر رہ
گئے۔اس واقعہ
کے راوی جناب
سید غلام محمدشاہ
خاکی کے صاحبزادے
جناب شفیع
محمد صاحب
ہیں جو کہ اپنے
دورے(رمضان
1998-99) میں اپنے
والد صاحب
کے ساتھ مخدوم
پور تشریف
لائے تھے۔وہ
فرماتے ہیں
کہ اس واقعہ
کی شہادت آج
بھی ایک پنڈت
دیتا ہے۔پنڈت
نے یہ واقعہ
اپنے والد
سے سنا ہے۔شفیع
صاحب اس پنڈت
کے پاس ٹیوشن
پڑھنے جاتے
تھے اس پنڈت
نے بتایا کہ
آپ کے تایا
جان نے بچپن
میں ایسے کتابیںدریا
سے نکالی تھیں۔خاکی
خاندان جنونی
خاندان کے
نام سے بھی
وادی میں مشہور
ہے۔ پنڈت لوگ
اس خاندان
کی بڑی عزت
کرتے ہیں اور
ڈرتے ہیں کہ
جو بھی یہ کہتے
ہیں ،اللہ
ان کی سن لیتا
ہے۔
ہندو برہمن
کا علاقے سے
بھاگ جانا:
غلا م محمد
شاہ صاحب فرماتے
ہیںکہ حضورپیر
صاحب کے زمانہ
طفلی میں ایک
ہندو برہمن
ہمارے علاقے
میں رہا کرتا
تھا۔اس وقت
رنجیت سنگھ
راجہ کی حکومت
تھی جو کہ مسلمانوں
کا سخت مخالف
تھا۔ہندو برہمن
ہر وقت اپنے
سامنے آگ جلا
کر بیٹھارہتا
تھا۔اسکے دائیں
بائیں کچھ
لکڑیاں، اپنی
کچھ کتابیں
وغیرہ اور
کچھ سامانِ
خورد و نوش
پڑا ہوتا تھا۔اس
نے اپنے ارد
گرد آگ کا دائرہ
لگایا ہوتا
تھا۔کوئی اس
دائرہ میں
سے نہیں گزر
سکتا تھا۔اس
کے ہاتھ میں
اس کے مذہب
کی مقدس کتاب
ہوتی تھی۔آگ
ہر وقت جلتی
رہتی تھی،اس
کو ماننے والے
اس کے پاس بیٹھے
ہوتے تھے۔اپنی
حاجتیں بیان
کرتے اور جو
بھی آتا،لکڑیاں
بھی ساتھ لاتا
تاکہ آگ ہر
وقت جلتی رہے۔
ایک دن پیر
صاحب کا وہاں
سے گزر ہوا۔آپ
اس دائرے کے
اندرآگ اور
برہمن کے درمیان
سے گزرے۔برہمن
کو یہ بات سخت
ناگوار گزری۔وہ
آگ بگولا ہو
گیا۔اس نے
آگ کا ایک مچ
اٹھایا اور
پیچھے سے پیر
صاحب کو مارنا
چاہا ۔پیر
صاحب واپس
ہو لئیے۔آپ
نے اسی آگ کا
مچ اٹھایااور
اس برہمن کو
مارنا شروع
کر دیا۔برہمن
نے معمولی
مزاحمت کے
بعد بھاگنا
شروع کر دیا۔
دُور تک پیر
صاحب اس کو
مارتے رہے
اور وادی سے
نکال دیا۔مدتوں
سے وہاں بیٹھنے
والا برہمن
پھر کبھی واپس
نہ آیا۔لوگوں
نے کہا کہ رنجیت
کی حکومت ہے،پیر
زادہ جیل جائے
گا۔لیکن سرکار
کو کسی نے پوچھا
بھی نہیں۔
سیدنا ابراہیم
نقیب الاشراف
کی شفقت:
پیر سید رسول
شاہ خاکی صاحب
فرماتے ہیںکہ’’میں
اس وقت چھوٹا
سا بچہ تھااوران
دنوں بمبئی
میں رہا کرتا
تھا۔ایک دن
میں اپنے حال
میں مست اپنے
ہم عمروں کے
ساتھ سڑک پر
کھیل رہا تھا۔سیدنا
ابراہیم نقیب
الاشراف(جواُن
دنوں بمبئی
میں قیام پذیر
تھے)اُن کا
گزر وہاں سے
ہوا۔ انہوں
نے مجھے دیکھا
تو پکڑ لیا
اور گود میں
اٹھا لیا۔مجھے
پیار سے دیکھتے
۔کبھی پیار
سے ایک طرف
اٹھا کر لے
جاتے اور کبھی
دوسری طرف
لے جاتے(یعنی
خوشی کے عالم
میں) یوں سرکار
چکر لگائے
جا رہے تھے۔اُن
کے ساتھ برصغیر
کا مشہور تاجر
سیٹھ قاسم
بھی تھاوہ
حیران ہو گیا
کہ پتہ
نہیں جناب
کا اِس لڑکے
کے ساتھ کیا
تعلق ہے اور
آپ ایسا کیوں
کر رہے ہیں۔
آخر کار اُس
نے پوچھ ہی
لیا کہ جناب
کیا ماجرا
ہے؟ جناب نے
کوئی جواب
نہیں دیا۔
اس طرح وہ مجھے(جناب
خاکی شاہ سرکار)کو
اٹھا کر بے
خودی کے عالم
میں چکر لگاتے
رہے۔
تھوڑی دیر
کے بعد جناب
کی حسرت پوری
ہو گئی اورر
سرکار مجھے
اٹھائے گھر
تشریف لے آئے
قریب ہی جناب
کا گھر تھا۔جناب
اپنی مسند
پر تشریف فرما
ہوئے اورچائے
منگوائی ۔جب
چائے کا دور
چل رہا تھا
تو پھر سیٹھ
قاسم نے پوچھا
