تقریباً
ایک سال کے
بعد محرم الحرام
کے عرس پاک
کے موقع پر
حاضر ہوئے
سرکار نے فرمایا
کہ 10محرم کی
رات شبینہ
کی محفل میں
حاضر رہیں
ہم تھوڑی دیر
کے بعد اپنی
کمزوری کے
باعث جا کر
سو گئے ۔صبح
سویرے جناب
کے ایک خلیفہ
صاحب نے مجھے
اور ملک صاحب
کو جگا یا کہ
شبینہ کے بعد
مخصوص دعا
ہونے والی
ہے جناب آپ
کو یاد فرما
رہے ہیں ہم
جلدی جلدی
آگئے اور وضو
کے کر مسجد
میں چلے گئے
دیکھا تو جناب
تشریف فرما
تھے۔
وہ لمحات آج
بھی مجھے یاد
ہیں ایک عجیب
مہک اس وقت
پھیلی ہوئی
تھی۔ جناب
اپنے مخصوص
لہجے اور مخصوص
انداز میں
دعا فرماتے
تھے۔ اپنی
مخصوص میٹھی
میٹھی زبان
میں اللہ پاک
سے گفتگو کے
انداز میں
دعا فرماتے۔
مثلاً ایک
دفعہ فرمایا
کہ اے اللہ
یہ تیرے ہی
بندے ہیں دور
دور سے آئے
ہیں ان کی جھولیاں
بھر دے بوقتِ
دُعا ایک عجیب
حال میںجناب
ہوتے۔ اپنے
مریدوں کو
اللہ کی بارگاہ
سے جھولیاں
بھر بھر کے
عطا فرماتے
۔میری دانست
میں عرس پاک
کی جان وہ گھڑی
ہی ہوتی تھی۔
جناب نے کمال
شفقت فرمائی
اور اپنی خلافت
سے نوازکر
بیعت کرنے
اور مخلوق
خدا کی خدمت
پر مامور کر
دیا۔ میری
ساری زندگی
میں وہ انقلاب
آچکا تھا کہ
کبھی زندگی
میں سوچا بھی
نہ تھا ۔یہ
دن بھی آئیں
گے سوچا نہ
تھا کبھی یہ
سب سرکار کی
محبتیں تھیں
۔بڑی گیارھویں
شریف پر بھی
آنے کا خصوصی
حکم تھا دوران
سفر کئی مشکل
مرحلے بھی
آئے مگر جناب
کی نگا ہ سے
مشکلیں خود
بخود آسان
ہو تی چلی گئیں
پیر صاحب ہمارے
صرف پیر ہی
تھے بلکہ شفیق
ترین باپ بھی
تھے اور محسن
بھی تھے ۔ ہر
دکھ درد میں
اپنی قربت
کا اور دکھ
بانٹنے کا
احساس دلایا
ہر مشکل سے
اپنی نظر کرم
سے نکالا ۔جناب
کی بالا شریف
ہمارے گھر
آمدہماری قسمت
کا ستارہ اس
دن عروج پر
تھا جس دن سرکار
نے بالا شریف
میر ے غریب
خانے پر قدم
پا ک رکھا۔
میرے ایک عزیز
ملک اللہ بخش
نمبر دار نے
محبت کا اظہار
کرتے ہوئے
گاؤں خود لے
جانے کا پروگرام
بنایا ۔ پروگرام
کے مطابق دوپہر
کو نمبر دار
صاحب گاڑی
لے کر مخدوم
پور شریف پہنچے
پیر صاحب تیار
بیٹھے تھے
۔جناب اپنے
ایک خادم خاص
غلام ربانی
صاحب کو ساتھ
لے کر رات 9 بجے
بالا شریف
پہنچ گئے یہاں
پر جناب کا
رات کا قیام
میں زندگی
بھر نہیں بھول
سکتا ۔ سرکار
کے اسوہ مبارکہ
اور آپ کے ایمان
افروز کلمات
نے ایک نیا
عزم اور ولولہ
عطا فرمایا۔
بیان سے پہلے
جواب مرحمت
فرما دیا
جب صبح ہوئی
جناب مسند
پر تشریف فرما
ہوئے تو میرے
چچا جان( جو
کہ میرے سسر
بھی تھے) اچھے