کہ سرکار کچھ
مجھے بھی بتائیں
کہ آپ کا اِس
بچے سے کیا
تعلق ہے کہ
اتنا پیار
فرما رہے ہیں۔تو
جناب سیدنا
ابراہیم نے
فرمایا کہ
قاسم تجھے
دکھائی نہیں
دیتا کہ اِس
وقت ہمارے
نقشِ قدم پر
چلنے والا
ہمارے سامنے
ہمارا فرزند
بیٹھا ہوا
ہے۔اِس کی
موجودگی میں
جب ہم اللہ
کے حضور جائیں
گے تو فخر سے
کہیں گے کہ
ہم اپنا نائب
چھوڑ آئے تھے۔
جبہ مبارک
اور دستار
مبارک:
جناب ابراہیم
نقیب الاشراف
نے اپنی حیاتِ
طیبہ میں بغداد
شریف سے ایک
جبہ مبارک
اور ٹوپی بھجوائی
اور ساتھ لکھا
کہ مجھے پتہ
ھے کہ آپ جبہ
و دستار وغیرہ
کے قائل نہیں
ہیں لیکن ہماری
خواہش ہے کہ
اس کو ایک دفعہ
پہننا ،ہم
خوش ہو جائیں
گے۔وہ اب بھی
تبرکا آستانہ
عالیہ مخدوم
پور شریف میں
محفوظ پڑا
ہوا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
﴿ باب سوئم
﴾
واقعات خلفا
ء کرام
خلیفہ سید
محمد حسن شاہ
صاحب
سید محمد حسن
شاہ صاحب فرماتے
ہیں کہ جس مقدس
و مہربان ہستی
کا ذکر خیر
بیان کرنے
کی جسارت کر
رہا ہوں وہ
ایسی ہستی
ہے کہ احاطہ
تحریر اور
احاطہ سمجھ
سے بالا تر
ہے ۔ بحر حال
حسب الحکم
پیر قلندر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی چند واقعات
بیان کرتا
ہوں اور یہ
بتا تاچلوں
کہ مجھے کیسے
جناب نے مجھے
قبول فرمایا
۔
1975کا سال تھا
جون کا مہینہ
تھا گرمی اپنے
عروج پر تھی
اور گرمی بھی
اس زور کی کہ
ہر زبان پر
الامان والحفیظ
کا ذکر جاری
تھا۔ ان دنوں
والدِ محتر
م کا چہلم بھی
تھا اور چہلم
میں شرکت کے
لیے جناب ملک
محمد حیات
قطبی ٹوانہ
آف لنگروالہ
(جو کہ اب پردہ
فرما چکے ہیں
)میرے پاس بالا
شریف میںآئے
۔ اُن دنوں
میں ایک طرح
کی روحانی
بے قراری کا
شکار تھا میں
نے اس بے قرار
ی کا ذکر جناب
ٹوانہ صاحب
سے کیا ۔ٹوانہ
صاحب نے مجھے
جناب خاکی
شاہ سرکار
کی بارگا ہ
میں حاضری
کا مشورہ دیا
اور بتایا
کہ بڑے ہی کامل
فقیر ہیں آپ
کی پریشانی
کا حل جناب
کی نظر سے ہو
جائے گا ۔والد
صاحب کے چہلم
کی رسم سے فارغ
ہونے کے بعد
ہم دونوں جناب
کی بار گاہ
میں حاضری
کے لیے چکوال
روانہ ہوئے
۔ ہم نے پہلے
گولڑہ شریف
حاضری دی اس
کے بعد جناب
پیر صاحب کی
بارگاہ میں
حاضرہوئے ۔
ہم جب مخدوم
شریف پہنچے
جناب اپنے
چند مریدین
کے ہمراہ باہر
کھڑ ے تھے ۔ہم
جناب سے ملے۔
پیر صاحب نے
خیر خیریت
دریافت کی۔
سرکار دربار
شریف میں تشریف
لے گئے ہم بھی
جناب کے قدموں
میںبیٹھ گئے
۔بات چیت شروع
ہوئی تو سرکار
نے کمال حکمت
سے وہ تمام
واقعات جو
میں نے بیان
کرنے تھے خود
ہی بیان فرما
دیے اور ساتھ
ساتھ حل بھی
تجویز فرماتے
رہے میری حیرانگی
کی کوئی انتہا
نہ رہی۔ میری
ایک عجیب سی
کیفیت تھی
جیسا کہ زندگی
کا آج ہی آغاز
ہوا ہے میرے
اندر ایک ایسا
انقلاب آیا
کہ بیان سے
باہر ہے ۔ علماء
کرام سے سن
رکھا تھا کہ
فقیر کامل
کی ایک لمحہ
کی صحبت ہزار
سال کی عبادت
سے افضل ہے
اس کی عملاً
تفسیر آج میرے
سامنے تھی
۔ سبحان اللہ
وبحمدہ !کاورد
زبان پر جاری
ہو گیا ایک
دن اور ایک
رات قیام کے
بعد جناب نے
عملیات کے
خزانے میرے
حوالے کر دیے
اور سلوک و
تصوف کے راستے
پر گامزان
کر دیا رہے
ذکر و اذکار
کی محافل میں
پیر صاحب خصوصی
توجہ فرماتے
جس سے روح پر
ور مناظر دیکھنے
میں آتے۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>