خاصے عالم
دین تھے جناب
سے ملے اور
وہ فرماتے
ہیں کہ میرے
ذہن میں ایک
سوال تھا سرکار
نے باتوں باتوں
میں اس کا سوال
کا مکمل جواب
اور حل مرحمت
فرما دیا ۔
میرے چچا اس
بات پر بہت
ہی حیران ہوئے۔لنگر
والاروانگی
! ہم براستہ
چشمہ جہلم
لنک نہر روانہ
ہوئے راستے
میں پیر صاحب
کے بہت سے کمالات
دیکھنے میں
آئے ۔ راستے
میں ایک قصبہ
روڑہ نامی
آتا ہے جب اس
کے قریب پہنچے
تو کار کا مین
بیلٹ ٹو ٹ گیا
۔ایک جھاڑی
کے سایہ میں
ہم سرکار کے
ساتھ کھڑے
ہو گئے اس جھاڑی
کے اردگرد
جناب نے خالی
جگہ پر دو تین
چکر لگائے
اس وقت تو جناب
کی بات کی سمجھ
نہ آئی مگر
کچھ عرصہ کے
بعد وہاں سے
گزرے تو جس
جگہ جناب نے
چکر لگائے
تھے وہاں عالی
شان چھوٹی
سی مسجد تعمیر
ہو چکی تھی
۔ یہ میرے خاکی
سرکار کی ایک
ادنیٰ کرامت
تھی ۔ اب بھی
جب وہاں سے
گزر ہوتا ہے
تو مسجدکو
دیکھ کر جناب
کی اس وقت کی
مخصوص ادا
دِ ل کو معطر
کر دیتی ہے۔
جناب کی پیار
بھری سنگتیں
یاد آجاتی
ہیں اور بے
اختیار آنکھوں
سے جدائی کے
آنسو جاری
ہو جاتے ہیں۔جب
لنگر والا
پہنچے تو ملک
محمد حیات
ٹوانہ اور
ان کے تینوں
بیٹے چشم براہ
تھے ملک صاحب
پر پیر صاحب
کی خصوصی نظر
تھی ۔ وہاں
عجیب سماں
دیکھنے میں
آیا ۔محب اور
محبوب کی ملاقات
نے ایمان افروز
کیفیات دل
و دماغ پر رقم
کر دیں۔ سرکار
کے کمالات
و کرامات ساری
زندگی بھی
بیان ہوں تو
ختم نہیں ہوتے
فقیر کی زندگی
کا ایک ایک
لمحہ حکمت
و کرامت سے
خالی نہیں
ہوتا۔ قلندر
بھلا کب کسی
کی سمجھ میں
آتا ہے ۔ جتنا
قلندر چاہتا
ہے اتنی کسی
کو سمجھ دے
دیتا ہے اور
سمجھ اس مرید
کے حسب حال
ہوتی ہے۔ قلندر
خود کیا ہوتا
ہے خدا ہی بہتر
جانتا ہے اس
لیے ہم لوگ
سرکار کا کیا
تذکرہ کر سکتے
ہیں سرکار
کے صاحبزادگان
قلندر سید
محمود الحسن
شاہ خاکی اور
حسین شاہ سرکار
کی موجود گی
میں جناب کی
محفل کا رنگ
ایک الگ طرز
کا ہوتا تھا
۔
ڈاکٹر صاحب
کے مسئلے کا
حل
میرے ایک دوست
ڈاکٹر محمد
یعقوب جھمٹ
جو کہ جھمٹ
شمالی ضلع
بھکر کے رہائشی
ہیں ان کے ساتھ
ایک مسئلہ
تھا وہ میرے
پاس آتے اور
مسئلے کے حل
کے لیے اصرار
کرتے آخر کار
میں انہیں
جناب کی خدمت
میں لے کر حاضر
ہوا۔ ڈاکٹر
صاحب کے بیان
کرنے سے بھی
پہلے ڈاکٹر
صاحب کو ایک
وظیفہ عطا
فرمایا جس
کے شروع کرتے
ہی ڈاکٹر صاحب
کا مسئلہ خود
بخود حل ہوگیا
۔ ڈاکٹر صاحب
جناب کے گرویدہ
ہو کے رہ گئے۔
آج تک جناب
کے گن گاتے
ہیں اور بڑے
عقیدت والے
مرید ہیں ۔
جتنا ظرف اتنا
فیض!
سرکار کا یہ
کمال بھی تھا
کہ ہر مرید
اور طالب کو
اس کی استطاعت
اور مزاج کے
مطابق فیض
سے نواز تے
تھے یہ خاصان
کا وصف ہوتا
ہے کہ جو جس
قابل ہو جتنااسکا
ظرف ہو اتنا
اسکوعطاکر
دیا جائے ۔
سرکار کے دربار
سے آج تک کوئی
خالی ہاتھ
نہیں لوٹا
سرکار کے آستانے
پر حاضر ہوتے
ہی جناب کا
فیض اپنی طرف
کھینچ لیتا
تھا اور انسان
کو ان ہواؤں
میں اپنائیت
نصیب ہوتی
اور محسو س
ہوتی ہے۔
ایک دفعہ میرا
بیٹا عزیزی
محمود الحسن
بیمار ہوگیا
دورے پڑتے
تھے بے ہوش
ہو جاتا تھا۔
پیر صاحب کے
پاس رہا سرکار
نے کمال شفقت
فرمائی ۔ مجھے
گلے لگایا
بچے کو گلے
لگایا اور
فرمایا کہ
اس کے بعد بیمار
نہیں ہوگا
وہی ہوا کہ
اس بیماری
کا نام ونشان
باقی نہیں
رہا ۔
آخری وقت جب
سرکار مجھ
سے گلے ملے
تو اندرہی
اندر خطرے
کی گھنٹی بجنی
شروع ہوگئی
وہی ہوا واپس
گئے ایک ہفتہ
بھی نہیں گزرا
تھا کہ سرکار
کے وصالِ پاک
کی خبر آگئی
۔دربار شریف
حاضر ہوئے
ایک عجیب سماں
تھا ۔ ہر آنکھ
اشک بار تھی
جیسے اپنے
آپ کو یتیم
تصور کر رہے
ہوں آہیں تھیں
سسکیاں تھیں
جو تھمنے کا
نام نہیں لیتی
تھیں بحر حال
یہ امر ربی
تھی جو کہ ہو
کے رہتا ہے
۔آج بھی میرا
عقیدہ اور
ایمان ہے بلکہ
مشاہدہ ہے
کہ جب بھی کوئی
کٹھن مقام
پیش آتا ہے
تو پیر صاحب
میرے ہم رکاب
ہوتے ہیں انشاء
اللہ تاقیامت
قلندر پاک
کا سایہ ہمارے
سروں پر قائم
و دائم رکھے
(آمین )۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خلیفہ نورالدین
چشتی قادری
مخدومی
بعض لوگوں
کا پیر صاحب
سے ملنا انتہائی
قابلِ رشک
ہے ان کے واقعات
سن کر سامع
ورتہ حیرت
میں ڈوب جاتاہے
کہ کتنے ہی
خوش قسمت لوگ
ہیں۔پیر صاحبنے
پہلی ہی نظر
میں غیریت
مٹا دی اور
اپنائیت عطا
فرما دی۔ ہمیشہ
کے لیے رفاقت
وسنگت اور
دوستی ووفاداری
کا وعدہ کر
لیا ۔ویسے
تو ہر مرید
اپنے مرشد
کی نگاہ میں
ہوتا ہے اور
جناب کی اپنائیت
سے کوئی بھی
مرید خالی
نہیں مگر اپنی
زبان پاک سے
اپنائیت کا
وعدہ فرمانا
یہ ایک ایسی
کیفیت ہے کہ
لکھنے کو الفاظ
نہیںاورضروری
نہیں کہ ہرکیفیت
نوک قلم پر
آسکے ۔اُنہی
خوش قسمت ترین
لوگوں میں
چشتی صاحب
بھی ہیں ۔
جناب چشتی
صاحب فرماتے
ہیں کہ یہ 1979ربیع
الاول کی 9تاریخ
کی بات ہے کہ
مجھے جناب
فتح محمد صاحب
نے کہا کہ جناب
خاکی شاہ سرکار
آپ کو شدت سے
یاد فرما رہے
ہیں۔ پہلے
بھی فتح محمد
صاحب کے وسیلے
سے مجھے کئی
بار دعوت ملی
لیکن ناچیز
حاضر نہ ہوسکا۔
اس دن حاضری
کا فیصلہ کیااور
دل میں کہا
کہ دیر بہر
حال مناسب
نہیں ہے۔ فتح
محمد کے ساتھ
قدم بوسی کے
لیے حاضر ہوا
۔سرکا ر کی
قدم بوسی کی۔
نظر سے نظر
ملی سرکار
نے انتہائی
گہری نظر سے
دیکھا فرمایا
سننے میں اور
دیکھنے میں
اور لگ رہے
ہو ۔سرکار
نے محبت کی
انتہا کردی
ور فرمایا
چشتی صاحب
جومانگنا ہے
مانگو حا ضرہے۔
نا چیز نے عرض
کی کہ سرکار
حاضری کا حکم
تھا سو ہو گیا
آگے آپ کی مرضی
جو بھی عطا
فرما دیں ۔سرکارنے
فرمایا کہ
12ربیع الاول
شریف کو ضرور
آنا اور ساتھ
ہی فتح محمد
صاحب کو حکم
دیا کہ چشتی
صاحب کو ضرور
لانا ۔ناچیز
نے عرض کی کہ
سرکار ضرور
آؤں گا ۔12ربیع
الاول کو جناب
کی خدمت میں
حاضر ہوا۔سرکار
نے کھانا منگوایا
کھانا کھانے
کے بعد سرکار
نے قریب آنے
کا حکم فرمایا
دستار بندی
کی اور ساتھ
ہی فرمایا
کہ آج میں سرخرو
ہوگیاہوں کافی
انتظار تھا
جو حکم تھا
وہ پورا ہوگیا۔مزید
فرمایا کہ
جمعہ کو دربار
آنا۔ میں جمعہ
کو دربار حاضرِ
خدمت ہوا۔
آپ نے مجھے
فرمایا کہ
چشتی صاحب
آپ میرے دوست
ہو بلکہ گھر
کے فرد کی مانند
ہواور انشااللہ
ہم آپ سے وفا
کریں گیں۔پیر
صاحبنے بہت
ہی احسان فرمائے
حتی کہ جو وظائف
آپ خود پڑھتے
تھے وہ بھی
مجھے عطا فرمائے
اور کہا کہ
جو میں پڑہتا
ہوں اس میں
تمہارا بھی
حصہ ہے۔
دل کا حال پیر
صاحب پر آشکار
ہونا !
چشتی صاحب
فرماتے ہیںکہ
حضرت پیر مہدی
حسین شاہ صاحب
نے ایک دفعہ
دربار شریف
میں میرے ساتھ
حاضری دی توپیر
صاحب نے انھیں
ایک وظیفہ
مجھ سے پوشیدہ
کر کے عطا فرمایا
دیا ۔میں نے
دل میں گھر
آکر سوچا کہ
سرکار نے مجھے
گہرا دوست
اور گھر کا
فرد بھی کہا
ہے اور ساتھ
ہی مجھ سے چھپا
کر وظیفہ جناب
مہدی شاہ صاحب
کو دیا ہے ۔اگر
مجھ سے ایسی
دوستی ہے تو
مجھ سے پردہ
کیوں کیا ہے
ایک انسانی
اور بشری تقاضوں
کے عین مطابق
خیال آیا ۔دوسرے
دن جناب نے
مجھے پیغام
بھیجا شام
کو سرکار کی
خدمت میں حاضر
ہوا تو جناب
نے فرمایا
کہ چھوٹی سی
کاپی ہے آپ
کے پاس میں
نے عرض کی حضور
ہے۔ حکم ہوا
ادھر دو اس
پر وظیفہ لکھ
کر دیا اور
فرمایا کہ
کل شاہ صاحب
کو لکھ کر دیا
تھا تم سے پردہ
نہ ہوگا جو
انشاء اﷲ سینے
میں ہے تمہارے
لیے ہے آہستہ
آہستہ سب مل
جائے گا ۔
حضور پیر صاحب
کے حج کی روداد
حکیم معراج
الحسن صاحب
جو کہ بنیادی
طورپر ہندوستان
کے رہنے والے
ہیں آپ مکہ
مکرمہ میں
قیام پذیر
ہیں۔ اب انھوں
نے اپنے ذاتی
مکان مکہ مکرمہ
میں بنائے
ہوئے ہیں اولیاء
سے بڑی محبت
کرنے والے
ہیں۔ ہر دوماہ
بعد مدینہ
شریف بھی حاضری
کے لیے ضرور
تشریف لے جاتے
ہیں۔مدینہ
شریف میں حضرت
غلام رسول
(بابا بلیاں
والی سرکار)
کے نام سے مشہور
ہیں ۔ ان کی
ڈیوٹی روحانی
طور پر روضہ
اقدس پر لگی
ہوئی تھی ۔اُن
سے بھی جناب
حکیم معراج
الحسن کی شناسائی
تھی۔ایک دفعہ
حکیم صاحب
مدینہ پاک
تشریف لے گئے
تو وہاں بابا
بلیاں والی
سرکار سے ملاقات
ہوگئی۔ حکیم
صاحب کا کوئی
کام تھا جو
کہ نہیں ہو
رہا تھا ۔ بابا
بلیاں والی
سرکار نے حکیم
صاحب سے کہا
کہ تم پاکستان
جاؤ۔
وہاں ضلع جہلم
کی تحصیل چکوال
ہے وہاں ساتھ
ہی ایک قصبہ
مرید ہے جہاں
مخدوم پور
شریف ہے جس
میں جناب سید
رسول شاہ خاکی
انوار کی شمع
فروزاں کیے
ہوئے ہیں اُن
سے ملو تمہارا
کا م ہو جائے
گا۔ میری طرف
سے 10ریال بھی
لے جاؤ جناب
کو پیش کر دینا
اور ساتھ ہی
جناب کو میری
طرف سے عمرہ
کی دعوت بھی
دینا۔حکیم
صاحب عاشق
آدمی تھے فوراً
حکم کی تعمیل
کی پاکستان
آئے جناب سے
ملے ساری روداد
جناب سے پیش
کی۔ جناب نے
فرمایا حکیم
صاحب آپ کو
بڑی زحمت کرنا
پڑی۔ حکیم
صاحب نے 10ریال
بھی پیش کئے
اور سات ہی
عمرہ کی دعوت
دی جو کہ سرکار
نے قبول فرمالی۔حکیم
صاحب کچھ دن
جناب پیر صاحب
کے پاس رہے
۔ پھر مکہ شریف
واپس چلے گئے
وہاں جا کر
سرکار کے لیے
عمرہ کا ویزہ
بھیجا جناب
اسی ویزے پر
حرمین شریفین
تشریف لے گئے۔
وہاں سے حکیم
صاحب کے ساتھ
مدینہ پاک
تشریف لے گئے
اورروضہ اقدس
پر حاضری دی۔
بابا بلیاں
والی سرکار
سے ملاقات
ہوئی جو کہ
جناب کے منتظر
تھے کافی عرصہ
جناب نے وہاں
قیام فرمایا۔جناب
خاکی شاہ سرکار
نے حضور بابا
بلیاں والی
سرکار کو ایک
مخصوص دعا
کے لیے کہا
بڑی تکرار
کے بعد انہوں
نے دعا فرمائی
جو کہ قبول
ہوئی۔ اور
حضور کا خاص
کرم ہوا پھر
جناب واپس
پاکستان تشریف
لے آئے۔ حکیم
صاحب کے ساتھ
اُن کے دوست
عبدالرحمن
عاشور صاحب
بھی تھے جو
کہ درویش صفت
انسان تھے۔
انہوں نے جناب
خاکی شاہ سرکار
کو دوبارہ
حج و عمرہ کی
دعوت دی جو
کہ سرکار نے
قبول فرمائی۔
سرکار نے فرمایا
کہ ہم بمع اہل
و عیال آنا
چاہتے ہیں
حکیم صاحب
نے تین ویزے
بھیجے ایک
جناب کے لیے
دوسرا امی
حضور کے لیے
اور تیسرا
ناچیز(نور
الدین چشتی
) کے لیے۔
چشتی صاحب
فرماتے ہیں
کہ میری خوش
قسمتی کی انتہا
تھی کہ سرکار
نے فرمایا
چشتی تم ویزے
لگوالو باقی
بندوبست وہاں
جا کر کرلیں
گے ناچیز کی
قسمت بر آئی
سارا بندوبست
ہو گیا۔ خرچہ
میر ی سرکار
جناب خاکی
سرکار نے برداشت
کیا۔
سفر نامہ:
4اپریل 1989 کو ویزے
مل گئے 11اپریل
کی سیٹیں بک
کروائیں 11تاریخ
کو صبح 6بجے
مخدوم پور
شریف سے دیا
رحبیب کے لیے
روانہ ہو گئے۔
12:30 بجے اسلام
آباد ائرپورٹ
سے جہاز نے
ٹیک آف کیا۔
خیرو عافیت
سے جدہ پہنچے
ضروری کاغذی
کاروائی سے
فارغ ہونے
کے بعد ائرپورٹ
سے باہر نکلے۔
محمد یوسف
صاحب جدہ میں
رہتے تھے وہ
ہمیں لینے
آئے ہوئے تھے۔
رمضان شریف
کا مہینہ تھا۔ہم
افطاری کے
بعد مکہ مکرمہ
کے لیے روانہ
ہو گئے۔ کعبۃ
اللہ کا طوائف
کیا وہاں سے
فراغت کے بعد12بجے
رات حکیم معراج
الحسن صاحب
کے گھر پہنچ
گئے جہاں حکیم
صاحب پہلے
ہی منتظر تھے۔
محمد یوسف
صاحب وہاں
سے اجازت لے
کر واپس جدہ
روانہ ہو گئے۔ہم
نے تھوڑی دیر
بعد روزہ رکھا۔
نماز سے فارغ
ہونے کے بعد
آرام کیا جب
بیدار ہوئے
تو سرکار نے
مجھ سے پوچھا
کہ رات خواب
میں کیا دیکھا
ہے۔ میں نے
کہا کہ حضور
تین شخص محو
گفتگو تھے
سرکار نے فرمایا
کہ جنوںکے
بادشاہ تھے۔
13اپریل کو شیخ
عبداللہ (سرکار
کے خادم)جو
اُس وقت مدینہ
شریف میں کام
کے سلسلے میں
مقیم تھے۔
ہمیں ملنے
کے لیے تشریف
لائے۔ امی
صاحبہ ان کے
ساتھ 16اپریل
کو مدینہ شریف
کے لیے روانہ
ہو گئیں۔ ہم
نے رمضان کا
آخری عشرہ
حکیم صاحب
کے گھر ہی گزارہ۔ناچیز
کا ویزہ بھی
لگوانا تھامیرا
ویزہ نہیں
لگ رہا تھا
مشکل پیش آ
رہی تھی آخر
کارحکیم صاحب
نے شاہ فہد
کے بھائی بندربن
عبدالعزیز
سے بات کی وہ
رمضان شریف
میں مکہ شریف
میں قیام کرتے
تھے ۔ انہوں
نے پاسپورٹ
منگواکر ورقہ
بنوا دیا جو
کہ مدینہ شریف
میں کام آیا۔
حکیم صاحب
نے فرمایا
کہ اگر چشتی
صاحب ایک سال
بھی یہاں رہے
تو انہیں کوئی
نہیں پوچھے
گا۔ کیونکہ
اللہ کی قدرت
ورقہ پر تاریخ
نہیں ڈالی
گئی تھی۔اس
دوران جناب
کچھ علیل ہو
گئے تین دن
جنا ب علیل
رہے پھر صحت
یاب ہو گئے۔
تین دن بعد
جناب ایک دن
حرم پاک گئے۔
باب عبدالعزیز
کی طرف سے حرم
پاک میں داخل
ہوئے۔ سیڑھیوں
کے قریب ایک
بزرگ بیٹھے
ہوئے تھے انہوں
نے جناب کی
قدم بوسی کی
اور بڑے خوش
ہوئے۔ جناب
نے اُن سے کچھ
دیر گفتگو
فرمائی وہ
ہندوستان کے
رہنے والے
تھے۔ عمرہ
کے لیے مکہ
شریف آئے ہوئے
تھے ہم آگے
چلے گئے طواف
کعبہ کیا پھر
واپس آگئے۔
21/4/89 کو محمد یوسف
صاحب جدہ سے
دوبارہ آئے
عمرہ کے لیے
گئے مسجد میں
نوافل پڑھے
دعائیں مانگی
کعبۃ اللہ
کا طواف کیا
صفہ مروہ کی
سعی کی پیر
صاحب کو ویل
چیئر پر سعی
کروائی۔ جناب
نے سب مریدوں
اور عقیدت
مندوں کے لیے
بڑی دعائیں
کیں وہاں سے
جبل رحمت گئے
وہ پہاڑ ہے
جہاں سیدنا
آدم علیہ سلام
کی دعا قبول
ہوئی مقام
عرفات گئے
اور پھر واپس
مکہ مکرمہ
آگئے۔ حضرت
خدیجۃالکبری
کے مزار پاک
کی زیارت کی
وہاں سے ایک
فرلانگ دورایک
مسجد ہے وہاں
نماز جمعہ
اداکی اور
پھر حکیم صاحب
کے گھر واپس
آگئے۔عبدالرحمن
عاشور صاحب
اکثر رات کو
آتے خاکی شاہ
سرکار سے گفتگو
فرماتے عجیب
عجیب باتیں
کرتے تھے۔
ناچیز کو جناب
نے منع فرمایا
تھا کہ حکیم
صاحب کی باتوں
میں حصہ نہیں
لینا ناچیز
خاموشی سے
سنتا رہتا
تھا۔
28/6/89کو یوسف صاحب
بھی ساتھ تھے۔
مدینہ شریف
کے لیے رخت
سفر باندھا
سفر نہایت
ہی خوشگوار
رہا۔ سحری
کے وقت ہم مدینہ
شریف پہنچے
جہاں ہم محمد
اقبال صاحب
(جناب کے ایک
مرید ہیں اب
بھی مدینہ
عالیہ میں
قیا م رکھتے
ہیں)کے گھر
میں ٹھہرے۔
اگلے دن نماز
ظہر کے وقت
تاجدارِ کائنات
رحمت عالم
سراپا جو دوسخا،امام
الانبیاء ،
راحت العاشقین،
مراد المشتاقین،
کے مقدس نعلین
پاک کی خیرات
کے لیے حضور
کے قدمین شریفین
میں حاضری
دی۔ سلام عرض
کئے دعائیں
مانگیںجنت
البقیع گئے
گیٹ بند تھا
باہر کھڑے
ہو کر دعائیں
کیں پھر واپس
اقبال صاحب
کے گھر آگئے۔
اگلے دن اقبال
صاحب کا گھردور
ہونے کی وجہ
سے مکان کرائے
پر لیا۔جناب
دور سے حاضری
کے لیے دقت
محسوس کرتے
تھے۔ ہمیں
عید الفطر
وہاں ہی حضور
کے شہر اقدس
میں آئی عید
پر یوسف صاحب
پھر تشریف
لے آئے پھر
ہم مقام امیر
حمزہ پر گئے
مسجد قبلتین
اور جنگِ خندق
کے مقامات
کی بھی زیارت
کی وہاں نوافل
ادا کئے۔جس
وقت تاجدارِ
کائنات نے
مکہ شریف سے
مدینہ شریف
ہجرت فرمائی
تھی تو مدینہ
شریف میں داخل
ہونے سے پہلے
جہاں تھوڑی
دیر آرام فرمایا
تھا وہاں بھی
جناب کے ساتھ
نوافل پڑھے
اُسی مبارک
و مقدس جگہ
کو چوما مسجد
قباء میں نماز
مغرب پڑھی
اور واپس آگئے۔مدینہ
شریف میں ناچیز
کا معمول یہ
رہا کہ زیادہ
نمازیں مسجد
نبوی میںہی
ادا کرتے اور
صلوٰۃ وسلام
پڑھتا رہتا
تھا۔ جناب
خاکی سرکار
دوسرے یا تیسرے
دن زیارت کے
لیے تشریف
لے جاتے تھے۔
باقی وقت گھر
پر ہی قیام
فرماتے تھے۔
جناب اپنے
مریدین عقیدت
مندوں کے لیے
ہمیشہ خصوصی
دعائیں مانگتے
تھے۔18/5/89 کو حکیم
صاحب نے پاسپورٹ
مکہ شریف سے
منگوائے اور
ساتھ کہا کہ
جناب خود بھی
مکہ تشریف
لے آئیں تاکہ
ویزہ لگ جائے
پھر مدینہ
شریف چلے جانا
۔
19/5/89 کو جمعہ مسجد
نبوی میں ادا
کیا اور مکہ
شریف کے لیے
روانہ ہو گئے
دوسرے ہی دن
حکیم صاحب
کا لڑکا پاسپورٹ
لے کر جدہ روانہ
ہو گیا تاکہ
ویزہ لگ جائے
ویزہ 8/6/89 کو لگ
گیا۔حضرت اور
ناچیز نے 30/5 کو
امیر کعبہ
کی دعوت میں
شرکت کی۔ حکیم
صاحب بھی ہمراہ
تھے رات9بجے
ہم امیر کعبہ
کے محل میںگئے
اس نے ہمارا
استقبال کیا
کچھ تحائف
پیش کئے 3عدد
عطر اور کچھ
کتابیں پیش
کیں۔کچھ اور
بھی سرکار
کو پیش کرنا
چاہا سرکار
نے فرمایا
کہ مجھے میرا
اللہ کافی
ہے۔ رات ایک
بجے دعوت سے
فارغ ہو کر
ہم حکیم صاحب
کے گھر آ گئے۔ایک
دن حکیم صاحب
کے ساتھ گفتگو
فرماتے ہوئے
سرکار نے فرمایا
کہ مدینہ شریف
کے ہر گھر میں
جو گفتگو ہو
رہی وہ سننا
چاہتے ہو سنوادوںحکیم
صاحب چپ ہو
گئے۔8/6/89 کو ہم
یوسف صاحب
کے ساتھ مدینہ
شریف چلے گئے
پھر ہم 22دن سرکارمدینہ
کے قدموں میں
رہے خوب صلواۃ
وسلام پڑھے
اور نمازیں
مسجد نبوی
شریف میں ادا
کیں۔ روضئہ
پاک جی بھر
کے دیکھا اور
آنکھیں ٹھنڈی
کیں۔
واقعاتِ عرب
i۔جس وقت میںروضہِ
رسول کی زیارت
کے لئے یا نماز
کے لئے مسجد
نبو ی شریف
جاتا توپیر
صاحب فرماتے
کہ حرم پاک
میں ہلکے پیلے
رنگ کے کپڑے
پہنے ہوئے
کندھے پر جائے
نماز رکھے
ہوے ایک بزرگ
ہوتے ہیں ان
کی زیارت ضرور
کیا کرو ۔
ٰii ۔ایک دن پیر
صاحب نے فرمایا
کہ عصر کی نمازکے
بعد صلوۃ و
سلام پڑھ کر
باب البقیع
کی طرف روضہِ
رسول کے ستون
کے ساتھ ایک
بزرگ ختم شریف
پڑھتے ہوں
گے ان کے بایئں
جانب کھڑے
ہو جانا بولنا
نہیں ہے بس
ان کی دعا میں
شریک ہو جانا۔
چنانچہ میں
نے ایسا ہی
کیا۔ ان کے
ساتھ کچھ عربی
عقیدت مند
تھے انہوں
نے مصافحہ
کیا میں نے
بھی ان کے ساتھ
مصافحہ کرلیا۔
بزرگوں نے
دو دفعہ میری
طرف دیکھا
جیب سے کچھ
نکالا اور
مجھے دے دیا
واپس آ کر میں
نے پیر صاحب
کوبتایا۔پیر
صاحب نے فرمایا
کہ بہت اچھا
ہوا میں بھی
یہی چاہتا
تھا۔
iii ۔ ایک دن پیر
صاحب نے مجھے
بتایا کہ مسجد
قبا کے پاس
ایک عربی بزرگ
ہیں جوکہ حضور
کے روضہ پاک
پر حاضری دیتے
ہیںاور سرکار
مدینہ سے بات
چیت کرتے ہیں۔وہ
بزرگ روتے
ہوئے واپس
جاتے ہیں ۔ایک
دن جناب پیر
صاحب میرے
ساتھ تھے۔ان
سے بھی ملاقات
ہوئی میںتھوڑا
پیچھے تھا۔
مجھے اقبال
صاحب نے ان
سے کوئی وظیفہ
لینے کو کہاانہوں
نے آئت کریمہ
بتائی۔
v .iایک دن پیر
صاحب کے ساتھ
روضہ رسول
کے سامنے میں
بیٹھے تھے
کہ میری حالت
غیر ہو گئی
اور تین جھٹکے
لگے۔ پیر صاحب
نے فرمایا
کہ بہت ہی اچھا
ہوا۔ مدینہ
شریف میں کافی
پاکستانی پیر
صاحب سے دعائیں
کروانے آتے
تو پیر صاحب
ان کے لئے دعا
فرماتے اور
ساتھ فرماتے
کہ حضور کے
شہر میں رہتے
ہو خوب حاضری
دو اور فیض
حاصل کرو ۔
.v ایک دفعہ پیر
صاحب جنت البقیع
گئے آپکے پاوں
میں جوتے نہ
تھے۔ جنت البقیع
میں ننگے پاؤں
پھرنے سے آپ
کے مبارک قدموں
پر چھالے پڑ
گئے جس کی وجہ
سے چلنا پھرنا
مشکل ہو گیااور
کافی دن حرم
پاک نا جا سکے۔
کئی دنوں کے
بعد چھالے
ٹھیک ہوئے
تو پھر حرم
پاک جانا شروع
کر دیا۔ 22 دن
مدینہ شریف
میں قیام کے
بعد ہم جدہ
میں جناب یوسف
صاحب کے گھر
گئے اور وہاں
چھ دن قیام
کیا۔ مکہ شریف
سے حکیم صاحب
کا لڑکا اپنی
گاڑی لے کر
آیا اور ہمیں
وہاں سے مکہ
شریف لے گیا۔
امی حضور بھی
یوسف صاحب
کے ساتھ مکہ
تشریف لے آیئں۔
یہاں ہم نے
دو دن حکیم
صاحب کے گھر
قیام کیا۔
پھر عبدالرحمن
عاشور صاحب
ہمیں اپنے
گھر لے گئے۔
خدمت گار مقرر
کئے اور ہر
طرح کے بہترین
کھانے بھی
پیش کئے۔
حج مبارک سے
فراغت کے بعد
واپسی کا ارادہ
کیا تو منظر
بھی قابل دید
تھا۔عبدالرحمن
عاشور صاحب
کے آنسو نہیں
رُکتے تھے۔
حضور پیر صاحب
کی جدائی ان
سے برداشت
نہیں ہو رہی
تھی لیکن مجبوری
تھی سرکار
نے واپس تو
آنا ہی تھا
با لآخر رخصتی
ہوئی۔ یوسف
صاحب کیساتھ
مل کر جدہ آئے
وہاں سے جہاز
پر بیٹھے رات
بارہ بجے اسلام
آباد ائر پورٹ
پر پہنچے پیر
صاحب کے صاحبزدگان
پیر قلندر
محمود الحسن
شاہ صاحب اور
حسین شاہ صاحب
اور میرے گھر
والے ائر پورٹ
پر آئے ہوئے
تھے اپنے مرشد
کے صدقے سرکارِدوعالم
کے بے انتہا
کرم کو اپنے
دامن میں سمیٹ
کر ہم واپس
مخدوم پور
شریف پہنچ
گئے۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>